Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

راکھ میں دبی عربی و عجمی تعصب کی چنگاری

تاریخ انسانی کے سینے میں بہت سے زخم ایسے ہیں جو بظاہر مندمل دکھائی دیتے ہیں مگر اندر ہی اندر سلگتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی حادثہ، کوئی سیاسی کشمکش یا فکری اختلاف ان زخموں کو پھر سے تازہ کر دیتا ہے،بس ایک زہر میں بجھے تیر ہی کی تو ضرورت ہوتی ہے جو نامانوس واسطے سے آتا ہے اور صدیوں پرانی راکھ میں دبی چنگاری پھر سے ایک ایسی آگ کا روپدھار لیتی ہے جس کی لپٹوں سے عالم اسلام جھلس اٹھتاہے عربی و عجمی تعصب بھی تاریخ کی ایسا ہی ایک آگ ہے جس کی لپٹیں اگرچہ کبھی مدہم پڑ جاتی ہیں، مگر اس کی راکھ میں دبیایک چنگاری بھی فضاء کو مسموم کر کے رکھ دیتی ہے۔اسلام سے قبل عرب و عجم ایک واضح عصبیت کا نام تھا۔ جو اپنی اپنی تہذیبی برتری پر نازاں تھااور یہی وہ زمانہ تھا جسے قرآن نے جاہلیت کا نام دیا۔ اسلام کی آمد نے اس تعصب کے بت توڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ رسول اکرم ﷺ نے خطبہ حج الوداع میں اعلان فرمایا،کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقوی کے۔یہ اعلان دراصل انسانی تاریخ کا ایک عظیم ترین انقلابی منشور تھا۔ اس نے نسل، زبان اور قومیت کی تمام بت زمیں بوس کر دیئے۔ انسان کو صرف انسان کی بنیاد پر پہچاننے کا سبق دیا۔ ابتدائی اسلامی معاشرہ اسی اصول پر قائم ہوا۔ بلال حبشیؓ، سلمان فارسیؓ اور صہیب رومی جیسے غیر عرب صحابہؓ کو وہ عزت اور مقام حاصل ہوا جو اس سے پہلے دنیا کے کسی معاشرے میں ایک غلام یا غیر ملکی کو نصیب نہیں ہوا تھا۔مگر انسانی فطرت کی کمزوری یہ ہے کہ وہ پرانی عصبیتوں کو آسانی سے ترک نہیں کرتی۔
اسلام کی تعلیمات کے باوجود عرب اور عجم کے بیچ نسلی برتری کا احساس دبا ضرور مرا نہیں جب خلافت راشدہ کے بعد اسلامی سلطنت وسیع ہوئی اور اس میں ایران، شام، مصر اور وسطی ایشیاء کی اقوام شامل ہوئیں تو عرب و عجم کا مسئلہ ایک نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہو گیا۔اموی دور میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوا۔ عرب حکمران طبقہ اکثر خود کو سیاسی اور سماجی اعتبار سے برتر سمجھتا تھا، جبکہ نو مسلم عجمی اقوام کو بعض اوقات دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا تھا۔ اسی ماحول میں موالی کا تصور پیدا ہوا۔ موالی دراصل وہ غیر عرب مسلمان تھے جو عرب قبائل کے ساتھ وابستہ ہو کر اسلامی معاشرے میں مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس صورت حال نے عجمی اقوام میں احساس محرومی کو جنم دیا۔عباسی انقلاب کو بعض مورخین اسی کشمکش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ عباسی تحریک میں ایرانی عناصر کا کردار بہت اہم تھا۔ جب عباسی اقتدار قائم ہوا تو اس نے عرب بالادستی کے تصور کو کسی حد تک متوازن کر دیا۔ بغداد کا علمی و ثقافتی ماحول اس بات کی گواہی تھا کہ اسلامی تہذیب دراصل عرب و عجم کے مشترکہ تعاون کا نتیجہ ہے۔اسی دور میں ایک فکری تحریک بھی سامنے آئی جسے شعوبیہ کہا جاتا ہے۔ شعوبیہ کے مفکرین کا خیال تھا کہ عربوں کی نسلی برتری کا دعوی غیر اسلامی ہے۔ وہ ایرانی تہذیب، زبان اور ثقافت کی برتری یا کم از کم مساوات پر زور دیتے تھے۔ عرب ادیبوں اور شعراء نے اس کے ردعمل میں عرب فضیلت کے قصیدے لکھے۔ اس طرح ایک ادبی اور فکری مناظرے کی فضا پیدا ہو گئی۔یہ کشمکش اگرچہ بظاہر علمی اور ادبی تھی، مگر اس کے پیچھے سیاسی اور سماجی محرکات بھی کارفرما تھے۔ عرب شاعر اپنی قبائلی شان و شوکت کا ذکر کرتے اور عجمی مفکرین ایران کی قدیم تہذیب کی عظمت بیان کرتے۔ یوں زبان، ادب اور تاریخ کے میدان میں ایک خاموش جنگ جاری رہی۔ تاہم اس تمام کشمکش کے باوجود اسلامی تہذیب کا حسن یہی تھا کہ اس نے بالآخر اس تنوع کو اپنی قوت بنا لیا۔ عربوں نے قرآن و حدیث کی حفاظت اور عربی زبان کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کیا، جبکہ عجمی اقوام نے فلسفہ، سائنس، طب، ریاضی اور ادب میں حیرت انگیز کارنامے انجام دئیے۔اگر ہم اسلامی تاریخ کے بڑے ناموں پر نظر ڈالیں تو ہمیں اس امتزاج کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ حدیث کے عظیم محدثین، فقہ کے امام، فلسفے کے مفکر اور سائنس کے موجد اکثر عجمی پس منظر رکھتے تھے۔ دوسری طرف عرب علماء نے دینی علوم کی بنیادیں مضبوط کیں۔ یوں علم کی اس عظیم عمارت کی اینٹیں مختلف اقوام کے ہاتھوں سے جڑتی رہیں۔
اندلس کی تہذیب اس ہم آہنگی کی ایک شاندار مثال تھی۔ قرطبہ، غرناطہ اور اشبیلیہ کے علمی مراکز میں عرب، بربر، ایرانی اور مقامی ہسپانوی مسلمان ایک ہی علمی روایت کے وارث بن گئے تھے۔ اسی تہذیبی امتزاج نے یورپ کو نشا ثانیہ کی طرف مائل کیا۔لیکن تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ انسان اکثر اپنی عظیم روایات کو فراموش کر دیتا ہے۔ جدید دور میں جب قومیت اور نسلی شناخت کے نظریات نے زور پکڑا تو عرب و عجم تعصب نے ایک نئے روپ میں آنکھ کھولی۔ بعض حلقوں میں عربیت کو دینی تقدس کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جانے لگا، جبکہ کچھ عجمی معاشروں میں عرب ثقافت کے مقابلے میں اپنی قومی شناخت پر زور دیا گیا۔یہ صورت حال دراصل اس پیغام کے برعکس تھی جو اسلام نے انسانیت کو دیا تھا۔ اسلام کا اصل پیغام یہ تھا کہ انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق اور تقوی میں ہے، نہ کہ اس کی زبان یا نسل میں۔ قرآن نے مختلف ا قوام اور قبائل کی تخلیق کو تعارف کا ذریعہ قرار دیا، برتری کا معیار نہیں۔آج جب ہم مسلم دنیا کی حالت پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ عربی و عجمی تعصب کی وہی پرانی چنگاریاں ابھی تک کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ کبھی یہ چنگاریاں فکری مباحث میں نظر آتی ہیں، کبھی مذہبی تعبیرات کے اختلاف میں اور کبھی سیاسی اتحادوں کی صورت میں۔ حالانکہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کی قوت ہمیشہ اس وقت بڑھی جب انہوں نے اپنے تنوع کو قبول کیا اور اسے تخلیقی قوت میں بدل دیا۔اسلامی تہذیب کی اصل روح یہی تھی کہ مختلف قومیں ایک مشترکہ اخلاقی اور روحانی اصول کے تحت متحد رہتیں۔ بغداد کی بیت الحکمت، بخارا کے مدارس، سمرقند کی رصدگاہیں اور قرطبہ کے کتب خانے اسی روح کا مظہر ٹھہرتی وہاں کسی عالم سے اس کی قومیت نہ پوچھی جاتی بلکہ اس کے علم اور کردار کو دیکھا جاتا ۔ ہم تاریخ کے اصل اسباق کو بھول گئے۔ عربی و عجمی تعصب کی راکھ کو خود ناں بھی کریدامگر مفادات کے پردوں اورچلب منفعت کے نشے اور تہذیبی تفاخر کے زعم میں اقوام مغرب کے ہاتھ کے کھلونے بن گئے ۔ اندر ہی اندر تعصب کی راکھ میں چھپی چنگاری سلگتی رہی۔جس نے عرب و عجم کی تہذیبی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ۔ قرآن کا عظیم پیغام پیچھے رہ گیا ، اسلام کی عظمت سے روگردانی ہوئی ،تہذیبیں فرقوں میں بٹ گئیں ،اسلامی تاریخ کا تصور کسی اور پیرائے میں ڈھل گیا ۔یہ یہود و ہنود اور نصاری کی سازش ہے کہ عرب و عرب و عجم ایک دوسرے سے بر سرپیکار ہیں ۔ عرب و عجم کے تہذیبی تعصبات ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ عرب کی روحانیت اور عجم کی ذہانت ایک دوسرے پر فوقیت اور سبقت میں مر مٹ رہے ہیں اسلامی تہذیب کا علم و حکمت کا وہ چراغ جس کی روشنی صدیوں تک دنیا کو منور کرتی رہی اس کی لو ٹمٹمانے کے خوف میں ہے ۔عجم اپنے تعصب کی آگ پر قابو پانے سے قاصر ہے ۔عصبیتیں کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہوں ، عصبیتیں ہی رہتی ہیں اور اسی آڑ میں طاغوت طاقتور ہوتا چلا جا رہا ہے ۔یہ فکری زوال کا سب سے بڑا المیہ ہے جو مسلم امہ کے بیچ راکھ کے ڈھیر کو بجھنے نہیں دے رہا۔

یہ بھی پڑھیں