امریکی ریاست ورجینیا کے دو دینی اداروں دارالہدیٰ اور مدینۃ العلوم میں منعقدہ سلسلۂ محاضرات کا ایک حصہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ اس نے زندگی میں ایک بار پھر ملاقات کا بلکہ چند ملاقاتوں اور دین کی کچھ باتیں کہنے سننے کا موقع عنایت فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس حاضری کو اور ہمارے مل بیٹھنے کو قبول فرمائے اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر دین حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازے۔ کئی برسوں سے یہ معمول ہے کہ واشنگٹن (ڈی سی، امریکہ) حاضری کے موقع پر دو چار دن کے لیے آپ کے اس دینی ادارے ’’دارالہدی‘‘ میں حاضری کا موقع ملتا ہے اور کسی نہ کسی دینی عنوان پر گفتگو ہوتی ہے۔ اس سال بھی چند روز آپ کے پاس قیام ہوگا۔ تین دن تو مغرب کی نماز کے بعد گفتگو ہوگی جبکہ جمعہ والے دن جمعہ کا بیان ہوگا۔ اور اگر موقع ملا تو ہفتے والے دن صبح نماز فجر کے بعد چند باتیں کہہ کے آپ سے رخصت ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ العزیز۔
قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کا آپس میں جوڑ اور تعلق کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے کلام کو ہم قرآن کریم کہتے ہیں، جبکہ حدیث نبوی جناب نبی کریمؐ کا کلام ہے۔ جو بات اللہ تعالیٰ کی طرف وحی کے طور پر منسوب ہو کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا اور اپنے کلام میں یہ کہا، وہ قرآن کریم ہے۔ اور جو بات نبی کریمؐ کی طرف منسوب ہو کہ حضورؐ نے یوں فرمایا، فلاں عمل کیا، یا کسی دوسرے کے عمل کی تصدیق کی، وہ حدیث ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کے دو درجے ہیں: ایک ہے قرآن کریم اور دوسرا ہے حدیثِ قدسی۔ قرآن کریم تو کتاب اللہ ہے اور اس کے اندر جو آیات اور سورتیں جو کچھ بھی بیان ہے، وہ قرآن کہلاتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ سے منسوب وہ باتیں جو قرآن کریم سے ہٹ کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی ہیں، روایت کی ہیں، وہ احادیثِ قدسیہ کہلاتی ہیں۔ یعنی ایسی باتیں جو روایت تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہیں لیکن بات ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی۔ احادیثِ قدسیہ بھی سینکڑوں ہیں۔
قرآن کریم، جو وحی الہی کا تسلسل ہے، ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین‘‘ سے لے کر ’’من الجنۃ والناس‘‘ تک ہمارے پاس ایک کتاب کی شکل میں موجود ہے۔ اور حدیث نبویؐ یعنی جناب نبی کریمؐ کے ارشادات مقدسہ اور اعمال مبارکہ کا ذخیرہ بھی ہمارے پاس موجود و محفوظ ہے۔ ان دونوں یعنی قرآن کریم اور احادیث مبارک کو صحابہ کرامؓ نے روایت کر کے آگے امت تک پہنچایا۔ چنانچہ آج میری گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کا آپس میں تعلق اور جوڑ کیا ہے۔ اس پر میں دو تین نشستوں میں ان شاء اللہ العزیز بات کروں گا۔
قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی کوئی بات سمجھنے میں کوئی الجھن پیش آتی تو صحابہ کرامؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے، اس لیے کہ حضورؐ قرآن مجید کے شارح ہیں۔ حضورؐ کے ارشادات اور حضورؐ کی سنت قرآن کریم کی تشریح ہے۔ جبکہ تابعین، خیر القرون یعنی قرون اولی کے لوگ صحابہ کرامؓ سے رجوع کرتے تھے۔ اس لیے کہ ان کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا اور وہ اس کے پس منظر کو اور موقع محل کو زیادہ بہتر جانتے تھے اور زیادہ بہتر تشریح کر سکتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو الجھن پیش آتی تو حضورؐ سے سوال کیا جاتا کہ یا رسول اللہ! اس آیت کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔ حضورؐ اس کی وضاحت فرما دیتے۔ جبکہ تابعین میں سے اگر کسی کو قرآن کریم کے متعلق کوئی بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش آتی تو وہ کسی صحابیؓ سے رجوع کرتے کہ جناب یہ بات سمجھ میں نہیں آئی، آپ چونکہ وحی کے گواہ ہیں اور موقع محل سے واقف ہیں اس لیے آپ بتائیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس پر حدیث کی کتابوں میں بہت سے واقعات ہیں۔
ہمارا ایمان ہے کہ اس وقت ہمارے سامنے جو قرآن کریم مصحف کی صورت میں موجود ہے اور جسے دنیا بھر کے مسلمان پڑھتے ہیں، یہی اصلی قرآن کریم ہے اور اسی پر جناب نبی اکرمؐ اپنی امت کو چھوڑ کر گئے ہیں۔ یہ قرآن کریم اس طرح کتابی شکل میں جناب نبی کریمؐ کی حیات مبارکہ میں موجود نہیں تھا بلکہ رسول اکرمؐ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے دور خلافت میں حضرت عمرؓ کی تجویز و تحریک پر حضرت زید بن ثابتؓ نے قرآن کریم کو موجودہ کتابی صورت میں تحریر کیا۔ نبی کریمؐ کے دور میں قرآن کریم کو یاد کرنے کا ذوق زیادہ تھا اور سینکڑوں حفاظ صحابہ کرامؓ موجود تھے، اس لیے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ویسے بھی نبی اکرمؐ کے وصال تک وحی جاری تھی اور قرآن کریم کی مکمل صورت نے حضور علیہ السلام کے وصال کے بعد ہی سامنے آنا تھا۔
یہاں حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ کے بیان کردہ ایک نکتہ کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے آیت کریمہ ’’بل ھو آیات بینات فی صدور الذین اوتوا العلم‘‘ کے ضمن میں لکھا ہے کہ قرآن کریم کی اصل جگہ سینہ ہے اور کتابت امرِ زائد ہے۔ یعنی کتابت قرآن کریم کی ضروریات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہماری کمزوریوں سے ہے کہ جو شخص قرآن کریم یاد نہ کر سکتا ہو وہ اپنی سہولت کے لیے لکھا ہوا قرآن دیکھ کر پڑھ لے۔
پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا متن یعنی الفاظ، آیات، سورتیں اور ترتیب یہ سب کچھ ہمیں حدیث کے ذریعے سے ملتا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ بھی حدیث کے ذریعے معلوم ہوئے اور آیتیں بھی حدیث کے ذریعے سے معلوم ہوئیں۔ آیتوں اور سورتوں کی ترتیب کیا ہے، یہ بات بھی حدیث کے ذریعے معلوم ہوئی۔ ان میں سے کوئی بات بھی معلوم کرنے کا ہمارے پاس ذریعہ ایک ہی ہے، جسے حدیث کہتے ہیں، اور کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہم میں سے ہر آدمی جانتا ہے کہ قرآن کریم کی پہلی وحی کونسی تھی۔
(جاری ہے)