برطانوی مورخ Arnold J. Toynbee نے بیسویں صدی کے وسط میں انسانی تہذیب کے مستقبل پر غور کرتے ہوئے ایک ایسا جملہ کہا تھا جو آج حیران کن حد تک سچا محسوس ہوتا ہے۔ اس نے خبردار کیا تھاکہ ’’اگر انسان اپنے رویوں، اہداف اور اجتماعی طرزِ حیات میں بنیادی تبدیلی نہ لایا تو اس کی بقاء کے لئے اسے بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی‘‘۔آج اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں کھڑے ہو کر اگر ہم دنیا کا منظرنامہ دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ٹائن بی کی پیش گوئی کسی حد تک ہمارے سامنےحقیقت بن کر کھڑی ہے۔خوف اور بے یقینی کے عالمی ماحول میں آج کی دنیا بظاہر ترقی، ٹیکنالوجی اور معاشی امکانات سے بھرپورلگتی ہےمگر اس ترقی کے پیچھے ایک وحشی پن ، ایک بے چینی اور ایک خوف انسانی بے بسی اور بےکسی پر قہقہے لگا رہا ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے انسان کو بیک وقت طاقتور بھی بنایا ہےاور بے حد ناتواں بھی۔ ایک بٹن دبانے سے پوری انسانیت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تہذیب ایک عجیب تضاد کا شکار ہے،انسان نے طاقت تو بے پناہ حاصل کر لی ہےمگر حکمت ابھی تک اس طاقت کےبرابر نہیں پہنچ سکی۔روس اور یوکرین کی جنگ ہو، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی ہو یا ایشیاء میں طاقت کےتوازن کی کشمکش،ہرجگہ طاقت کی سیاست اور عسکری مقابلہ بازی کا رجحان فروتر ہوتا جارہا ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس سے ٹائن بی نے خبردار کیا تھا کہ اگر انسان نے اپنی سوچ اور ترجیحات نہ بدلیں تو تاریخ کا اگلا باب زیادہ بےرحم ہو سکتا ہے۔اکیسویں صدی کی سب سے بڑی علامت ٹیکنالوجی ہے۔ مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور ڈیجیٹل انقلاب نے انسانی زندگی کو حیران کن حدتک بدل دیاہےمگر یہی ٹیکنالوجی نئی قسم کے خطرات بھی پیدا کر رہی ہے۔مصنوعی ذہانت نہ صرف معاشی ڈھانچوں کو تبدیل کر رہی ہےبلکہ جنگ کےمیدان میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔ خودکار ہتھیار، ڈرون جنگ اور سائبرحملے مستقبل کی جنگوں کو پہلے سے زیادہ غیر مرئی اور پیچیدہ و مہلک بنا رہے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے ایسے آلات ایجاد کر لئے ہیں جنہیں استعمال کرنےکی اخلاقی تربیت ابھی تک اس کےپاس نہیں۔معاشی عدم مساوات: تہذیب کا خاموش بحران آج کی دنیا کا ایک بڑا مسئلہ ہے ،اس پر مستزاد معاشی عدم مساوات ہے۔ دنیا کی دولت کا بڑا حصہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو چکا ہے جبکہ اربوں انسان غربت اور محرومی کے دائرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔یہ تفاوت صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بحران بھی پیدا کر رہا ہے۔ جب معاشرے میں وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہو جائے تو بےچینی، احتجاج اور تشدد جنم لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی خطوں میں عوامی غصہ سیاسی نظاموں کے خلاف ابھر رہا ہے۔ عوام محسوس کرتے ہیں کہ ترقی کے ثمرات ان تک نہیں پہنچ رہے۔ٹائن بی کے نظریہ تہذیب کے مطابق جب کسی معاشرے کا اشرافیہ طبقہ عوام کے مسائل سے کٹ جائے تو تہذیب اندر سے کمزور ہونے لگتی ہے۔صنعتی ترقی اور بے قابو معاشی سرگرمیوں نے زمین کے قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح کا بلند ہونا اور موسمیاتی آفات ، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ زمین ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔یہ بحران صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ انسانی بقا کا مسئلہ ہے۔اگر زمین کا ماحولیاتی نظام بگڑ گیا تو جنگیں صرف سرحدوں کے لیے نہیں بلکہ پانی اور خوراک کے لیے بھی لڑی جائیں گی۔ یہ وہ منظر ہےجسے بعض ماہرین مستقبل کی وسائل کی جنگیں کہتے ہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب تہذیبیں مکالمے اور تعاون کا راستہ چھوڑ دیتی ہیں تو تصادم ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ انسان کی اخلاقی آزمائش کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے ۔ٹائن بی کا اصل پیغام یہی تھا کہ تہذیبوں کا مستقبل صرف مادی طاقت سے نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی اقدار سے طے ہوتا ہے۔ان کے نزدیک تاریخ میں بڑے بحران دراصل انسان کی اخلاقی آزمائش ہوتے ہیں۔ انسانی تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ بڑے بحران اکثر بڑی تبدیلیوں کو جنم دیتے ہیں۔ جب حالات حد سے زیادہ بگڑ جاتے ہیں تو انسان نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔دنیا بھر میں امن، انسانی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی تحریکیں اس امید کی علامت ہیں کہ انسان ابھی اپنی غلطیوں کا ادراک رکھتا ہے۔نوجوان نسل بھی زیادہ باشعور اور حساس دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا چاہتی ہے جہاں ترقی کے ساتھ انصاف اور ماحولیات کا تحفظ بھی یقینی ہو۔تاریخ کے اس موڑ پر اگر ہم ٹائن بی کی وارننگ کو آج کے حالات پر منطبق کریں تو صاف نظر آتا ہے کہ انسان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب تہذیبوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس سمت جانا چاہتی ہیں ؟ کیا ہم طاقت کی اندھی دوڑ میں ایک دوسرے کو تباہ کرتے رہیں گے؟یا ہم اپنی ترجیحات کو بدل کر ایک زیادہ منصفانہ اور پرامن دنیا کی تعمیر کے خواب کی تعبیر کے حصول کےلئےجدوجہد کریں گے؟انسانی تاریخ کااگلا باب ابھی لکھانہیں گیا۔ اس کا مقدر ہمارے ہاتھ میں ہے۔اگر ہم نے عقل، اخلاق اور ذمہ داری کا راستہ اختیار کیا تو شاید آنے والی نسلیں اس دور کو انسانی بیداری کا زمانہ کہیں گی لیکن اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو ٹائن بی کا خوفناک اندیشہ سچ ثابت ہو سکتا ہےاور تاریخ کا اگلا باب واقعی زیادہ تشدد آمیز اور بےرحم ہو سکتا ہے۔انسان کے پاس ابھی بھی انتخاب کا حق موجود ہےاور شاید یہی انتخاب اس کی بقا کا آخری راستہ ہے۔