(گزشتہ سے پیوستہ)
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ و ربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ ‘‘
یہ قرآن کریم کی پانچ آیتیں ہیں جو سب سے پہلے نازل ہوئی تھیں اور یہ بات ہر وہ مسلمان جانتا ہے جو تھوڑی بہت دین سے مناسبت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور پھر یہ بات کہ یہ قرآن کریم کی سب سے پہلی نازل ہونے والی آیتیں ہیں۔ یہ بات پتہ چلانے کے لیے ہمیں غارِ حرا کا وہ واقعہ معلوم کرنا ہوگا۔ آنحضرتؐ کا نبوت سے پہلے معمول مبارک یہ تھا کہ آپ غار میں چلے جاتے تھے اور وہاں کئی کئی دن رہتے تھے۔ غور و فکر کرتے تھے، عبادت کرتے تھے، اللہ اللہ کرتے تھے، انسانیت کے مسائل پر غور کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپؐ غارِ حرا میں تھے کہ اس دوران فرشتہ آیا، اس نے کہا ’’اقرأ‘‘ پڑھیے جناب۔ حضورؐ نے فرمایا ’’ما انا بقارئٍ‘‘ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔
میں واقعے کی تفصیل میں نہیں جاتا لیکن یہ واقعہ تقریباً ہر مسلمان کے ذہن میں ہے اور سب نے کسی نہ کسی موقع پر سنا ہوا ہے۔ یہ واقعہ ہمارے پاس یہ بات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے کہ یہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں ہیں جو غارِ حرا میں نازل ہوئیں۔ اس واقعے کا واسطہ درمیان میں نہ ہو تو یہ بات معلوم کرنا کہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں یہ تھیں، اس کا کوئی اور ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں سب سے پہلے یہ واقعہ تسلیم کرنا ہوگا جو ظاہر ہے کسی صحابیؓ نے روایت کیا ہے۔ یہ واقعہ حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے، حضرت عائشہؓ سے، حضرت جابرؓ سے اور ان کے علاوہ بھی دیگر صحابہؓ سے روایت ہے۔ تو پہلے ہمیں اس واقعے کی تفصیلات معلوم کرنی ہوں گی اور یہ واقعہ تسلیم کرنا ہوگا تب ہم یہ مانیں گے کہ یہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا اس واقعے پر ایمان نہ ہو، تو کیا ان پانچ آیتوں پر ایمان ممکن ہے؟ یہ ساری تفصیل کہ فرشتہ آیا اور اس نے حضورؐ سے یہ کہا، حضورؐ نے اس کے جواب میں یہ بات کہی، پھر واپس گھر آئے تو بڑی گھبراہٹ تھی، اپنی اہلیہ حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ سے فرمایا کہ میں بہت گھبرا رہا ہوں مجھے چادر اوڑھاؤ۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ یہ سارا واقعہ وہ ماخذ ہے جس کے ذریعے سے ہمیں یہ پانچ آیتیں ملیں۔ اور صحابہؓ نے یہ سارا واقعہ اور قصہ آگے امت کو روایت کر دیا۔ یہی بات حدیث کہلاتی ہے۔ الغرض قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس واحد ذریعہ جناب نبی کریمؐ کی ذاتِ گرامی ہے۔
یا مثال کے طور پر یہ قرآن کریم جو کتابی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اور ہم دنیا بھر میں اسی مصحف کو پڑھتے ہیں۔ یہ کب لکھا گیا، کس نے لکھا اور کس بنیاد پر لکھا؟ رسول اللہؐ کے زمانے میں قرآن کریم کتابی شکل میں لکھا ہوا موجود نہیں تھا۔ یہ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانے میں جمع کر کے لکھا گیا۔ وہ بھی حضرت عمر فاروقؓ کی تجویز پر اور احتیاط کے پیش نظر۔ ہوا یوں کہ مختلف محاذوں پر جنگیں ہو رہی تھیں، صحابہ کرامؓ شہید ہو رہے تھے، اور شہیدوں کی بڑی تعداد قرآن کریم کے حافظوں کی تھی۔ ستر حفاظ صحابہؓ تو جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔ حضورؐ کے زمانے میں لوگ قرآن کریم حفظ کیا کرتے تھے، کوئی اپنی یادداشت کے لیے دو چار آیتیں لکھ لے تو لکھ لے، لیکن عمومی طور پر قرآن کریم یاد کیا جاتا تھا۔ سینکڑوں حافظ موجود تھے۔ اگر ستر ایک جنگ میں شہید ہوئے تو آپ اندازہ کر لیں کہ حافظوں کی کل تعداد کتنی ہوگی۔ جب مختلف محاذوں سے صحابہ کرامؓ کی شہادت کی مسلسل خبریں آنے لگیں تو حضرت عمرؓ کے ذہن میں یہ خدشہ پیدا ہوا۔ ذہین آدمی سوچتا ہے کہ کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔ یہ بھی ایک مستقل فراست ہے۔
حضرت عمرؓ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی بصیرت اور فراست دی تھی۔ انہیں خطرہ لاحق ہوا کہ حافظ شہید ہوتے جا رہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم کے بارے میں کوئی الجھن پیش آئے۔ تو یہ خیال سب سے پہلے حضرت عمرؓ کے ذہن میں آیا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں گئے اور عرض کیا، یا خلیفۃ رسول اللہ، اے رسول اللہ کے جانشین! حافظ شہید ہوتے جا رہے ہیں، احتیاطاً قرآن کریم کا ایک نسخہ لکھوا کر رکھ لیجیے تاکہ کوئی مسئلہ نہ پیدا ہو۔ ابتدا میں تو حضرت صدیق اکبرؓ نہیں مانے کہ بھئی جب حضورؐ نے ایسا نہیں کیا تو میں کیوں کروں۔ لیکن حضرت عمرؓ نے اصرار کیا کہ ایسا کر لیں اس کی ضرورت ہے ورنہ مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ چنانچہ مشکل سے حضرت صدیق اکبرؓ یہ بات مانے۔ حضرت زید بن ثابتؓ کو بلوایا جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے کاتب تھے۔ انصاری صحابیؓ تھے۔
حضرت زیدؓ کے حضورؐ کے سب سے بڑے کاتب ہونے کی دو وجہیں تھیں۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ بڑے ذہین نوجوان تھے۔ ان کی ذہانت کا اس بات سے اندازہ کیجیے کہ یہودیوں کے ساتھ گفتگو اور خط و کتابت کے لیے جب حضورؐ نے ضرورت محسوس کی کہ میرے اپنے کسی اعتماد کے آدمی کو حیبرو یعنی یہودیوں کی عبرانی زبان جاننی چاہیے تاکہ ترجمہ وغیرہ میں گڑبڑ کا اندیشہ نہ رہے۔ تو حضرت زیدؓ سے کہا کہ بھئی جا کر حیبرو سیکھو۔ زیدؓ کہتے ہیں کہ میں نے سترہ دن میں یہ زبان سیکھی، اس معیار کی سیکھی کہ بول بھی سکتا تھا، لکھ بھی سکتا تھا اور پڑھ بھی سکتا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ حضورؐ کے پڑوسی تھے۔ دن یا رات کو جب بھی ضرورت محسوس ہوتی، انہیں بلا لیا جاتا کہ آجاؤ بھئی۔ اس لیے زید بن ثابتؓ حضورؐ کے سب سے بڑے کاتب تھے۔
(جاری ہے)