ریاست کا بنیادی تصور یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال، عزت و وقار اور بنیادی ضروریات کی محافظ ہوتی ہے۔ ایک مہذب ریاست میں اقتدار محض اختیار کا نام نہیں بلکہ ایک امانت ہوتا ہے، جسے دیانت داری، شفافیت اور عوامی فلاح کے اصولوں کے تحت استعمال کیا جانا چاہیے۔ مگر جب یہی امانت بددیانتی، فضول خرچی اور بے حسی کی نذر ہو جائے تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ لخت لخت ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے، تو دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں عیش و عشرت کی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں۔حالیہ انکشافات کے مطابق کابینہ ڈویژن نے 5 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم غیر ضروری مدات، جنہیں عوامی زبان میں “اللے تللے” کہا جا رہا ہے، پر خرچ کر دی۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ مختص بجٹ سے تقریباً دو ارب روپے زائد خرچ کیے گئے، جو مالیاتی نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کے لیے 6 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بجٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومتی ترجیحات عوامی فلاح کے بجائے اقتدار کے مراکز کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہیں۔یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جب ملک کا ایک بڑا طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہو، جب مزدور اپنی دیہاڑی کے لیے دربدر ہو، جب نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوں، تو ایسے میں سرکاری وسائل کا اس طرح بے دریغ استعمال اخلاقی، آئینی اور انسانی اصولوں کے سرسر منافی ہے ۔حکمران طبقے کی یہ روش نئی نہیں، مگر اس کا تسلسل خطرناک سے خطرناک تر ہوتا جا رہا ہے۔ اقتدار میں آنے والی ہر حکومت عوامی خدمت کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے، مگر عملی طور پر وہی پرانی کہانی دہرائی جاتی ہے: مراعات، پروٹوکول، غیر ضروری اخراجات، اور عوامی مسائل سے چشم پوشی۔ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ دور حکومت میں بھی یہ رجحان واضح نظر آ رہا ہے، جہاں اراکین اسمبلی قومی خزانے کو ذاتی ملکیت سمجھ کر استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔یہاں اصل مسئلہ صرف رقم کے ضیاع کا نہیں بلکہ ترجیحات کے بگاڑ کا ہے۔ ایک طرف تعلیمی ادارے فنڈز کی کمی کا شکار ہیں، سرکاری اسکولوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان، اور نصاب کی پسماندگی ہمارے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ دوسری طرف صحت کا شعبہ بدحالی کی تصویر پیش کر رہا ہے، جہاں سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی کمی، طبی عملے کی قلت اور سہولیات کی ناکافی دستیابی عام شہری کو نجی شعبے کے مہنگے علاج کی طرف دھکیل رہی ہے۔غربت کی بڑھتی ہوئی شرح اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشی پالیسیز عوام دوست نہیں رہیں۔ عالمی اداروں کی رپورٹس بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان میں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر حکمران طبقہ اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے مزید اضافہ کرے تو یہ صرف ناانصافی ہی نہیں بلکہ ایک طرح کی اجتماعی بے حسی ہے۔یہ تضاد ، ایک طرف بھوک اور دوسری طرف عیش ،کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران عوام کے دکھ درد سے کٹ جاتے ہیں تو معاشرتی بے چینی، عدم استحکام اور بغاوت کے بیج جنم لیتے ہیں۔ عوام کا صبر ایک حد تک ہوتا ہے، اور جب وہ حد پار ہو جائے تو نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر فوری اصلاحات کی جائیں۔ سب سے پہلے مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے، غیر ضروری اخراجات پر مکمل پابندی عائد کی جائے، اور ہر خرچ کو شفافیت کے اصولوں کے تحت عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ احتساب کا ایک مضبوط نظام قائم کیا جائے، جو نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی اراکین کو بھی جوابدہ بنائے۔دوسری اہم بات ترجیحات کی درستگی ہے۔ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیئے۔ اگر ایک قوم تعلیم یافتہ اور صحت مند ہو تو وہ خود بخود معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ان حساس شعبوں کو نظر انداز کیا جائے تو ترقی کے تمام ترقی کے راستے ہی مسدود نہیں ہوتےبلکہ حکومتی دعاوی کا کھوکھلا پن بھی طشت ازبام ہو جاتاہے۔یہاں عوامی نمائندوں کے طرز زندگی کا احوال بھی ضروری ہے جو قومی مزاج سے میچ نہیں ہوتا ۔ ایک حقیقی جمہوری معاشرے میں عوامی نمائندے سادگی، کفایت شعاری اور خدمت کا نمونہ ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پروٹوکول، لگژری گاڑیاں، مہنگے دفاتر اور غیر ضروری مراعات نے عوامی نمائندوں کو عوام سے دور کر دیا ہے۔یہ وقت ہے کہ حکمران طبقہ اپنی روش پر نظرثانی کرے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہے مگر اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ اگر آج عوام کے وسائل کو بے دردی سے ضائع کیا جائے گا تو کل یہی عوام سوال بھی کریں گے اور حساب بھی لیں گے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے خزانے میں جمع دولت نہیں بلکہ اس کے عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ اگر اس اعتماد کا شیرازہ بکھر جائے تو کوئی بھی معاشی یا سیاسی نظام زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکمران اپنی ترجیحات کو درست کریں، عوام کے مسائل کو سمجھیں، اور قومی خزانے کو امانت سمجھ کر استعمال کریں ورنہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ سخت ہوتا ہے، اور وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتتی۔