ضمیر خوابیدہ ہوجائے تو تقدیس کے استعارے محض خوبصورت لفظ رہ جاتے ہیں اور مروجہ سیاسی حالات اپنی بے رحم منطق کے ساتھ انسانیت کو نت نئے امکانات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں ۔دنیا کی تاریخ میں ایسے لمحات بارہا آئے ہیں جب طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں نے مذہب کو اپنی سیاست کا لبادہ اوڑھا کر کبھی صلیب کے سائے تلے تباہی کا اہتمام کیا ، کبھی ہلال کے نام پر سلطنتیں تہہ و بالا کیں اور کبھی مذہب کے مقدس استعارے محض سیاسی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بن گئے۔ آج کی عالمی سیاست پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے چند اقتدار و اختیار کے ہوس کارکبھی مذہبی اور کبھی سیاسی قوتوں کے روپ میں دنیا کے امن کے لئے خطرہ بن رہے ہیں ۔ اسی پس منظر میں یہ جملہ معنی خیز ہو جاتا ہے کہ جب کعبہ و کلیسا ٹرمپ کی پشت پر ہوں۔ کعبہ یہاں مسلم دنیا کے روحانی مرکز اور اس کے گرد مجتمع ہونے والی مسلم ریاستوں کی علامت ہے، جبکہ کلیسا مغربی عیسائی تہذیب اور اس کے مذہبی و سیاسی اثرات کا استعارہ ہے۔ جب یہ دونوں علامتیں کسی ایک سیاسی شخصیت کے ساتھ جڑ جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اتحاد عقیدے کی بنیاد پر ہے یا مفادات کی بنیاد پر؟عالمی سیاست میں Donald Trump کا دور ایک غیر معمولی تجربہ ہے۔ وہ ایک ایسا امریکی صدر ہے جونے روایتی سفارت کاری کے بجائے جارحانہ بیانیے اور کاروباری طرزِ سیاست کو قابل ترجیح گردانتا ہے۔ امریکہ کے اندر طاقتور عیسائی مذہبی حلقے اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایوینجیلیکل (انجیل کی تعلیمات پر زور دینے والا تبشیری )عیسائیوں کا ایک بڑا طبقہ اسے اپنی مذہبی و سیاسی امیدوں کا نمائندہ سمجھتا رہا ہے اس حمایت کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اس کے بعض فیصلے ہیں۔ان فیصلوں میں سب سے نمایاں اقدام یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا یے ،یہ فیصلہ محض ایک سفارتی اعلان نہیں تھا بلکہ اس نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔
فلسطینی عوام کے لئے یہ ایک بڑا صدمہ تھا، جبکہ امریکہ کے اندر موجود عیسائی مذہبی حلقوں نے اسے اپنے عقیدے کے مطابق ایک تاریخی قدم قرار دیا۔ اس فیصلے نے یہ سوال بھی پیدا کیا کہ کیا عالمی سیاست میں مذہبی عقائد کو براہ راست پالیسی سازی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے؟اسی دوران مشرق وسطیٰ میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی جسے تاریخ میں Abraham Accords کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بعض عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے مسلم دنیا کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ کئی تجزیہ نگاروں نے اسے ایک نئی سفارتی حقیقت قرار دیا، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ فلسطینی مسئلے سے انحراف کے مترادف تھا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم دنیا کے حکمرانوں نے اس نئی سیاسی حقیقت کو کیوں قبول کیا؟ اس سوال کا جواب صرف مذہبی یا جذباتی بنیادوں پر نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں ریاستیں اکثر اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ معاشی تعاون، دفاعی معاہدے اور علاقائی خطرات جیسے عوامل اکثر نظریاتی اختلافات کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔لیکن اس حقیقت کے باوجود ایک اخلاقی سوال باقی رہتا ہے۔ اگر مذہب انسانیت کو انصاف اور اخلاقیات کا درس دیتا ہے تو کیا اس کے نام پر ہونے والی سیاست بھی انہی اصولوں کی پابند نہیں ہونی چاہیے؟ جب طاقت اور مفاد مذہب کے مقدس استعار وں کے ساتھ جڑ جائیں تو یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ مذہب اپنی اصل روح کھو سے مغائرت پرآمادہ ہے۔ اردو شاعری میں کعبہ اور کلیسا کے استعارے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
شاعروں نے ان دونوں کو مشرق اور مغرب کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ کبھی ان کے درمیان تصادم کی تصویر کھینچی گئی اور کبھی ان کے درمیان مکالمے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ مگر آج کے منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دونوں استعارے کسی ایک سیاسی طاقت کے گرد گھوم رہے ہیں۔یہ صورتحال ہمیں اس حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن کس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اب جنگیں صرف میدانِ کارزار میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ سفارتی معاہدوں، معاشی پابندیوں اور اطلاعاتی مناقشوں کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔ ایسے میں مذہب بھی ایک نرم طاقت (Soft Power) کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے۔مسلم دنیا کے لئے اس صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی خود مختاری اور فکری آزادی کو کس طرح برقرار رکھے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنی بنیادی نظریاتی فکر سے اغماض برتا تو اس کی سیاسی آزادی بھی خطرے میں پڑ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرے اپنے داخلی مسائل کو حل کریں اور علم، تحقیق اور انصاف کو اپنی ترجیحات بنائیں۔اسی طرح مغربی دنیا کے لیے بھی یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ اگر وہ واقعی جمہوریت اور انسانی حقوق کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی میں بھی انہی اصولوں کی پاسداری کرنی ہوگی۔ ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا چلاجائے گا کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات محض ایک خوبصورت نعرہ ہے جسے ضرورت کے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تاریخ ہمیشہ طاقتوروں کے حق میں نہیں رہتی۔ کئی ایسی سلطنتیں بھی تاریخ کے اوراق میں ملتی ہیں جو اپنے وقت میں ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھیں مگر وقت کے ساتھ ان کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ طاقت کا غرور ہمیشہ عارضی ثابت ہوتا ہے جبکہ انصاف اور اخلاقیات کی قدریں دیرپا ثابت ہوتی ہیں۔موجودہ حالات میں ’’کعبہ و کلیسا‘‘ایک فکری سوال کی صورت ہمارے روبرو کھڑا ہے۔ یہ سوال ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم عالمی سیاست کو محض نعروں کے ذریعے نہیں بلکہ گہرے تجزیے کے ذریعے سمجھیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مذہب، سیاست اور طاقت کے درمیان تعلق کس طرح تشکیل پا سکتا ہے اور اس کا فکر سے پہلو تہی سے عام انسان کی زندگی پر کیا اثرپڑ رہا ہے۔آخرکار تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ عوام کے شعور سے ہوتا ہے۔ اگر عوام اپنے حقوق اور اخلاقی اصولوں سے آگاہ ہوں تو کوئی بھی سیاسی اتحاد زیادہ دیر تک انہیں دھوکہ نہیں دے سکتا۔ مگر اگر شعور کمزور ہو جائے تو مقدس استعارے بھی سیاست کے بازار میں فروخت ہونے لگتے ہیں۔دنیا کے اس پیچیدہ دور میں شاید سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ انسان اپنے ضمیر کی آواز کو زندہ رکھے۔