ہم محافظِ حرم کے
انسانی تاریخ میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو محض جغرافیائی حدود نہیں رہتے بلکہ روح کی گہرائیوں میں اتر کر عقیدت، شناخت اور تقدیس کی علامت بن جاتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مقام وہ ہے جسے دنیا
انسانی تاریخ میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو محض جغرافیائی حدود نہیں رہتے بلکہ روح کی گہرائیوں میں اتر کر عقیدت، شناخت اور تقدیس کی علامت بن جاتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مقام وہ ہے جسے دنیا
معاشروں کی پہچان صرف ان کی بلند و بالا عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور صنعتی ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کے لئے کتنی آسانیوں کا اہتمام و انصرام کرتے ہیں۔
دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مٹانے کی جستجو جاری ہے ،کسے خبر کہ حالات کا اونٹ کس
ریاست کا بنیادی تصور یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال، عزت و وقار اور بنیادی ضروریات کی محافظ ہوتی ہے۔ ایک مہذب ریاست میں اقتدار محض اختیار کا نام نہیں بلکہ ایک امانت ہوتا ہے، جسے
انسانی تاریخ کے اوراق جب بھی خون سے رنگے گئے، وہ طاقت کا خود کو حقدار سمجھ لینے کا شاخسانہ ٹھہرا جس کے زعم میں کمزور کو خاموشی کا کفن پہنا دیا گیا۔ ہر عہد میں کچھ واقعات ایسے ہوتے
کبھی یہ زمین ایسے لوگوں سے خالی نہ تھی۔ سید قطب جیسے لوگ تھے جو تختۂ دار پر بھی سچ بولنے سے نہ ہچکچائے۔ علامہ اقبال تھے جنہوں نے سوئی ہوئی قوم کو خواب نہیں، خودی کا شعور بخشا، محمد
دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقت کے پرانے توازن بکھر رہے ہیں، نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں اور عالمی سیاست ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں اصولوں کی جگہ مفادات نے
رمضان المبارک مسلمانوں کے لئے دعائوں کے ذریعے اپنے رب کی رضا کو پالینے کا مہینہ ہے۔اسی ماہ معظم میں مسلمانوں کی کتاب قرآن کریم نازل ہوا۔ دعائوں کی حیثیت و ماہیت ہر غور کریں تو جسم روح کی تازگی
رمضان المبارک جب اپنی آخری ساعتوں میں داخل ہوتا ہے تو فضا میں ایک عجیب سی اداسی اور سرشاری بیک وقت محسوس ہوتی ہے۔ عبادتوں کی لذت ابھی باقی ہوتی ہے مگر جدائی کا احساس دل کو بوجھل کر دیتا
برطانوی مورخ Arnold J. Toynbee نے بیسویں صدی کے وسط میں انسانی تہذیب کے مستقبل پر غور کرتے ہوئے ایک ایسا جملہ کہا تھا جو آج حیران کن حد تک سچا محسوس ہوتا ہے۔ اس نے خبردار کیا تھاکہ ’’اگر