انسانی تاریخ کا اگلا باب خوف اورتشدد
برطانوی مورخ Arnold J. Toynbee نے بیسویں صدی کے وسط میں انسانی تہذیب کے مستقبل پر غور کرتے ہوئے ایک ایسا جملہ کہا تھا جو آج حیران کن حد تک سچا محسوس ہوتا ہے۔ اس نے خبردار کیا تھاکہ ’’اگر
برطانوی مورخ Arnold J. Toynbee نے بیسویں صدی کے وسط میں انسانی تہذیب کے مستقبل پر غور کرتے ہوئے ایک ایسا جملہ کہا تھا جو آج حیران کن حد تک سچا محسوس ہوتا ہے۔ اس نے خبردار کیا تھاکہ ’’اگر
(گزشتہ سے پیوستہ) ریاست کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے اعتماد کا سہارا بنے۔ بیرونِ ملک کام کرنے والا مزدور جب اپنی کمائی وطن بھیجتا ہے تو وہ صرف پیسہ نہیں بھیجتا، بلکہ اپنے وطن پر
قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب اقتدار کے ایوانوں سے کوئی آواز محض تقریرکے الفاظ کی صورت بلند نہیں ہوتی بلکہ قومی ضمیر کی صدا بن کر ابھرتی ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب حکمران
جمہوری نظام کی روح صرف انتخابات نہیں ہوتے بلکہ وہ مسلسل مکالمہ ہوتا ہے جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمہوری عمل کی مضبوطی کے لئے جاری رہتا ہے۔ ریاستی پالیسیز کی تشکیل، قومی سلامتی کے معاملات، معاشی سمت کے
تہذیبوں کے ارتقا میں اساطیر داستانیں اور تاریخی حکایات نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں، مگر قرآنِ کریم نے قصے اور داستان کو محض تفریح یا روایت کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے ہدایت، بصیرت اور اخلاقی تربیت کا
دنیا کی تاریخ میں ایسے ادوار بارہا آئے جب طاقت کے نشے میں مست حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی بقاء کے لئے انسانیت کی تقدیس کو روند ڈالا۔ مگر ہمارے عہد کی المیہ داستان اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہے۔
تاریخ انسانی کے سینے میں بہت سے زخم ایسے ہیں جو بظاہر مندمل دکھائی دیتے ہیں مگر اندر ہی اندر سلگتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی حادثہ، کوئی سیاسی کشمکش یا فکری اختلاف ان زخموں کو پھر سے تازہ کر دیتا
ضمیر خوابیدہ ہوجائے تو تقدیس کے استعارے محض خوبصورت لفظ رہ جاتے ہیں اور مروجہ سیاسی حالات اپنی بے رحم منطق کے ساتھ انسانیت کو نت نئے امکانات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں ۔دنیا کی تاریخ میں ایسے لمحات بارہا
یہ کیسا وقت ہے کہ زمین اپنی ہی گردش سے ڈرنے لگی ہے۔آسمان، جو کبھی نیلا اور بے کنار تھا، اب دھوئیں کے بوجھ سےجھک گیا ہے۔بادل بارش نہیں لاتے، راکھ برساتی ہوا کے دوش پر بہتے ہیں۔فضا میں بارود
بعض لوگوں کو گفتگو کے فن پر دسترس ہوتی ہے وہ جب بولتے ہیں تو ان کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں میں پرو فیسر ڈاکٹر اکرم چوہدری کا نام بھی شامل ہے ،آٹھ سال تک