Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

کیاانسانیت اپنا ہی مرثیہ لکھنے کےدرپے ہے؟

یہ کیسا وقت ہے کہ زمین اپنی ہی گردش سے ڈرنے لگی ہے۔آسمان، جو کبھی نیلا اور بے کنار تھا، اب دھوئیں کے بوجھ سےجھک گیا ہے۔بادل بارش نہیں لاتے، راکھ برساتی ہوا کے دوش پر بہتے ہیں۔فضا میں بارود کی بو ہے اور دلوں میں قیامت کی آہٹ۔انسان سہما ہوا ہے ، وہی انسان جس نے کہکشاں کو ناپا، سمندروں کی تہہ میں چراغ جلائے، آج اپنی ہی تخلیق کے سامنے لرز رہا ہے۔ا س کے ہاتھوں کی حرارت سرد پڑ گئی ہے، آنکھوں کی روشنی خوف کے سائے میں مدھم ہے۔پرندے دم سادھے ہوئے ہیں،شاخیں ان کے بوجھ سے نہیں، سکوت سے جھکی ہیں۔جنگل کی سانس رک گئی ہے،دریائوں کی روانی میں بھی ایک ٹھہرائو ہےجیسے پانی بھی آنے والےالمیے کی خبر سن چکا ہو۔یہ کیسا سکوت ہے؟ یہ وہ خاموشی نہیں جو عبادت گاہوں میں اترتی ہے، یہ وہ سناٹا ہے جو قبروں کے درمیان چلتا ہے۔ہر سمت ایک ہی کیفیت ہے جیسے وقت نےخود کو روک لیا ہو،جیسے لمحوں کی نبض تھم گئی ہو۔رشتوں کی پہچان تو پہلے ہی کہیں کھو گئی تھی،اب انسان اپنی شناخت بھی بھولنے لگا ہے۔چہرے باقی ہیں مگر معنی کھو گئے،نام موجود ہیں مگر نسبتیں مٹ گئیی ہیں ۔ آئینے میں جھانکتے ہوئے۔ آدمی اپنے ہی وجود سے اجنبیت محسوس کرتا ہے۔
ہماری آنکھوں میں ہر منظر بچشمِ تر ہے جلتے ہوئے شہر،پگھلتے ہوئے خواب،اور ماں کی دعائیں جو آسمان تک پہنچنے سے پہلے ہی راکھ ہو گئیں۔بچوں کی ہنسی، جو کبھی زندگی کی دلیل تھی،اب ایک سوال بن کر فضا میں معلق ہے۔کسےخبر ہے؟کسے خبر ہے کہ لحظہ لحظہ سب گھروندے لرزرہے ہیں؟دیواریں ابھی کھڑی ہیں مگر بنیادیں کانپ رہی ہیں،چھتیں سلامت ہیں مگر آسماں ٹوٹنے کو ہے۔ہر گھر ایک بےانتظار کی سلیب پر چڑھا ہے،ہر دروازہ ایک آخری دستک کی آہٹ سن رہا ہے۔
ایٹمی ہتھیار یہ لفظ نہیں، ایک سایہ ہے، بھیانک سایہ جو زمین کے گرد لپٹا ہوا ہے۔ایک کی تپش یہ وہ آگ ہے جو جلنے سے پہلے ہی راکھ کر دینے کے خوف میں مبتلا کئے ہوئے ہے، یہ وہ قیامت ہے جو اعلان سے پہلے نازل ہو جاتی ہے۔کہتے ہیں قیامت کا ایک دن مقرر ہے،مگر انسان نے قیامت کو اپنی جیب میں رکھ لیا ہے۔ایک بٹن، ایک لمحہ، ایک فیصلہ اور صدیوں کی تہذیب ایک چنگاری میں تحلیل۔کتنی مختصر ہو گئی ہے بقاء کی مہلت، کتنا طویل ہو گیا ہے فنا کا اندیشہ۔
اے انسان!تو نے علم کو طاقت بنایا،طاقت کو غرور اور غرور کو فنا کا راستہ۔تو نے ستاروں تک رسائی حاصل کی،مگر اپنے دل کی تاریکی کو نہ جیت سکا۔تو نے زمین کو فتح کیا،مگر اپنے خوف سے ہار گیا۔یہ مرثیہ صرف موت کا نہیں،یہ زندگی کے زوال کا نوحہ ہے۔یہ ان خوابوں کا ماتم ہے جو ابھی آنکھوں میں ہی تھے کہ جل کر خاکستر ہو گئے۔یہ ان دعائوں کی شکست ہےجو دلوں سے اٹھیں مگر آسمان تک نہ پہنچ سکیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ کی کتابیں بھی راکھ ہو جائیں،اور آنے والی نسلیں کسی ویران سیارے کی مٹی میں ہماری ہڈیوں کی گرد تلاش کرتی پھریں،کہیں ایسا نہ ہوکہ زبانیں باقی رہیں مگر لفظ نہ باقی نہ رہیں اور اگرلفظ رہ جائیں تو انسان نہ رہیں۔شاید یہ آخری مرثیہ ہو ، آخری نوحہ جو زمین خود اپنے لیے لکھے میں محو لگتی ہے۔شاید یہ وہ لمحہ ہے جب کائنات اپنی سانس روک کر دیکھ رہی ہے کہ انسان اپنے انجام کا انتخاب کیسے کرتا ہے۔اگر ابھی بھی وقت ہو تو اس دھوئیں میں ایک چراغ جلایا جا سکتا ہے،اس خوف میں ایک دعا بوئی جا سکتی ہے ورنہ آنے والی خاموشی اتنی گہری ہوگی کہ مرثیے بھی بے صدا ہو جائیں گے اور اگر واقعی یہ آخری مرثیہ ہے تو اسے سن لو ،یہ صرف الفاظ نہیں،یہ زمین کی دھڑکنیں ہیں جو آخری بار انسان کے نام پکار رہی ہیں ،اپنا وجود بچا لینے کے راگ الاپ رہی ہیں ۔ کیا عقل اورعقل کے ناخن دو نوں کہیں غیب ہوگئے ہیں؟ سب کو اپنی اپنی فکر ؟ کوئی کسی کا ہم درد و غم خوار نہیں ،کیا میدان حشر برپا ہے ؟ یہ سب کیا ہے ؟ایک رستہ خیز ،وہ جس کا ذمہ رب نے لیا تھا ہم خود اس کی جانب بڑھتے چلے جا رہے ،ہم غم کو خود گلے لگانے کی جستجو میں ہیں ؟

یہ بھی پڑھیں