Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بعد از مرگ زندہ رہنے والی محبت

رمضان المبارک مسلمانوں کے لئے دعائوں کے ذریعے اپنے رب کی رضا کو پالینے کا مہینہ ہے۔اسی ماہ معظم میں مسلمانوں کی کتاب قرآن کریم نازل ہوا۔ دعائوں کی حیثیت و ماہیت ہر غور کریں تو جسم روح کی تازگی اور سرشاری کے در پے در پے وا ہوتے چلے جاتے ہیں ۔یہ فقط دین اسلام پر ایمان رکھنے والوں کا معاملہ ہی نہیں ۔انسانی تاریخ کے طویل اور پیچیدہ سفر میں کچھ جذبے ایسے ہیں جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں۔ محبت، خوف، امید اور دعا ،یہ وہ عناصر ہیں جو ہر تہذیب، ہر مذہب اور ہر دور میں یکساں شدت کے ساتھ جلوہ گر رہے ہیں۔ انسان جب اپنی بے بسی کے آخری کنارے پر کھڑا ہوتا ہے، جب عقل کی تمام راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور تدبیر کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں، تب وہ دعا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ دعا، دراصل انسان کی اس داخلی صداقت کا اظہار ہے جو اسے اپنے خالق سے جوڑتی ہے۔ یہی دعا جب اپنے دائرے کو وسیع کرتی ہے تو زندہ انسانوں سے نکل کر مرحومین تک جا پہنچتی ہے۔ انسان اپنے پیاروں کو کھو دینے کے بعد بھی ان سے تعلق توڑ نہیں پاتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی محبت کسی نہ کسی صورت میں باقی رہے۔ یہی خواہش اسے دعا کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مختلف مذاہب اور تہذیبیں ایک دوسرے کے قریب آ کھڑی ہوتی ہیں۔عیسائی روایت میں Pope Gregory I سے منسوب گریگوریئن دعائیں اسی انسانی جذبے کا ایک منظم اور مقدس اظہار ہیں۔ یہ دعائیں خصوصاً مرحومین کے لیے پڑھی جاتی ہیں، اور ایک خاص ترتیب کے ساتھ، مسلسل 30 دنوں تک جاری رکھی جاتی ہیں۔ اس عمل میں ایک عجیب سا روحانی تسلسل پایا جاتا ہیگویا دعا کرنے والا اپنے مرحوم عزیز کے ساتھ ایک غیر مرئی رشتہ قائم رکھتا ہے، جو وقت کے بہا سے متاثر نہیں ہوتا۔
گریگورین دعائوں کا یہ تصور محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی اور روحانی عمل بھی ہے۔ جب کوئی شخص مسلسل دنوں تک اپنے کسی عزیز کے لیے دعا کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے اندر کے خلا کو بھرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے غم کو ایک مقدس قالب میں ڈھال دیتا ہے، اور یوں اس کا دکھ ایک عبادت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اگر ہم اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیں تو یہ تصور اور بھی موثر مضبوط صورت میں پایا جاتا ہے ۔ یہی جذبہ ایک نہایت سادہ مگر پراثر انداز میں موجود ہے۔ اسلام میں دعا اور ایصالِ ثواب کا تصور نہایت واضح اور براہِ راست ہے۔ کوئی شخص جب چاہے، جس وقت چاہے، اپنے مرحوم عزیز کے لئے دعا کر سکتا ہے۔ نہ کوئی خاص رسم، نہ کوئی مخصوص دن صرف دل کی سچائی اور نیت کی خلوص درکار ہے۔اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مرنے والوں کے لئے دعا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ باعثِ اجر بھی ہے۔ قرآن کریم میں اہلِ ایمان کی یہ دعا نقل کی گئی ہے کہ: اے ہمارے رب!ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ اور بعد از مرگ جب مسلمان مرد یا عورت کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے تو اس میں پڑھی جانے والی دعائیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ایک اہل ایمان کا رشتہ موت سے منقطع نہیں ہوتا، بلکہ دعا کے ذریعے قائم و دائم رہتا ہے۔یہاں ایک نہایت لطیف نکتہ بھی قابلِ غور ہے۔ عیسائی روایت میں گریگورین دعائیں ایک منظم اور اجتماعی صورت میں ادا کی جاتی ہیں، جبکہ اسلام میں دعا کا عمل زیادہ انفرادی اور غیر رسمی ہے۔ لیکن ان دونوں کے باطن میں ایک ہی جذبہ کارفرما ہے،اپنوں کے لئے خیر خواہی، مغفرت کی طلب، اور ایک ایسی امید جو موت کے اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کرتی ہے۔
دعا دراصل انسان کے اس یقین کا نام ہے کہ کائنات میں ایک ایسی قوت موجود ہے جو سننے والی بھی ہے اور جواب دینے والی بھی۔ یہی یقین انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب وہ اپنے کسی عزیز کی قبر کے کنارے کھڑا ہوتا ہے، جب وہ اس کی یاد میں آنسو بہاتا ہے، تب دعا اس کے دل کو سہارا دیتی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اب بھی کچھ کر سکتا ہے ،وہ اب بھی اپنے پیارے کے لئے خیر مانگ سکتا ہے۔یہی احساس دل کی تسلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انسان کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اس کی محبت رائیگاں نہیں گئی، بلکہ وہ ایک نئی شکل میں زندہ ہے۔دعا کی صورت میں، صدقہ کی صورت میں، نیکی کی صورت میں۔اگر ہم نفسیاتی زاویے سے دیکھیں تو دعا ایک طرح کا تزکیہ نفس بھی ہے۔ یہ انسان کے اندر جمع شدہ غم، احساسِ محرومی اور بے بسی کو ایک مثبت راستہ فراہم کرتی ہے۔ وہ اپنے دکھ کو لفظوں میں ڈھال کر خدا کے حضور پیش کرتا ہے، اور یوں اس کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔
آج کے مادیت زدہ دور میں، جہاں ہر چیز کو ناپنے اور تولنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، دعا جیسے اعمال کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان محض جسم نہیں، بلکہ ایک روح بھی ہے اور روح کی تسکین مادی ذرائع سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے دعا میں ذکر اور روحانی تعلق ہی درکار ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے مرحوم عزیز کے لیے دعا کرتا ہے تو اسے ایک عجیب سا سکون ملتا ہے۔ گویا اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو، گویا اس نے اپنے پیارے کے ساتھ ایک خاموش مکالمہ کر لیا ہو۔ دعا، خواہ وہ گریگورین روایت میں ہو یا اسلامی تعلیمات کے مطابق، دراصل انسان کی اس ازلی پیاس کا جواب ہے جو وہ اپنے رب سے قربت کی صورت میں بجھانا چاہتا ہے۔ یہ محبت کا وہ استعارہ ہے جو موت کی سرحدوں کو بھی عبور کر جاتا ہے اور شاید یہی دعا کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ یہ ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ محبت کبھی نہیں مرتی،وہ صرف دعا میں ڈھل جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں