مظہر سلیم مجوکہ اور ادب لطیف
اس دورِ بے اماں میں جب کتاب کی طرف کوئی پلٹ کر نہیں دیکھتا، شعر و ادب کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی اور مطالعہ موبائل کی اسکرین پر سکڑ کر رہ گیا ہے، تب بھی کچھ لوگ ہیں جو
اس دورِ بے اماں میں جب کتاب کی طرف کوئی پلٹ کر نہیں دیکھتا، شعر و ادب کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی اور مطالعہ موبائل کی اسکرین پر سکڑ کر رہ گیا ہے، تب بھی کچھ لوگ ہیں جو
اس حقیقت سے انحراف نہیں کہ کمزور ریاستیں اکثر عالمی شطرنج کی بساط پر مہرے بن جاتی ہیں۔ افغانستان بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہے جو گزشتہ نصف صدی سے معتدبہ پراکسی لڑائیوں میں مصروف ہے ۔ ایک طرف وہ
وسعت اللہ خان کے ایک شعلہ بار کالم ’’میں شیعوں کا کیا کروں ؟‘‘کے جواب میں ۔ لفظ کبھی کبھی تلوار سے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ وہ چرکہ جو ایک خنجر سے نہیں لگایا جا سکتا ، ایک جملہ
سیاست کے موسم کبھی یکساں نہیں رہتے۔ کبھی لفظ نرم پڑ جاتے ہیں، کبھی لہجے میں خنکی آ جاتی ہے اور کبھی ایک جملہ پورے منظرنامے کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری
دنیا کی سیاست کبھی کبھی ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں ایک چنگاری پورے افق کو خاکستر بنا سکتی ہے۔ اس وقت عالمی منظرنامہ ایک بار پھر اسی دہانے پر محسوس ہوتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ایران
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور ایثار کا مہینہ ہے۔ یہ وہ ماہ معظم ہےجب آسمان کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں میں التجا بھی ہوتی ہے اوردلوں میں انسانیت کا درد بھی، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرےمیں یہ مہینہ روحانی مسرت
پاکستانی سیاست میں یہ ایک دلچسپ موڑ ہے کہ روایتی مردانہ سیاسی فضا میں ایک خاتون رہنما عملی حکمرانی کے میدان میں اتر کر اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بارے
پاکستانی سیاست میں واقعات یا مناظر کے یک لخت یا دفعتاً بدلنے کا عمل پہلی بار رونما نہیں ہوا۔ مناظر بھی ایسے کہ دیکھنے والا آنکھیں ملتا رہ جائے کہ یہ وہی اسٹیج ہے یا پردے کے پیچھے کوئی اور
دوہری حکمتِ عملی پی پی پی کی وقتی سیاست نہیں بلکہ مستقل مزاج بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں حکومت کی مجوزہ سولر پالیسی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات اور تعاون واپس لینے کی دھمکی اسی سیاسی روش کی تازہ
(گزشتہ سے پیوستہ) عوام کے دلوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ مذہبی زبان دراصل سیاسی مفاد کا پردہ ہے۔اس صورت میں مذہب طاقت کو مہذب بنانے کے بجائے طاقت کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ لوگ دین سے