نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ تنازع اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ایران کی جانب سے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا جس کے جواب میں امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے۔
امریکی حکام کے مطابق جوابی ایئر سٹرائیکس میں ایران کے متعدد فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں میزائل تنصیبات ڈرون مراکز اور عسکری انفراسٹرکچر شامل تھے۔ امریکی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کو بھاری عسکری نقصان پہنچا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیت برقرار ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا کے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ بھی دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے فوری اثرات عالمی تیل مارکیٹ پر بھی دیکھنے میں آئے۔ سرمایہ کاروں میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 73 سے 74 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 70 سے 71 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا۔ دو روز قبل قیمتوں میں گزشتہ چار سال کی کم قیمت پر چلی گئی تھی
اگر امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں مزید بڑھتی ہیں یا آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں جس کے
اثرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں۔شاہ رخ خان کی حاضر دماغی نے ایک بار پھر مداحوں کو متاثر کر دیا


