اس دورِ بے اماں میں جب کتاب کی طرف کوئی پلٹ کر نہیں دیکھتا، شعر و ادب کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی اور مطالعہ موبائل کی اسکرین پر سکڑ کر رہ گیا ہے، تب بھی کچھ لوگ ہیں جو ادبی روایتوں کے امین بنے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگ جو نہ شور مچاتے ہیں، نہ خودکو عہد کا نجات دہندہ کہتے ہیں مگر خاموشی سے وہ کام کرتے رہتے ہیں جس پر تہذیبیں زندہ رہتی ہیں۔انہی خاموش چراغ برداروں میں ایک نام مظہر سلیم مجوکہ کا بھی ہے، جنہوں نے رسالہ ’’ادب لطیف‘‘ کی اشاعت کا تسلسل بحال رکھا ہوا ہے۔ سال میں کم از کم تین سے چار شمارے اہلِ ادب کی دہلیز تک ضرور پہنچاتے ہیں اور یہ کام محض ادارت نہیں، ایک مسلسل ریاضت ہے۔ اس میں ان کی محنت ہی نہیں، مشقت کا نچوڑ شامل ہوتا ہے؛ وہ مشقت جو نہ سرخی بنتی ہے نہ خبر مگر تہذیب کے ماتھے پر روشن لکیر چمکتی دکھائی دیتی ہے۔کل ہی کی ڈاک میں دو نئے شمارے موصول ہوئے۔ لفافہ کھولتے ہی یوں لگا جیسے کاغذ کی خوشبو میں ماضی کی کسی ادبی بستی کا دروازہ کھل گیا ہو۔ ان شماروں میں ملک کے نامور شعرا کی سو کے قریب غزلیات شامل ہیں، تیئیس چھوٹی بڑی کہانیاں اور افسانے اپنی اپنی دنیا آباد کیے ہوئے ہیں اور جید دانشورانِ ادب کے مختلف موضوعات پر نہایت وقیع مضامین قاری کو رکنےپر مجبور کرتے ہیں۔اس کے ساتھ مختلف زبانوں کے ادب کے تراجم بھی شامل ہیں جو ہمیں یاددلاتے ہیں کہ ادب کی سرحدیں نہیں ہوتیں۔ کہیں فارسی کی مہک ہے، کہیں ہندی روایت کی بازگشت، کہیں عالمی ادب کے دریچے کھلتے ہیں۔
خصوصی ادبی موضوعات پر بحث و مباحثہ الگ سے موجود ہے، جو رسالے کو محض تخلیقی نہیں بلکہ فکری سطح پر بھی زندہ رکھتا ہے۔شاعری کے حوالے سے نظم کے جدید شعرا کی بہت ساری نظموں کا انتخاب بھی شامل ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ رسالہ محض ایک مجلہ نہیں بلکہ ایک ادبی کہکشاں ہے رنگ ہی رنگ، آواز ہی آواز۔ اس میں کلاسیکی آہنگ بھی ہے اور جدید حسیت بھی، روایت کی سنجیدگی بھی اور نئے زمانے کی بے قراری بھی۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کیوں؟ جب قاری کم ہو رہے ہوں، کتابیں الماریوں میں مقید ہوں اور ادبی مجلے اشتہارات کے بغیر سانس لینے سے قاصر ہیں تو پھر کوئی شخص یہ مشقت کیوں کرے؟ شاید اس لیے کہ کچھ لوگ ادب کو مشغلہ نہیں، امانت سمجھتے ہیں۔مظہر سلیم مجوکہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔ وہ ادیب سے زیادہ ایک امین دکھائی دیتے ہیں ، چراغوں کے امین۔ وہ جانتے ہیں کہ ادبی روایتیں ایک دن میں نہیں بنتیں اور نہ ایک دن میں مٹتی ہیں۔ یہ صدیوں کے تسلسل سے جنم لیتی ہیں اور ایک نسل کی غفلت سے بجھ بھی سکتی ہیں۔آج جب سوشل میڈیا نے اظہار کو آسان تو بنا دیا ہے مگرگہرائی کو کم کر دیا ہے،ایسے میں ادبی مجلے ایک متبادل فضا فراہم کرتے ہیں۔ یہاں تحریر جلدی میں نہیں لکھی جاتی، نہ ہی ایک لمحاتی تاثر کے لیے شائع ہوتی ہے۔ یہاں لفظ وقت لیتا ہے، سانس لیتا ہے اور پھر قاری تک پہنچتا ہے۔ یہی وہ تہذیبی وقفہ ہے جو ادب کو معنوی حسن عطا کرتا ہے۔
ادبی مجلوں کی روایت دراصل اردو تہذیب کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔ انہی صفحات سے بڑے بڑے نام ابھرے، انہی میں ادبی تحریکیں جنم لیتی رہیں اور انہی کے ذریعے زبان نے اپنے نئے امکانات دریافت کیے۔ اگر یہ مجلے نہ ہوتے تو شاید اردو ادب کی تاریخ بھی اتنی توانا نہ ہوتی۔ایسے میں ’’ادب لطیف‘‘کا تسلسل محض ایک رسالے کا تسلسل نہیں، ایک روایت کی بقاء ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہےکہ ادب ابھی مرا نہیں، صرف خاموش ہے۔ اور کچھ لوگ ہیں جو اس خاموشی میں بھی اس کی نبض ٹٹول رہے ہیں۔اس آئینے میں مظہر سلیم مجوکہ کی جو تصویر بنتی ہے، اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ خود منظر میں کم اور پس منظر میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے نام کو نہیں، اپنے کام کو بولنے دیتے ہیں۔شاید اسی کیفیت کو کسی شاعر نے یوں کہا تھا:
مصوروں نے ہزار رنگوں کی دشت ناپی
مگر کسی نے وہ ایک چہرہ نہیں بنایا
یہ شعر مظہر سلیم مجوکہ جیسے لوگوں پر صادق آتا ہے۔ وہ نمایاں نہیں ہوتے مگر نمایاں کر دیتے ہیں۔ وہ سامنے نہیں آتے مگر منظر کو روشن کر دیتے ہیں۔ ان کی پہچان ان کا نام نہیں، ان کی سعی بے مثال کا تسلسل ہے۔آج جب ادب کے چراغ مدھم پڑتے جا رہے ہیں، ایسے میں اگر کہیں کوئی روشنی باقی ہے تو وہ انہی لوگوں کی بدولت ہے۔ وہ لوگ جو نہ اداروں کے سہارے پر ہیں، نہ سرکاری سرپرستی کے منتظر۔ وہ بس اپنے یقین کے سہارے چل رہے ہیں اور یہی یقین ادب کی آخری امید اور ابدی پناہ گاہ ہے۔شاید آنے والے وقتوں میں جب کوئی اردو ادب کی تاریخ لکھے گا تو بڑے ناموں کے ساتھ ساتھ ان گمنام چراغ برداروں کا ذکر بھی آئے گاجنہوں نے اندھیروں کے زمانےمیں روشنی کا سلسلہ ٹوٹنے نہیں دیااور تب معلوم ہوگا کہ ادب صرف بڑے لکھنے والوں سے نہیں، بڑے روایت نبھانے والوں سے بھی زندہ رہتا ہے۔