(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ ترتیب نزولی نہیں ہے یعنی اس ترتیب پر قرآن کریم نازل نہیں ہوا۔ یہ ترتیب توقیفی ہے جو بعد میں بنی اور اسے بنانے والے حضورؐ ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے حضورؐ کی قائم کردہ ترتیب پر قرآن کریم آگے امت تک روایت کیا۔ اور صحابہؓ کا یہ روایت کرنا ہی دراصل حدیث کہلاتا ہے۔
قرآن کریم پہلی بار لکھا گیا جب جنگوں میں کافی تعداد میں حفاظ شہید ہوئے اور حضرت عمرؓ نے خطرہ محسوس کیا کہ قرآن کریم کے بارے میں کوئی مسئلہ نہ پیش آجائے۔ جبکہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جو تدوینِ ثانی ہوئی وہ حضرت حذیفہؓ کے خطرہ محسوس کرنے پر ہوئی۔ لوگ مختلف قراءتوں میں قرآن کریم پڑھتے تھے۔ اب بھی قاری حضرات مختلف قراءتوں میں پڑھتے ہیں۔ لفظ بعض اوقات ایک لغت میں ایک طرح بولا جاتا ہے جبکہ کسی دوسری لغت میں دوسری طرح بولا جاتا ہے۔ عربوں کو تو پتہ تھا کہ اُس لغت کا لفظ بھی ٹھیک ہے اور اِس لغت کا لفظ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن عجمیوں کے نزدیک دونوں لفظ مختلف ہوتے تھے۔ میں اس کی مثال اس طرح دیا کرتا ہوں کہ ہمارے علاقے میں پنجابی کا ایک لفظ بولا جاتا ہے ’’کیویں‘‘ جس کا مطلب ہے ’’کیسے‘‘۔ لیکن سیالکوٹ یا شکر گڑھ کے علاقوں میں ’’کِداں‘‘، جہلم کے علاقے میں ’’کنجوں‘‘، گجرات و کوٹلہ کے علاقوں میں ’’ککن‘‘ اور پنڈی میں ’’کیاں‘‘ کے لفظ بولے جاتے ہیں۔ ان سب لفظوں کا معنی ہے ’’کیسے‘‘۔ اب ہم پنجابیوں کو تو کوئی الجھن نہیں ہوتی۔ لیکن کسی دوسری زبان والے سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ بھئی یہ ایک نہیں بلکہ پانچ لفظ ہیں۔ حروف الگ ہیں، لہجہ الگ ہے اور تلفظ بھی الگ ہے۔
چنانچہ عربوں کو تو الجھن نہیں ہوتی تھی لیکن غیر عرب لوگوں کو الجھن پیدا ہوئی۔ حضرت حذیفہؓ ایک جنگ میں کمانڈر تھے آذربائیجان کے علاقے میں۔ میدانِ جنگ میں ایک خیمے میں بیٹھے ہوئے تھے، ساتھ والے خیمے میں لڑائی ہو گئی۔ بھاگے بھاگے گئے تو دیکھا کہ دو آدمی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ پوچھا، کیا ہوا بھئی؟ دونوں عجمی تھے، عربی نہیں تھے۔ ایک نے کہا، یہ قرآن کریم غلط پڑھ رہا تھا، میں نے اسے منع کیا تو یہ مجھ سے لڑ پڑا۔ دوسرے نے کہا، میں صحیح پڑھ رہا تھا اور یہ مجھے غلط بتا رہا تھا۔ پڑھنے والے نے کہا کہ میں نے یہ حضرت ابو الدرداءؓ سے پڑھا ہے، میں کیسے غلط ہو سکتا ہوں۔ سننے والے نے کہا کہ میں نے حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے پڑھا ہے، وہ کیسے غلط ہو سکتے ہیں۔ اب دونوں کی سندیں مضبوط تھیں۔ حضرت حذیفہؓ نے ایک سے کہا کہ تم سناؤ، اس نے سنایا۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا، ٹھیک پڑھ رہے ہو تم۔ دوسرے سے کہا کہ تم سناؤ۔ اس نے سنایا۔ فرمایا کہ تم بھی ٹھیک پڑھ رہے ہو۔ یہ معاملہ ’’کیویں‘‘ اور ’’کِداں‘‘ کا ہی تھا۔ خیر حضرت حذیفہؓ نے دونوں کو سمجھایا کہ پڑھانے والوں نے تم دونوں کو ٹھیک پڑھایا ہے۔
