Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مسلم دنیا کی نئی صف بندی پاکستان میں وزرائے خارجہ اجلاس

دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقت کے پرانے توازن بکھر رہے ہیں، نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں اور عالمی سیاست ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں اصولوں کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی ریت، یوکرین کی برف میں جمی ہوئی جنگ، اور ایشیاء میں ابھرتی ہوئی نئی معاشی صورتحال سب مل کر ایک ایسی مرقع سازی ہے جس میں بے یقینی ہی واحد یقین ہے۔ ایسے میں مسلم دنیا، جو کبھی تہذیبی، فکری اور سائنسی قیادت کا مرکز تھی، آج داخلی انتشار، سیاسی تقسیم اور معاشی کمزوریوں کا شکار نظر آتی ہے۔اسی پس منظر میں پاکستان میں ہونے والا وزرائے خارجہ کا اجلاس محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک ایسا موقع ہے جسے اگر بصیرت اور حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک نئے باب کا آغاز بن سکتا ہے۔مسلم دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب بھی اس نے اتحاد، علم اور عدل کو اپنا شعار بنایا، دنیا نے اس کے قدموں میں اپنی تقدیر رکھی۔ لیکن جب مفادات، فرقہ واریت اور اقتدار کی کشمکش نے جگہ لی، تو زوال اس کا مقدر بن گیا۔ آج کا منظرنامہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ فلسطین کے لہو میں ڈوبے ہوئے شہر کشمئر کی خاموش وادیوں میں گونجتی ، بچوں اور عورتوں چیخیں، افغانستان کی ڈگمگاتی فضا ،یہ سب اس امر کیاشارے ہیں کہ امت ابھی تک ایک حتمی مشترکہ حکمت عملی سے محروم ہے۔یہ اجلاس اسی خلا کو پر کرنے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے محض قراردادوں اور بیانات کی حد تک محدود نہ رکھا گیا،بلکہ عملی اقدامات کی بنیاد بنایا گیاتو۔پاکستان کا کردار، جغرافیہ سے آگے، ایک نظریاتی مرکز کی حیثیت کا حامل ہے کہ پاکستان کا قیام خود ایک نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا۔ ایک ایسا نظریہ جو مسلم دنیا کے اتحاد، خودمختاری اور وقار سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں اس اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لئے ایک غیر معمولی موقع ہے کہ وہ خود کو صرف ایک ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری اور سفارتی مرکز کے طور پر ثابت کرے۔
پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث چین، وسطیٰ ایشیاء ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ اجلاس اس پل کو فعال بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کے لئے نئے معاشی راستے کھل سکتے ہیں۔آج دنیا یک قطبی نظام سے نکل کر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کی بالادستی کو چین اور روس جیسے ممالک چیلنج کر رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں مسلم دنیا کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ خود کو کسی ایک بلاک کا حصہ بنانے کے بجائے ایک خودمختار قوت کے طور پر ابھرے۔یہ اجلاس مسلم ممالک کو ایک مشترکہ معاشی اور سیاسی بلاک کی تشکیل کی طرف لے جا سکتا ہے، جو عالمی طاقتوں کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، کہ مسلم دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں تیل، گیس، معدنیات، نوجوان آبادی، اور وسیع منڈیاں، سب کچھ موجود ہے۔ مسئلہ صرف ان وسائل کے موثر استعمال اور باہمی تعاون کا ہے۔توانائی کے مشترکہ منصوبے جیسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور مسلم دنیا کو معاشی طور پر خود کفیل بنا سکتا ہے۔
اس وقت مسلم دنیا کے لئے اسلاموفوبیا اور تہذیبی بیانیہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ مغربی میڈیا میں اسلام کو جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے، وہ نہ صرف لغو ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ مسلم ممالک کو ایک ایسا مشترکہ بیانیہ تشکیل دیناچاہیئے جس میں تعلیمی، ثقافتی اور میڈیا کے میدان میں عملی اقدامات سے کو سر فہرست رکھا جائے ۔ مسلم دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی نہیں بلکہ داخلی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی، ترکی اور عرب دنیا کے اختلافات، اور دیگر علاقائی تنازعات یہ سب مسلمہ اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ ان اختلافات کو کم کرنے میں کردار ادا کیا جانا ضروری ہے کشمیر اور فلسطین کے مسائل صرف علاقائی تنازعات نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہیں۔ ان مسائل پر ایک مضبوط،واضح اور عملی موقف اپنانا مسلم ممالک کی اہم ذمہ دارای قراردادوں سے عمل تک مسلم دنیا کے اجلاسوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اکثر قراردادیں کاغذوں تک محدود رہتی ہیں۔ اصل چیلنج ان قراردادوں کو عملی شکل دینا ہے۔ اس کے لیے ایک مثر فالو اپ میکانزم مشترکہ فنڈزاور باقاعدہ نگرانی کا نظام ضروری ہے ۔کاش پاکستان میں ہونے والا موجودہ اجلاس امید کی ایک کرن بن جائے، تاہم یہ امید اسی وقت حقیقت میں بدل سکتی ہے جب مسلم دنیا اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے اور مستقبل کے لئے ایک واضح اور عملی حکمت عملی اپنائے۔یہ وقت محض تقاریر کا نہیں بلکہ فیصلوں کا ہے۔ یہ لمحہ تاریخ کے اوراق میں یا تو ایک نئے آغاز کے طور پر لکھا جائے گا یا ایک اور ضائع شدہ موقع کے طور پر۔فیصلہ مسلم دنیا کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس موقع کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں