Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اُمّہ سوئی ہوئی ہے

کبھی یہ زمین ایسے لوگوں سے خالی نہ تھی۔ سید قطب جیسے لوگ تھے جو تختۂ دار پر بھی سچ بولنے سے نہ ہچکچائے۔ علامہ اقبال تھے جنہوں نے سوئی ہوئی قوم کو خواب نہیں، خودی کا شعور بخشا، محمد علی جوہر اور شوکت علی برادران تھے جو سامراج کے سامنے سینہ سپر رہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی تھے جنہوں نے جلاوطنی میں بھی فکر کی شمع بجھنے نہ دی۔ اور پھر شورش کشمیری، صلاح الدین جیسے صحافی تھے جو قلم کو تلوار بنا کر سچ کی جنگ لڑتے رہے۔آج سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں گئے ،سوال یہ ہے کہ ہم کیوں وہ نہیں بن سکے جو وہ تھے؟ہم نے تاریخ کو مزار بنا دیا ، جہاں ہم فاتحہ پڑھنے تو جاتے ہیں مگر سبق لینے نہیں۔ ہم نے اقبال کو محض یومِ اقبال تک محدود کر دیا، سید قطب کو ایک خطرناک خواب سمجھ کر دفن کر دیا، اور علی برادران کو محض نصابی کہانیوں میں قید کر دیا۔ ہم نے اپنے ہیروز کو یاد رکھنے کے بجائے ان سے جان چھڑانے کا راستہ اختیار کیا، کیونکہ ان کی زندگی ہمیں آئینہ دکھاتی ہے ، اور ہم آئینہ دیکھنے کے موسم میں پیدا ہی نہیں ہوئے ، ہم نظریں چرانے کے عادی ہو چکے ہیں۔یہ اُمّہ سوئی کیوں ہے؟اس لیے نہیں کہ اسے جگانے والا کوئی نہیں ،بلکہ اس لیے کہ اسے بیدار ہونا ہی نہیں۔ہم نے سچ کو ایک خطرہ سمجھ لیا ہے۔ سچ بولنا اب جرأت نہیں، حماقت سمجھا جاتا ہے۔ جو صحافی سچ لکھتا ہے، اسے یا تو خاموش کرا دیا جاتا ہے یا پھر خرید لیا جاتا ہے۔ میڈیا، جو کبھی شعور کا چراغ تھا، اب مفادات کا بازار بن چکا ہے۔
یہاں حق کی آواز نہیں بکتی، بلکہ وہی بکتا ہے جو طاقتور سننا چاہتے ہیں۔کہاں ہیں آج کے شورش کشمیری؟کہاں ہیں وہ لوگ جو اقتدار کے ایوانوں میں کھڑے ہو کر کہہ سکیں کہ “تم غلط ہو”؟سچ یہ ہے کہ ہم نے ایسے لوگوں کی ضرورت ہی ختم کر دی ہے۔ ہمیں اب سچ کے سفیر نہیں، مفاد کے ترجمان چاہئیں ، ہمیں ایسے لکھاری نہیں چاہئیں جو ہمیں جھنجھوڑیں، بلکہ ایسے چاہئیں ، جو ہمیں سلا دیں۔ ہمیں ایسے رہنما نہیں چاہئیں جو ہمیں راستہ دکھائیں، بلکہ ایسے چاہئیں جو ہمارے اندھیرے کو جواز فراہم کریں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے اپنے اندر کے خوف کو اپنی تقدیر بنا لیا ہے۔ ہم حق کو جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں، ظلم کو دیکھ کر بھی نظریں چرا لیتے ہیں، اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ کوئی سید قطب کیوں نہیں آتا، کوئی اقبال کیوں نہیں اٹھتا۔
یاد رکھیے !سید قطب آسمان سے نہیں اترا تھا، وہ بھی اسی معاشرے کا فرد تھا۔ اقبال کسی اور سیارے سے نہیں آئے تھے، وہ بھی اسی مٹی میں پیدا ہوئے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے وقت کے خلاف سوچنے، بولنے اور کھڑے ہونے کی ہمت کی نہیں کی۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اس میں سب کچھ ہے ٹیکنالوجی، تعلیم، وسائل ،مگر وہ ایک چیز نہیں جو ان لوگوں کے پاس تھی: ضمیر کی آزادی۔ ہم نے اپنی سوچ کو گروی رکھ دیا ہے، اپنی زبان کو بند کر دیا ہے، اور اپنے قلم کو بیچ دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں ہر طرف خاموشی نظر آتی ہے ایک ایسی خاموشی جو چیخ رہی ہے، مگر کوئی سننے والا نہیں۔ہم کہتے ہیں کہ “کہاں سے لائیں ایسے لوگ؟”مگر ہم یہ نہیں پوچھتے کہ “کیوں نہیں بن سکتے ہم ایسے لوگ؟”یہ سوال دراصل ایک ذمہ داری ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ اس اُمّہ میں پھر سے کوئی اقبال پیدا ہو، کوئی سید قطب اٹھے، کوئی شورش کشمیری قلم اٹھائے، تو ہمیں اپنے اندر وہی آگ پیدا کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنی آسانیوں کو چھوڑنا ہوگا، اپنے خوف کا سامنا کرنا ہوگا، اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔ورنہ ہم یونہی سوال کرتے رہیں گے، اور تاریخ یونہی جواب دیتی رہے گی “تم نے خود کو بدلنے کی کوشش ہی نہیں کی، پھر تمہیں کوئی بدلنے والا کہاں سے ملتا؟
یہ اظہاریہ کسی مایوسی کا اعلان نہیں یہ ایک آئینہ ہے۔ اس میں اگر چہرہ بدصورت نظر آئے تو قصور آئینے کا نہیں ہوتا۔اُمّہ سوئی ہوئی نہیں ہے،اُمّہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔اور جب تک ہم آنکھیں کھولنے کا فیصلہ نہیں کریں گے، تب تک نہ کوئی سید قطب آئے ایسے لوگ پیدا نہیں کیے جاتے،ایسے لوگ بننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔امت مسلمہ سوئی ہوئی ہے،مکرو فریب جاگ رہا ہے ، کفر و الحاد جاگ رہا ہے، یہود و ہنوداور نصاری کی سازشیں پنپ رہی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں