میں سراجا ً ‘ منیرا ً سیرت انسٹیٹیوٹ ڈھاکہ کی انتظامیہ بالخصوص مولانا ابو صابر عبد اللہ کا شکر گزار ہوں کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقدہ اس آن لائن سیمینار میں مجھے بھی شریک ہونے کی سعادت بخشی، اللہ پاک جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
اس ذوق اور محنت پر دوستوں کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ عرض کروں گا کہ عام طور پر میری ایک گزارش ہوتی ہے کہ اپنے مسائل و معاملات میں قرآن و سنت سے راہنمائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس قسم کے مسائل و معاملات کا خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سامنا کرنا پڑا تھا تو انہوں نے کس انداز اور طرز عمل سے انہیں حل کیا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و احکام تو ہماری بنیاد ہیں مگر طرز عمل اور رویہ بھی اسی طرح ہمارے لیے راہ عمل ہے اور یہ ہمیں سیرت کے دائرے میں ملے گا، اس لیے حدیث اور سنت کی طرح سیرت کو بھی ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔
مثال کے طور پر آج کے دور میں امت مسلمہ کو مجموعی طور پر درپیش دو تین بڑے مسائل کا ذکر کرنا چاہوں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آئے اور ان مسائل کو رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جس حکمت عملی اور طرز عمل سے ڈیل کیا تھا وہ آج بھی ہمارے لیے اسوہ حسنہ اور راہ عمل ہے اور اسی کی روشنی میں ہم ان مسائل سے صحیح طور پر نمٹ سکتے ہیں۔
پہلا مسئلہ جو آج امت مسلمہ کو عالمی سطح پر درپیش ہے ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دورِ اقتدار میں اسرائیل، امریکہ اور چند عرب ممالک کے درمیان کرایا تھا اور اب وہ باقی عرب حکمرانوں اور مسلم حکومتوں پر زور دے رہے ہیں بلکہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی اس میں شریک ہوں اور اس پر دستخط کریں۔ اس معاہدہ کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان، مسیحی اور یہودی مذاہب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے ’’وحدتِ ادیان‘‘ کے عنوان سے اکٹھا بٹھایا جائے اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور یگانگت کا ماحول پیدا کیا جائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد اور ٹارگٹ یہ ہے کہ اسرائیل کو مسلم حکومتوں سے تسلیم کرایا جائے تاکہ وہ اپنے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ایجنڈے میں عملی پیش رفت کر سکے۔
یہ صورت حال جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی پیش آئی تھی جب مکہ مکرمہ میں قریش کے بڑے سرداروں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باقاعدہ جرگہ کی صورت میں ملاقات کر کے یہ پیشکش کی تھی جسے قرآن کریم نے ’’ودو لو تدھن فیدھنون‘‘ سے تعبیر کیا تھا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ نرمی پیدا کریں تاکہ یہ بھی نرمی کا رویہ اختیار کر سکیں۔ اس کی عملی شکل یہ تھی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی تعریف کریں اور صفات بیان کریں ہم اس میں آپ کے ساتھ ہوں گے مگر ہمارے خداؤں کی نفی نہ کریں اور ان کے خلاف بات نہ کریں۔ دوسری بات یہ تھی کہ ہم آپ کے ساتھ حرم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک ہوں گے، آپ بھی ہمارے ساتھ ہماری عبادات میں شامل ہو جایا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۃ الکافرون میں قیامت تک کے لیے یہ اعلان کر دیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ نہ عقیدہ میں توحید اور شرک کو خلط ملط کیا جا سکتا ہے اور نہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جا سکتا ہے یعنی عقیدہ و عبادت میں کوئی سودے بازی اور بارگیننگ نہیں ہو سکتی۔
ہمیں آج دوسرا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ماحول کے حوالہ سے ہم سے شریعت اسلامیہ کے احکام میں ردوبدل کا تقاضہ کیا جا رہا ہے اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ قرآن و سنت کے جو احکام و قوانین آج کے عالمی فلسفہ اور بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے انہیں تبدیل کر کے آج کے ماحول کے مطابق بنایا جائے۔ یہ مطالبہ پوری امت مسلمہ سے اور تمام مسلم حکومتوں سے ہے اور صرف مطالبہ نہیں بلکہ اس کے لیے ہر قسم کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ہر طرح سے مجبور کیا جا رہا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ صورت حال درپیش تھی جس کا ذکر قرآن کریم میں ’’ائت بقرآن غیر ھذا او بدلہ‘‘ کے عنوان سے ذکر موجود ہے۔ اور عملی طور پر یہ واقعہ آپ کو سیرت طیبہ کی کتابوں میں پڑھ لینا چاہیے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب طائف کے بنو ثقیف کے سرداروں کا وفد مدینہ منورہ میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس میں چند شرائط پیش کیں جن میں اہم شرائط یہ پانچ بیان کی جاتی ہیں:
(جاری ہے)