Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

گھٹی گھٹی سی فضائوں میں زندگی چپ ہے !

دنیا کی تاریخ میں ایسے ادوار بارہا آئے جب طاقت کے نشے میں مست حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی بقاء کے لئے انسانیت کی تقدیس کو روند ڈالا۔ مگر ہمارے عہد کی المیہ داستان اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ آج انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی معراج تو حاصل کرلی ہے، مگر اس کی روح آج بھی بے چین و مضطرب ہے ،بے سکون و بدحال ،ہر پر محو ملال ہے۔ زمین پر بدامنی کا عالم اسے راحت سے محروم رکھے ہوئے ہے ۔ اس کے چاروں اور کشت و خون کا کھیل کھیلا جارہا ہے ،ہر سو جنگ کے طبل بج رہے ہیں،تباہی و بربادی کا سماں ہے۔عالمی طاقتیں انسانیت کے محافظ ہونے کا دعویٰ تو کرتی ہیں، لیکن ان کے خزانے مہلک ہتھیاروں کے انبار لگانے میں صرف ہو رہے ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جہاں ترقی کی روشنی کے ساتھ ساتھ بارود کے بادل بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔انسانی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی اقتدار ظالم ہاتھوں میں جاتا ہے تو انسانیت کا چہرہ لہو لہان ہو جاتا ہے۔ ایسے حکمران اپنے اقتدار کے ایوانوں میں عیش و عشرت کے شب و روز بسر کرتے ہیں، مگر ان کے فیصلوں کی قیمت عام انسان اپنی جانوں سے ادا کرتا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے دارالحکومتوں میں بیٹھے ہوئے پالیسی ساز جب جنگ کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کے ایک فیصلے سے کتنی ماں کی گودیں اجڑ جائیں گی، کتنی سہاگنوں کے سہاگ لٹ جائیں گے ،کتنے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے گا، کتنی آنکھوں کے خواب لٹ جائیں گے اور کتنے گھر ملبے کے ڈھیر بن جائیں گے۔یہ کیسا عجیب تضاد ہے کہ دنیا میں بھوک، غربت اور بیماری کے خاتمے کے لئے وسائل ناکافی بتائے جاتے ہیں، مگر ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کھربوں ڈالر یر سال کے بجٹ میں تباہ کن اور مہلک ہتھیاروں کے لئے مختص کئے جاتے ہیں۔ جدید دنیا کا یہ رویہ انسانیت کے لیے ایک دردناک طنز ہے۔ اگر یہی دولت انسانوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ کی جائے تو شائد زمین جنت کا نمونہ بن جائے،مگر افسوس کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو امن کی خاموش خوشبو سے زیادہ بارود کی پت شور بد بو پسند ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کے حکمرانوں کے دلوں میں انسانیت کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔
اقتدار کی ہوس اور عالمی بالادستی کی خواہش نے انہیں اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ انہیں انسان کی جان کی حرمت کا احساس بھی باقی نہیں رہا۔ ان کے لئے جنگ محض ایک سیاسی حکمت عملی ہے، ایک سفارتی کھیل ہے، مگر اس کھیل کی قیمت لاکھوں انسانوں کی جانیں ہوتی ہیں۔ یہ وہ المیہ ہے جس پر تاریخ بھی ماتم کرتی ہے اور انسانیت بھی۔جنگوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی توپیں بولتی ہیں تو انسانیت خاموش ہو جاتی ہے۔ بارود کی گرج میں انسانی آہوں کی آواز یں دب جاتی ہیں۔ شہر ویرانوں کا روپ دھار لیتے ہیں ، بستیاں اجڑ جاتی ہیں اور سپنوں کے محل خاکستر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا واقعی انسان نے اپنی عقل و دانش کا استعمال اسی دن کے لیے کیا تھا؟ کیا سائنس کی تمام ترقی کا مقصد صرف تباہی کے مزید مہلک طریقے ایجاد کرنا تھے ؟عالمی سیاست کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ظالم حکمرانوں کے لیے یہ لمح فکریہ ہے ۔ تاریخ طاقت کے نشے میں مست حکمرانوں کو معاف نہیں کرتی۔ فرعون اور نمرود کے محلات آج صرف داستانوں میں باقی ہیں، مگر ان کے ظلم کی کہانیاں آج بھی انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔ یہی انجام ہر اس حکمران کا مقدر بنتا ہے جو انسانیت کو روند کر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔آج کی دنیا میں سب سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ انسانیت مسلسل مرثیہ بن کر رہ گئی ہے۔ کہیں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، کہیں مہاجرین کے قافلے دربدر ہیں، کہیں بچے ملبے کے ڈھیروں میں اپنے کھلونے تلاش کر رہے ہیں اور کہیں مائیں اپنے لخت جگر کے جنازوں پر نوحہ کناں ہیں۔ یہ منظر کسی ایک خطے یا ایک قوم کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ مقدر بن چکا ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے حکمرانوں نے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ ان کے لئے انسان صرف اعداد و شمار بن کر رہ گئے ہیں۔
جنگی رپورٹوں میں مرنے والوں کی تعداد محض ایک ہندسہ ہوتی ہے، مگر اس ہندسے کے پیچھے کتنی زندگیاں، کتنے خواب اور کتنی امیدیں دفن ہو جاتی ہیں، اس کا احساس اقتدار کے سنگ دل ایوانوں میں محسوس نہیں کیا جاتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے حکمران اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں۔ اگر وہ واقعی انسانیت کے خیر خواہ ہیں تو انہیں ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا ہوگا۔ انہیں اپنے وسائل کو انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں، بلکہ وہ نئے مسائل کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ امن صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک انسانی ضرورت ہے۔ جب تک دنیا میں انصاف، مساوات اور انسانی وقار کا احترام نہیں ہوگا، اس وقت تک امن کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔ دنیا کے حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ طاقت کا اصل مقصد انسانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دینا۔اگر انسانیت کو واقعی بچانا ہے تو دنیا کو بارود کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ حکمرانوں کو اپنے دلوں میں انسانیت کے لئے جگہ پیدا کرنی ہوگی۔ انہیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہے مگر انسانیت ابدی قدر ہے۔ جو حکمران اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں، تاریخ انہیں عبرت کی داستان بنا دیتی ہے۔آج بھی وقت ہے کہ دنیا کے حکمران رک جائیں، اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں اور انسانیت کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولیں جہاں امن صرف ایک خواب اور انسانیت فقط لغت میں لکھے ایک لفظ کے سوا کچھ نہ ہوگا۔زمین ابھی بھی انسانوں کے لیے محبت اور امن کا پیغام دے رہی ہے۔ اس کے دامن میں زندگی کی بے شمار نعمتیں موجود ہیں۔ اگر انسان اپنے دلوں سے نفرت، لالچ اور اقتدار کی اندھی ہوس کو نکال دے تو یہی زمین جنت بن سکتی ہے۔ مگر اگر یہی روش جاری رہی تو شاید تاریخ کے صفحات پر ہمارے عہد کا ذکر اس طرح کیا جائے گا کہ ایک دور تھا جب انسان نے اپنی ہی بنائی ہوئی آگ میں انسانیت کو جلا ڈالا۔آج گھٹی ہوئی فضائوں میں زندگی چپ ہے ،موت دندنا رہی ہے ۔آخر کب تلک یہ فضا طاری رہے گی ؟ کب تلک بارود کی زہرناک بد بو نئی نسل کا مقدر بنیرہے گی ،کب تک ؟ ؟ ؟ کب تک گٹھی گٹھی دی فضائوں میں زندگی چب رہے گی ؟

یہ بھی پڑھیں