(گزشتہ سے پیوستہ)
ریاست کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے اعتماد کا سہارا بنے۔ بیرونِ ملک کام کرنے والا مزدور جب اپنی کمائی وطن بھیجتا ہے تو وہ صرف پیسہ نہیں بھیجتا، بلکہ اپنے وطن پر اعتماد بھی منتقل کرتا ہے۔ یہ اعتماد اس امید کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس کی محنت کی کمائی محفوظ رہے گی اور اس کے وطن کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے گی۔یہاں ہمیں اسلامی اخلاقیات کی بھی یاد آتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں امانت کی حفاظت کو بنیادی اخلاقی اصول قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ “امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچایا جائے اور کسی کے مال کو ناحق نہ کھایا جائے۔اگر اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات کو ایک قومی امانت سمجھا جائے تو پھر ریاست پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس امانت کے استعمال میں مکمل دیانت اور بصیرت کا مظاہرہ کرے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں معاشی پالیسیوں میں اکثر طویل المدتی وژن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ کبھی ہم قرضوں کے سہارے معیشت چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی رئیل اسٹیٹ کے بلبلے کو ترقی کا نام دے دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حقیقی ترقی صرف اس وقت ممکن ہوتی ہے جب سرمایہ علم، صنعت اور تحقیق کے میدانوں میں لگایا جائے۔جنوبی کوریا کے ایک صدر کے آنسو ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ حکمرانوں کو قوم کے محنت کش طبقے کے درد کو محسوس کرنا چاہیے۔ اگر ریاست اپنے محنت کشوں کے سرمائے کو صرف مالیاتی اعداد و شمار کے طور پر دیکھے گی تو معاشی پالیسی محض حساب کتاب کا کھیل بن کر رہ جائے گی۔ مگر اگر اسے قومی امانت سمجھا جائے تو پھر ہر پالیسی کے پیچھے ایک اخلاقی ذمہ داری بھی موجود ہوگی۔پاکستان کے لیے آج سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے سرمائے کو ایک جامع معاشی حکمت عملی کے تحت استعمال کرے۔ ہائوسنگ فنانس اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدانوں میں بھی ایسے مواقع پیدا کئے جائیں جہاں بیرونِ ملک پاکستانی اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں۔قوموں کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ مضبوط اداروں، جدید صنعتوں اور تعلیم یافتہ افرادی قوت سے ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنے محنت کشوں کے سرمائے کو اسی سمت میں استعمال کیا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی ترقی کی اس شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا جس پر آج جنوبی کوریا ایستادہ نظر آتا ہے۔ مارگیج پالیسی بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، مگر اس کی روح اور سمت ہی اس کی اصل حقیقت کا تعین کرتی ہے۔ اگر یہ پالیسی محنت کشوں کے سرمائے کو محفوظ اور بامقصد سرمایہ کاری میں تبدیل کرے تو یہ قومی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ مگر اگر یہ صرف زمین کے کاروبار کو مزید طاقتور بنانے کا ذریعہ بن جائے تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ کہیں ریاست اپنے ہی محنت کشوں کی کمائی کو ایک ایسے کھیل میں تو نہیں جھونک رہی جس کا فائدہ چند ہاتھوں تک محدود رہ جائے۔ریاستیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کے اعتماد کی حفاظت کرتی ہیں۔ اور اعتماد کی بنیاد صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ اس احساس سے قائم ہوتی ہے کہ حکمران قوم کے درد کو محسوس کریں ۔ شاید اسی احساس نے جنوبی کوریا کے صدر کی آنکھوں میں آنسو بھر دیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران بھی کبھی اس درد کو سمجھ پائیں گے ؟ اس حوالے سے صدر زرداری ،نواز شریف خاندان اور مقتدرہ کو سوچنا چاہیئے کہ انہیں تین قوتوں کی طرف ہائوسنگ سوسائٹیوں اور زمینوں کے معاملات میں فائدہ اٹھانے کے الزامات کے دروا ہوتے ہیں ۔ان میں سے ہر الزام عدالت کے دروازے پر دستک دینے سے ثابت نہیں ہوتا ۔ بحر حال یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پراپرٹی کا کاروبار فقط معاشی سرگرمی نہیں بلکہ سیاس طاقت ،سرکاری پالیسی اور سرمایہ داری کے امتزاج کی ایک بڑی مثال ہے جسے ہمارے معاشی تجزیہ نگار یہ کہنے میںحق بجانب ہیں کہ’’پاکستان میں زمین صرف زمین نہیں بلکہ اقتدار کی کرنسی بن چکی ہے۔‘‘