لیکن حضرت حذیفہؓ نے خطرہ محسوس کیا کہ یہ تو ایک مستقل مسئلہ بن جائے گا اور عجمیوں میں تو ایک ایک لفظ پر لڑائی ہوگی۔ وہاں سے جب مدینہ منورہؓ گئے تو امیر المؤمنین حضرت عثمانؓ سے کہا کہ یا حضرت اس مسئلے کو سنبھال لیجیے ورنہ بعد والے لوگ لڑ لڑ کر مر جائیں گے۔ ان سب کو کسی ایک لغت پر اکٹھا کر دیجیے۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو بلایا، کہا کہ بھئی دیکھو، قریش کے جس لہجے میں حضورؐ قرآن کریم پڑھتے تھے، اس لہجے میں ایک نسخہ مرتب کر دو۔ باقی کوئی کسی دوسری لغت میں پڑھتا ہے تو اس کی مرضی لیکن اسٹینڈرڈ نسخہ وہی ہوگا جو قریش کی لغت میں ہے۔ چنانچہ صرف ایک لغت پر سب کو اکٹھا کرنے کے لیے کہ عجمیوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو، ایک اسٹینڈرڈ نسخہ لکھوا دیا گیا۔ یہ وہ نسخہ ہے جو صحابہ کرامؓ کی ایک کمیٹی نے، جس میں حضرت زید بن ثابتؓ بھی شامل تھے، حضرت عثمان بن عفانؓ کے حکم پر تحریر کیا۔ اور جس کی متعدد نقول لکھوا کر امیر المؤمنین نے سلطنتِ اسلامیہ کے دور دراز علاقوں میں بھجوائے۔ انہی نسخوں میں سے ایک نسخہ جو لندن کی انڈیا آفس لائبریری میں موجود و محفوظ ہے، اس کی زیارت کا شرف مجھے بھی حاصل ہوا ہے۔
میں نے آج کی گفتگو میں قرآن و حدیث کے باہمی تعلق کے ایک پہلو پر بات کی ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچنے کا ذریعہ بھی حدیث ہے، قرآن کریم کی سورتوں تک پہنچنے کا ذریعہ بھی حدیث ہے، قرآن کریم جس ترتیب سے ہم پڑھتے ہیں، اس ترتیب تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ہمارے پاس حدیث ہی ہے۔ حدیث کے بغیر ہم قرآن کریم کی سورتوں، آیات، جملوں اور ترتیب نہیں پہنچ سکتے۔
میں ایک بات عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں، اور اسی پر آج کی بات سمیٹوں گا۔ بعض لوگوں کو شبہ ہے کہ حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں۔ یہ بھی آج کے مسئلوں میں سے ایک مسئلہ ہے، کہ جی حدیث کو کیوں مانیں، کیا قرآن کافی نہیں ہے؟ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ جو چیز ثابت ہے وہ تو مانیں، لیکن جس کے ذریعے سے ثابت ہوئی اور جس پر وہ موقوف ہے وہ ماننا ضروری نہیں ہے۔
میں یہاں بظاہر ایک سخت سی بات کہوں گا، لیکن دراصل واقعہ یوں ہی ہے کہ علم اور دلائل کی ترتیب میں قرآن کا نمبر پہلا ہے جبکہ حدیث کا نمبر دوسرا، لیکن ایمان کی ترتیب میں حدیث پہلے ہے اور قرآن بعد میں:
(۱) ہم کسی مسئلے پر دلیل تلاش کریں گے تو پہلے قرآن میں دیکھیں گے، اگر نہیں ملے گی، یا کسی آیت یا جملے کی وضاحت کی ضرورت ہو گی تو حدیث کی طرف رجوع کریں گے۔
(۲) ایمان کی ترتیب میں حدیث کے پہلے ہونے کی بات بظاہر سخت ہے لیکن امر واقعہ یہی ہے۔ پہلے ہم حدیث پر ایمان لائیں گے پھر قرآن پر۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ’’آپؐ نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ قرآن کی سورت ہے‘‘ تو کیا ہم پہلے حضورؐ کے فرمان پر ایمان لاتے ہیں یا سورۃ فاتحہ کے قرآن کریم کی سورت ہونے پر؟ اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ ’’رسول اللہؐ نے فرمایا کہ سورۃ الاخلاص قرآن کی سورت ہے اور ثلث قرآن ہے‘‘ تو ہم نے پہلے کونسی بات مانی؟ پہلے ہم نے حضورؐ کے ارشاد کو مانا یا پہلے سورۃ الاخلاص کے قرآن کریم کے سورۃ ہونے کو مانا؟
اس لیے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ دلیل کی ترتیب میں قرآن پہلے اور حدیث بعد میں ہے۔ لیکن ایمان کی ترتیب میں حدیث پہلے اور قرآن بعد میں ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم ہمیں ملا ہی حدیثِ نبویؐ سے ہے۔ اگر حدیث درمیان میں نہ ہو تو ہم قرآن کریم تک نہیں پہنچ سکتے۔