جمہوری نظام کی روح صرف انتخابات نہیں ہوتے بلکہ وہ مسلسل مکالمہ ہوتا ہے جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمہوری عمل کی مضبوطی کے لئے جاری رہتا ہے۔ ریاستی پالیسیز کی تشکیل، قومی سلامتی کے معاملات، معاشی سمت کے تعین اور خارجہ حکمت عملی جیسے اہم فیصلے قوم کے اجتماعی شعور کا تقاضہ کرتے ہیں اور یہ حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تعلق پر منحصر ہوتا ہے ۔ مہذب جمہوریتوں میں اپوزیشن کو محض ایک تنقیدی قوت نہیں بلکہ ایک شریکِ کار قوت سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اختلافِ رائے کو قومی دانش کی علامت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہی اختلاف بہتر فیصلوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس روایت کے قیام پر آج تک دھیان ہی نہیں دھرا گیا۔ یہاں ریاستی پالیسیز کے تعین میں اپوزیشن کی شمولیت ہمیشہ ایک متنازع سوال رہی ہے۔ مختلف ادوار میں حکومتوں نے اپوزیشن کو محض سیاسی مخالف کے طور پر دیکھا، جبکہ اپوزیشن نے بھی اکثر خود کو ریاستی معاملات سے الگ رکھ کر حکومت کو تنہا چھوڑنے کی حکمت عملی اختیار کئے رکھی ہے ، اس صورتحال نے جمہوریت کے اس بنیادی اصول کو کمزور کیا کہ قومی معاملات پر اجتماعی دانش بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ریاستی پالیسیز کے حوالے سے یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ کیا حکومت نے کبھی اپوزیشن کی رائے کو سنجیدگی سے لیا؟ اس سوال کا جواب ہمیشہ نفی میں رہا ہے۔
بعض اوقات حکومتیں بظاہر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا تاثر دیتی رہی ہیں، مگر عملی طور پر اہم فیصلے محدود حلقوں میں ہی کیے جاتے ہیں ۔ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معاشی حکمت عملی جیسے معاملات اکثر پارلیمنٹ کے مکمل مباحثے کے بغیر طے ہوتے رہے ہیں۔ نتیجتاً اپوزیشن یہ شکایت کرتی رہی ہے کہ اسے ریاستی معاملات میں شرکت کے لئے درخور اعتنا ہی نہیں گردانا جاتا۔اس کے مقابلے میں اپوزیشن کا موقف بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اپوزیشن کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ حکومت کو وہ مکمل جمہوری جواز کے ساتھ تسلیم نہیں کرتی۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ موجودہ اقتدار عوامی مینڈیٹ کی بجائے فارم 47کی کرشمہ سازی کا نتیجہ ہے ، اس لیے اس کے ساتھ مکمل تعاون کرنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا۔ چنانچہ اپوزیشن کا خیال ہے کہ حکومت کو قومی معاملات پر اپوزیشن کی شرکت کی ضرورت کا احساس ہی نہیں۔یہ صورتحال دراصل پاکستان کی سیاست میں ایک بنیادی تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں خود کو جمہوریت کا محافظ کہتے ہیں، مگر عملی سیاست میں دونوں ایک دوسرے کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پارلیمنٹ کا وہ کردار کمزور ہو جاتا ہے جو کسی بھی جمہوری ریاست میں فیصلہ سازی میں مرکزی کردارادارہ کرتا ہے۔دنیا کی ترقی یافتہ جمہوریتوں میں صورتحال مختلف ہے۔ وہاں اپوزیشن کو قومی سلامتی اور ریاستی پالیسیز کے معاملات میں اعتماد میں لینا ایک لازمی روایت سمجھی جاتی ہے۔ برطانیہ میں شیڈو کابینہ کا تصور اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تاکہ اپوزیشن نہ صرف حکومت کی پالیسیز پر نظر رکھے بلکہ متبادل پالیسی بھی پیش کرے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی بڑی قومی پالیسیز پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان میں بدقسمتی سے یہ روایت مضبوط نہیں ہو سکی۔ یہاں حکومتیں اکثر اپوزیشن کو سیاسی دبا میں رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ اپوزیشن بھی احتجاجی سیاست کو پارلیمانی مکالمے پر فوقیت دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قومی پالیسیز پر وہ تسلسل پیدا نہیں ہو پاتا جو ایک مستحکم ریاست کے لیے ضروری ہوتا ہے۔اس صورتحال کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ریاستی پالیسیز پر قومی اتفاق رائے پیدا نہیں ہو پاتا۔ جب اپوزیشن کسی پالیسی کو اپنی رائے کے بغیر نافذ ہوتا دیکھتی ہے تو وہ اقتدار میں آنے کے بعد اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس طرح پالیسیز کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور ریاستی اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
معاشی پالیسیز لے کر خارجہ تعلقات تک، اس عدم تسلسل کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت صرف اکثریت کے فیصلے کا نام نہیں بلکہ اقلیت کی رائے کے احترام کا بھی نام ہے۔ اگر اپوزیشن کو ریاستی معاملات سے باہر رکھا جائے تو جمہوریت محض عددی اکثریت کی حکمرانی بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اگر اپوزیشن ہر معاملے میں حکومت کی مخالفت کو ہی اپنا مقصد بنا لے تو ریاستی معاملات سیاسی کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں۔پاکستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے: پارلیمانی مکالمہ۔ حکومت کو چاہیے کہ قومی پالیسیز کے اہم معاملات پر اپوزیشن کو باضابطہ طور پر اعتماد میں لے۔ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معاشی اصلاحات جیسے موضوعات پر پارلیمنٹ میں کھلے مباحثے کا اہتمام کرے،اسی طرح اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ صرف تنقید تک محدود نہ رہے بلکہ متبادل پالیسی تجاویز پیش کرے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کی نظر میں جمہوری نظام کی ساکھ اسی وقت بہتر ہوگی جب حکومت اور اپوزیشن دونوں ریاستی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دیں گے۔ اگر قومی معاملات کو محض اقتدار کی سیاست کا حصہ بنا دیا جائے تو اس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے۔پاکستان ایک پیچیدہ خطے میں واقع ملک ہے جہاں داخلی استحکام اور خارجہ حکمت عملی نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں ریاستی پالیسیز کو صرف حکومتی فیصلوں تک محدود رکھنا دانشمندی نہیں۔ قومی اتفاق رائے کے بغیر بننے والی پالیسیز کی عمر اکثر مختصر ہوتی ہے۔جمہوریت کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ مختلف آرا ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں اور پھر ایک بہتر راستہ سامنے آتا ہے۔ اگر حکومت اپوزیشن کو دشمن سمجھے اور اپوزیشن حکومت کو غیر قانونی قرار دے کر ہر تعاون سے انکار کر دے تو ریاستی پالیسی ایک مستقل کشمکش کا شکار رہتی ہے۔آخرکار یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ کیا پاکستان میں کبھی ایسا سیاسی ماحول پیدا ہوگا جہاں حکومت اور اپوزیشن ریاستی مفاد کے لیے ایک میز پر بیٹھ سکیں؟ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی قومی قیادت نے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی فیصلے کیے، ملک نے نسبتا بہتر سمت اختیار کی۔لہٰذا مکالمے کا مستقل نظام بنایا جائے۔ ریاستی پالیسی اسی وقت مضبوط اور موثر ہو سکتی ہے جب اس میں حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی آواز بھی شامل ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو سیاسی استحکام اور جمہوری بلوغت کی طرف لے جا سکتا ہے۔