Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

صدقہ فطر غربت کے زخموں پر مرہم

رمضان المبارک جب اپنی آخری ساعتوں میں داخل ہوتا ہے تو فضا میں ایک عجیب سی اداسی اور سرشاری بیک وقت محسوس ہوتی ہے۔ عبادتوں کی لذت ابھی باقی ہوتی ہے مگر جدائی کا احساس دل کو بوجھل کر دیتا ہے۔ ایسے ہی لمحات میں اسلام ہمیں ایک نہایت بامعنی عمل کی طرف متوجہ کرتا ہے،صدقہ فطر۔ یہ محض ایک مالی ادائیگی نہیں بلکہ ایک ایسا انسانی فریضہ ہےجو معاشرے کے ٹوٹےہوئے دلوں کو جوڑنے اور غربت کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں خوشحالی اور محرومی ایک ہی گلی میں رہتی ہیں۔ ایک گھر میں عید کی تیاریوں کا شور ہے تو دوسرے گھر میں خاموشی کا راج۔ کہیں نئے کپڑوں کی خوشبو ہے تو کہیں بچوں کی حسرت بھری نظریں۔ یہ تضاد صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی سوال بھی ہے ,کیا ہم نے واقعی اپنے اردگرد کے انسانوں کو محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے؟صدقہ فطر اسی احساس کو بیدار کرنے کا نام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عید صرف ہماری نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی بھی ہے جو وسائل سے محروم ہے۔ اس کی ادائیگی کا اصل مقصد یہی ہے کہ کوئی بھی شخص عید کے دن بھوکا نہ رہے، کسی کو مانگنے کی نوبت نہ آئے، اور ہر چہرے پر خوشی کی رمق نظر آئے۔مگر افسوس کہ ہم نے اس عظیم فریضے کو بھی سہولت کی نذر کر دیا ہے۔ ہم نے اسے مختلف تنظیموں، اداروں اور گروہوں کے حوالے کر دیا ہے اور خود کو مطمئن کر لیا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔
بلاشبہ ان اداروں میں بہت سے لوگ خلوص کے ساتھ خدمت انجام دے رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس عمل کی روح کو سمجھا ہے؟صدقہ فطر کی اصل روح براہِ راست تعلق میں پوشیدہ ہے۔ جب آپ اپنے ہاتھوں سے کسی ضرورت مند کے دروازے پر دستک دیتے ہیں، اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہیں، اور خاموشی سے اس کی مدد کرتے ہیں، تو یہ عمل صرف مالی امداد نہیں رہتا بلکہ ایک جذباتی اور روحانی تجربہ بن جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہےجب دینےوالا بھی بدلتا ہے اور لینے والا بھی عزت کے ساتھ جیتا ہے۔ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو سفید پوش ہیں۔ وہ نہ سوال کرتے ہیں، نہ اپنی غربت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے گھروں میں فاقے بھی ہوتے ہیں اور صبر بھی۔ ان کے بچے بھی عید کے کپڑوں کے خواب دیکھتے ہیں مگر زبان پر کوئی شکوہ نہیں لاتے۔ ایسے لوگوں تک رسائی کسی تنظیم کے لیے آسان نہیں ہوتی، مگر آپ کے لیے ممکن ہے کیونکہ آپ ان کے پڑوسی ہیں، ان کے ہمسائے ہیں، ان کے معاشرتی دائرے کا حصہ ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے صدقہ فطر پہنچانے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے معاشرتی رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ دلوں میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے، نفرتیں کم ہوتی ہیں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس میں انسان انسان کے قریب آتا ہے۔ یہ عمل ہمیں صرف دینے والا نہیں بناتا بلکہ ہمیں ایک حساس اور باشعور فرد بناتا ہے۔
مزید برآں، جب ہم خود مستحقین کی تلاش کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصل ضرورت کہاں ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کون زیادہ حق دار ہے، کس کی ضرورت فوری ہے، اور کس کی مدد سے ایک گھر میں خوشی لوٹ سکتی ہے۔ یوں صدقہ فطر ایک با مقصد اور موثر عمل بن جاتا ہے، نہ کہ محض ایک رسمی ادائیگی۔یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ اسلام نے صدقہ فطر کو عید سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی ہے تاکہ مستحقین بروقت فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر ہم اسے محض آخری لمحے کی ذمہ داری سمجھ کر ادا کریں گے یا کسی ادارے کے سپرد کر کے مطمئن ہو جائیں گے تو اس کی تاثیر کم ہو جائے گی۔ہمیں چاہیے کہ اس بار عید سے پہلے ایک لمحہ رک کر اپنے اردگرد نظر ڈالیں۔ اپنے محلے کی گلیوں میں جھانکیں، ان دروازوں کو پہچانیں جہاں خاموشی بسی ہوئی ہے۔ ان چہروں کو تلاش کریں جو مسکراہٹ کے پیچھے اپنی محرومی چھپا رہے ہیں۔ اور پھر بغیر کسی نمود و نمائش کے، خاموشی سے، عزتِ نفس کاخیال رکھتےہوئے،اپنا صدقہ فطر ان تک پہنچائیں۔یہ عمل شاید وقتی طور پر مشکل لگے، مگر اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف کسی ایک دن کی خوشی فراہم کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ایک مثبت رویہ بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ہونا صرف اپنے لیے جینا نہیں بلکہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنا بھی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صدقہ فطر ایک ایسا نرم لمس ہے جو غربت کے زخموں کو سہلاتا ہے، ایک ایسا پیغام ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، اور ایک ایسی روشنی ہے جو اندھیروں میں امید جگاتی ہے۔ اگر ہم اسے اپنے ہاتھوں سے ادا کریں تو یہ محض ایک فریضہ نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ احساس بن جاتا ہے ایسا احساس جو معاشرے کو انسانیت کے قریب لے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں