قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب اقتدار کے ایوانوں سے کوئی آواز محض تقریرکے الفاظ کی صورت بلند نہیں ہوتی بلکہ قومی ضمیر کی صدا بن کر ابھرتی ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب حکمران اپنی قوم کے سامنے محاسبہ نفس کی کیفیت میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک تاریخی لمحے کا ذکر اکثر کیا جاتا ہے جب جنوبی کوریا کے ایک صدر نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے آنسوئوں کے ساتھ یہ اعتراف کیا کہ ’’بیرونِ ملک محنت کرنے والے محنت کشوں کی کمائی دراصل قوم کی امانت ہے اور ریاست پر لازم ہے کہ اس امانت کی حفاظت کرے‘‘۔ یہ واقعہ ہمیں اس بنیادی اصول کی یاد دلاتا ہے کہ ترقی یافتہ اقوام محنت کشوں کے سرمائے کو محض مالی وسیلہ نہیں سمجھتیں بلکہ اسے قومی وقار اور اجتماعی اعتماد کی علامت تصور کرتی ہیں۔آج جب پاکستان میں مارگیج پالیسی اور ہاسنگ فنانس کے مباحث زیرِ بحث ہیں تو اس منظرنامے میں جنوبی کوریا کی مثال ایک آئینے کی طرح روبرو آن کھڑی ہوئی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہائوسنگ فنانس یا مارگیج اسکیمیں کیوں متعارف کرائی جا رہی ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا ان پالیسیز کے ذریعے بیرونِ ملک محنت کرنے والے پاکستانیوں کے خون پسینے کی کمائی کو محفوظ اور بامقصد سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جا رہا ہے یا اسے صرف ایک ایسے معاشی دائرے میں جھونک دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جہاں منافع کا اصل فائدہ چند طاقتور حلقوں تک محدود رہ جاتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون وہ ترسیلاتِ زر ہیں جو لاکھوں پاکستانی خلیج، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں محنت مزدوری کر کے وطن بھیجتے ہیں۔ یہ محنت کش نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا ہوتے ہیں بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی بھیجی ہوئی رقوم سے زرمبادلہ کے ذخائر سنبھلتے ہیں، مالیاتی توازن قائم رہتا ہے اور معاشی بحران کے دنوں میں ملک کو سہارا ملتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاست پاکستان نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوچا ہے کہ اس سرمائے کو کس طرح ایسی سمت میں استعمال کیا جائے جس سے ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو اور محنت کشوں کا سرمایہ محفوظ بھی رہے؟ہائوسنگ اور رئیل اسٹیٹ کا شعبہ بلاشبہ معیشت کا اہم ستون ہوتا ہے، مگر جب کسی معیشت میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا میدان صرف زمین اور مکان بن جائے تو یہ ایک تشویش ناک علامت بن جاتا ہے۔ اس صورت حال میں سرمایہ صنعت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور پیداواری شعبوں سے نکل کر غیر پیداواری سرگرمیوں میں چلا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کی قیمتیں تو آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں مگر صنعتیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور روزگار کے مواقع محدود و مسدود ہو جاتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں جنوبی کوریا کی مثال ہمیں ایک سبق دیتی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں جنوبی کوریا بھی غربت، جنگ اور معاشی بحران کا شکار تھا۔ لاکھوں کوریائی شہری ، جرمنی ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک میں محنت مزدوری کے لئے گئے۔ ان کی بھیجی ہوئی رقوم نے ملک کی معیشت کو سہارا دیا۔ مگر کوریائی قیادت نے اس سرمائے کو صرف زمین خریدنے یا جائیداد بنانے میں نہیں لگایا بلکہ اسے صنعتوں، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے فروغ کے لئے استعمال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند دہائیوں میں جنوبی کوریا دنیا کی بڑی صنعتی طاقتوں میں شمار ہونے لگا۔اس پس منظر میں اگر ہم پاکستان کی پالیسیز کا جائزہ لیں تو ایک سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کیا ہم اپنے اوورسیز پاکستانیوں کی محنت کو صحیح سمت دے رہے ہیں؟ اگر مارگیج پالیسی کا مقصد صرف یہ ہو کہ بیرونِ ملک محنت کرنے والے پاکستانیوں کو جائیداد خریدنے کی طرف راغب کیا جائے تو اس سے وقتی معاشی سرگرمی تو پیدا ہو سکتی ہے مگر طویل المدتی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ جب ریاست کسی خاص شعبے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے تو اس کے گرد طاقتور ، مفادات کا ایک حصار آہنی جال کی صورت بن دیتے ہیں۔ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا شعبہ پہلے ہی طاقتور سرمایہ داروں اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اوورسیز پاکستانیوں کی جمع پونجی بھی اسی دائرے میں داخل ہو جائے تو اس سے قیمت میں جو پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ان میں مزید تیزی آ جائے گی اور عام شہری کے لئے گھر خریدنا یا تعمیر کرنامزید دشوار بو جائے گا۔
(جاری ہے)