بعض لوگوں کو گفتگو کے فن پر دسترس ہوتی ہے وہ جب بولتے ہیں تو ان کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں میں پرو فیسر ڈاکٹر اکرم چوہدری کا نام بھی شامل ہے ،آٹھ سال تک سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے ۔تاریخ اسلام ان کا بنیادی سبجیکٹ ہے مگر اردو ،انگریزی اور فارسی شعر و ادب ہو یا لسانیات اس پر بھی خوب بات کرتے ہیں ۔گزشتہ دنوں ’’قرآن مجید ایک انقلابی کتاب‘‘کے موضوع پر انہوں نے یورپی ماہر لسانیات Palmerکا ذکر کرتے ہوئے الفاظ کے معنی کا ذکر کرتے قدیم یا کلاسیکل حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’زبان فقط اظہار کا ذریعہ نہیں ،تہذیب کا حافظہ بھی ہیں ۔ لفظ محض آواز نہیں ہوتے ،وہ زمانوں کا حساب و کتاب اپنے دامن میں سمیٹے رکھتے ہیں ہم جب بولتے ہیں تودراصل تاریخ کی ایک لمبی زنجیر کی آخری کڑی کو حرکت دیتے ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ بعض الفاظ ہمیں بظاہر سادہ دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے باطن میں صدیوں کی معنوی کشمکش چھپی ہوتی ہے ۔الفاظ کی تقدیرعجیب ہے ، وہ حقیقت میں وہی رہتے ہیں مگر معنی بدلتے رہتے ہیں ۔‘‘ڈاکٹر صاحب کئی الفاظ کے قدیم اور جدید معنی بتائے مثلاً انگریزی لفظ Niceجس کے معنی ’’عمدہ یا اچھا‘‘کے ہیں کلاسیکل انگریزی میںاس کے معنی بالکل الٹ یعنی گھٹیا ،جاہل یا نادان ’’کے ہیں ۔‘‘ یہ بدیہی حقیقت ہے کہ ایک لفظ کبھی تقدیس سے ابتذال کے معنی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور کبھی حقارت سے عزت کا جامہ پہن لیتا ہے ۔
یہ تبدیلیاں ہمیں زبان کے نہیں بلکہ انسانی شعور کے ارتقاء سے ہمیں آشناکرتی ہیں ۔اسے لسانیات میں Semantic Sift کہا جاتاہے۔مثال کے طور پر Awfulاس کے قدیم معنی عظیم رعبدار یاخدا کے خوف سے بھر پور کے ہیں مگر جدید انگریزی میں اس کے معنی بہت برا یا انتہائی خراب کے ہیں ۔اسی طرح پرانی انگریزی میں Sillyکو مبارک خوش قسمت معصوم اور سادہ لوح مفہوم لیا جاتا تھا جبکہ آج اس کے معنی بے وقوف لئے جاتے ہیں ۔ایک اور لفظ Gay جس کے آج کی انگریزی میں بالکل گندے معنی لئے جاتے ہیں قدیم انگریزی میں خوش مزاج اور بے فکر کے معنی میں بولا جاتا تھا۔جبکہ آج اس سے مراد ہم جنس پرست کے معنی لئے جاتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ لسانیات ہمیں بتاتی ہے کہ ’’الفاظ کے معنی جامد نہیں ہوتے بلکہ وقت ،سماج اور سیاسی رویئے انہیں طنز کا روپ دے دیتے ہیں اور انسانی نفسیات مل جائے تو مفاہیم اور بھی بدل جاتے ہیں۔اسی طرح بعض الفاظ سماجی تعصب کی سان پر چڑھ جاتے ہیں۔مثلا ًایک لفظ جو محض دیہاتی مزدور کے لئے بولاجاتاتھا اس نے دھیرے دھیرے مجرم اور بدکار کے معنی دھارلئے ۔الفاظ کی کہانی نے حیرت انگیز عروج دیکھے مگر یہی لفظ حماقت کا استعارہ بھی بنے۔دراصل انسان جب کسی چیز کا مذاق اڑاتا ہے تو وہ لفظ کی روحانی ہیئت کو بدل کے رکھ دیتا ہے ۔یہاں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اخلاقیات کا بدلتا معیار مذہبی یا روحانی فضاء سے جدا ہوکر دنیوی استعمال کا موضوع بنتا ہے تو اپنی چمک سے محروہوجاتاہے۔اس طرح زبان نہ صرف وقت بلکہ اقدار و روایات کے بدلتے نقشے کی آئینہ دار بن جاتی ہے۔ہم اکثر گردانتے ہیں کہ الفاظ کے معنی مستقل ہوتے ہیں ،مگر حقیقت سے کے برعکس ہے ۔
ماہرین لسانیات کے مطابق ’’معنی دراصل ایک معاہدہ ہیں بولنے والے اور سننے والے کے درمیان ، جیسے جیسے معاشرہ بدلتا ہے یہ معاہدہ بھی بدل جاتا ہے‘‘ ۔ ادب میں اس کی حقیقت اور اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔ شاعر جب الفاظ کا انتخاب کرتا ہے تووہ فقط معنی نہیں بلکہ اس کی تاریخی ماہیت کو بھی زیرنظر رکھتا ہے ۔ایک لفظ کے پیچھے صدیوں کی تہذیبی تاریخ کے حوالے ہوتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بڑے شاعر یا ادیب الفاظ کو فقط برتتے نہیں ، ان کی تقدیر سے مکالمہ بھی کرتے ہیں ۔یہ زبان کی تاریخ سے آگہی ہوتی ہے جو لکھنے والوں کو فکری عاجزی سکھاتی ہے۔جب ہم باور کرتے ہیں کہ آج کا معنی کل بدل سکتا ہے تو ہم الفاظ کوزیادہ احتیاط سے برتتے ہیں ،ہم سمجھتے ہیں کہ کسی لفظ پر حتمی مہر لگانا ممکن نہیں اور یہی زبان کا جمالیاتی حسن بھی ہوتا ہے جو معنی کو الفاظ کی دائمی اسیری سے آزاد رکھتا ہے اور آزادی میں ہی الفاظ کی زندگی ہوتی ہے ،اسی آزادی کا نام ہی زبان ہے اور اسی آزادی میں الفاظ کی تقدیر چھپی ہوتی ہے۔