Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایک اور ہیروشیما؟ تہذیب نو کا نوحہ

انسانی تاریخ کے اوراق جب بھی خون سے رنگے گئے، وہ طاقت کا خود کو حقدار سمجھ لینے کا شاخسانہ ٹھہرا جس کے زعم میں کمزور کو خاموشی کا کفن پہنا دیا گیا۔ ہر عہد میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاسی یا عسکری نہیں رہتے، بلکہ تہذیب کے ضمیر پر دائمی سوال بن کر ثبت ہو جاتے ہیں۔ آج کا عہد، جسے ہم ٹیکنالوجی کی ترقی،ہی نہیں، انسانی حقوق کی پاسداری اور عالمی اخلاقیات کا زمانہ کہتے ہیں، ایک بار پھر اسی کربناک سوال کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔؟ کہ کیا طاقت ہی حق ہے؟ اور اگر یہ سچ ہے تو پھر انسانیت کہاں ہے؟یہ بربریت نہیں تو اور کیا ہے؟ کہ دو ہزار پانڈ وزنی بم انسانوں پر برسائے جا رہے ایسے انسان جو نہ جنگ کے منصوبہ ساز ہیں، نہ ایوانِ اقتدار کے مکین، بلکہ عام شہری ہیں، مائیں، بہنیں، بیٹیاں ، شیر خوار بچے، بوڑھے، اور سہانے مستقبل کے خواب دیکھنے اور سکھ کی زندگی جینے کی خواہش رکھنے والے نوجوان ۔جبکہ طاقت کے خمار میں ڈوبی قوتیں ایک طرف مذاکرات کی میز سجائی جاتی ہیں،
امن کے ترانے گائے جاتے ہیں اور دوسری طرف آتش و آہن کی ایسی بارش جو زمین کو ہی نہیں، نسلوں کو نیست و نابود کرنے کے در پے ہیں۔ یہ تضاد نہیں، یہ کھلا دھوکہ ہے، انسانیت کے ساتھ، اخلاق کے ساتھ، اور تاریخ کے ساتھ۔ہمیں تاریخ کے اس بھیانک لمحے کی یاد آتی ہے جب جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا تھا۔ وہ محض ایک شہر کی تباہی نہیں تھی، بلکہ انسان کی انسان پر آخری حد تک ظلم کرنے کی مثال تھی۔ لاکھوں زندگیاں لمحوں میں راکھ ہو گئیں، اور جو بچ گئے وہ زندگی بھر کے لیے اذیت، بیماری اور معذوری کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔ آج جب ہم دو ہزار پائونڈ کے بموں کی گونج سنتے ہیں تو یہی سوال پھر ذہنوں میں سر اٹھاتا ہے، کیا دنیا ایک اور ہیروشیما کی طرف بڑھ رہی ہے؟یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب عالمی طاقتیں خود کو امن کا علمبردار کہتی ہیں۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنمائوں کے بیانات اور اقدامات میں جو تضاد نظر آتا ہے، وہ عالمی سیاست کی منافقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک طرف مذاکرات، دوسری طرف بمباری ، یہ کیسی حکمت عملی ہے؟ کیا یہ طاقت کا نشہ ہے یا دہشت کا اظہار؟ یا پھر یہ وہ اندھی جارحیت ہے جو کسی بھی اخلاقی حد کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکی ہے؟اس صورتحال کو صرف بربریت کہنا شاید ناکافی ہے؛ یہ بربریت سے بڑھ کر بہیمیت ہے۔ بربریت میں کم از کم ایک وقتی جنون ہوتا ہے، مگر یہاں تو ایک منظم، منصوبہ بند اور مسلسل تباہی کا عمل جاری ہے۔ ایسے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جو صرف دشمن کو نہیں، انسانیت کی تباہی و بربادی کا شاخسانہ ہیں۔ یہ جنگ نہیں، نسلوں کا قتل ہے ایک خاموش نسل کشی، جسے عالمی ضمیر دیکھ کر بھی نظر انداز کر رہا ہے۔ان بموں کی گرج میں ہمیں بچوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں، ان ماں کی سسکیاں جو اپنے لختِ جگر کو ملبے تلے دفن ہوتے دیکھتی ہیں، اور ان بوڑھوں کی بے بسی جو اپنی پوری زندگی کی کمائی کو ایک لمحے میں خاک بنتا دیکھتے ہیں۔ یہ صرف جسموں کی ہلاکت نہیں، یہ خوابوں کی موت ہے، امیدوں کا قتل ہے، اور انسان کے انسان ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔دنیا کی بڑی طاقتیں جب اس طرح کے اقدامات کرتی ہیں تو وہ صرف ایک خطے کو تباہ نہیں کرتیں، بلکہ عالمی نظامِ انصاف کو بھی مجروح کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی عدالتیں ، یہ سب ادارے اس وقت اپنی معنویت کھو دیتے ہیں جب طاقتور کے سامنے خاموش ہو جائیں۔ انصاف اگر صرف کمزور کے لیے ہو اور طاقتور کے لئے نہیں، تو وہ انصاف نہیں، محض ایک ڈھونگ ہے۔یہ بھی ایک المیہ ہے کہ میڈیا اور عالمی بیانیہ بھی اکثر طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ مظلوم کی آواز دب جاتی ہے، اور ظالم کا بیانیہ غالب آ جاتا ہے۔ یوں سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر مٹنے لگتی ہے، اور تاریخ کا دھارا مسخ ہو جاتا ہے۔ آنے والی نسلیں شاید یہی پڑھیں کہ یہ سب ضروری تھا، دفاع کے لیے تھا، یا امن کے قیام کے لیے تھا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوگی۔یہ صورتحال ہمیں اس مقام پر لے آئی ہے جہاں ہمیں صرف سوال نہیں اٹھانے بلکہ ایک اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم واقعی ایک ایسی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں طاقتور کو ہر ظلم کی اجازت ہو؟ جہاں بموں کی آواز مذاکرات سے بلند ہو؟ جہاں انسان کی قیمت ہتھیاروں سے کم ہو جائے؟یہ نوحہ صرف ایک واقعے کا نہیں، بلکہ ایک پوری تہذیب کے زوال کا نوحہ ہے۔ ایک ایسی تہذیب جو خود کو مہذب کہتی ہے مگر اپنے ہی اصولوں کو پامال کرتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جو امن کی بات کرتی ہے مگر جنگ کو اپنا ذریعہ بناتی ہے۔ یہ تضاد، یہ منافقت، اور یہ بے حسی یہ سب مل کر ایک نئے باب کی تشکیل کر رہے ہیں، ایک ایسا باب جو تباہی و بربادی سے عبارت ہے۔اگر آج ہم نے اس روش کو نہ روکا، اگر عالمی ضمیر نے بیدار ہونے سے انکار کر دیا، تو کل تاریخ ہمیں بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کرے گی جہاں آج ہم دوسروں کو کھڑا دیکھ رہے ہیں۔ تب سوال یہ نہیں ہوگا کہ بم کس نے گرائے، بلکہ یہ ہوگا کہ جب یہ سب ہو رہا تھا تو ہم کہاں تھے؟ ہماری آواز کہاں تھی؟ ہمارا ضمیر کہاں تھا؟یہ وقت ہے کہ ہم اس مرثیے کو صرف پڑھیں نہیں، سمجھیں بھی۔ یہ صرف الفاظ کا نوحہ نہیں، بلکہ ایک چیخ ہے انسانیت کے لیے، انصاف کے لیے، اور مستقبل کے لیے۔ کیونکہ اگر ہم نے آج خاموشی اختیار کی، تو کل شاید بولنے کے لیے کچھ باقی نہ رہے۔

یہ بھی پڑھیں