عوام کو بارہ کھرب کا ٹیکہ
جب بھی ریاستیں اپنی معاشی کمزوریوں، مالی بدانتظامی یا سیاسی عیاشیوں کا بوجھ عوام کے کندھوں پر منتقل کرنے لگتی ہیں تو سب سے پہلے عام آدمی کی سانس مشکل کر دی جاتی ہے۔ کبھی نمک پر ٹیکس لگتا تھا،
جب بھی ریاستیں اپنی معاشی کمزوریوں، مالی بدانتظامی یا سیاسی عیاشیوں کا بوجھ عوام کے کندھوں پر منتقل کرنے لگتی ہیں تو سب سے پہلے عام آدمی کی سانس مشکل کر دی جاتی ہے۔ کبھی نمک پر ٹیکس لگتا تھا،
پاکستان کی معاشی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آئے ہیں جب امیدوں کے چراغ روشن ہوئے، بیرونی سرمایہ کاروں نے اس خطے کو ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر دیکھا، اور ترقی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کی
پاکستان کے موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب سی بے سمتی، بے یقینی اور انتشار کا احساس رگ جاں میں اتر جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ریاستی ڈھانچہ ایک ایسے ہاتھوں میں آ چکا ہے جو
یومِ مزدور محض محنت کشوں کے اعزاز میں منائے جانے کا ایک دن نہیں، بلکہ ایک استعارہ ہے پسینے کی بو، ہاتھوں کی سختی، اور خوابوں کی شکستہ کرچیاں سمیٹنے والے مزدور کا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
امریکی سیاست کی تاریخ میں بعض شخصیات محض حکمران نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد کی علامت بن جاتی ہیں ایسا عہد جس میں طاقت، بیانیہ، اور عوامی نفسیات ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو کر نئی سمتیں متعین کرتے ہیں۔ ڈونلڈ
خلیج کی گرم ریت پر تاریخ ہمیشہ طاقت کے قدموں کے نشان ثبت کرتی آئی ہے، مگر اس بار معاملہ کچھ اور ہے۔ یہ صرف توپ و تفنگ کا کھیل نہیں، بلکہ اعتماد کے جنازے پر کھڑی عالمی سیاست کا
اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ ’’سعودی عرب نے پاکستان کے کشکول میں ایک ارب اور ڈالے ہیں ‘‘کشکول پھر بھر گیا۔ ایک ارب ڈالر کا تازہ قطرہ اس پیالے میں آن گرا جسے ہم
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں الفاظ نہیں اعداد و شمار چیخ چیخ کر حقیقت حال بیان کر رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بحران نہیں، نہ ہی یہ محض وقتی دبائو ہے جسے
Rhonda Byrne ، 12مارچ 1951ء میں میلبارن آسٹریلیا میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے اپنی ابتدائی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ٹی وی پروڈیوسر کے طور پر کیا ۔2004ء میں ناگفتہ بہ خاندانی حالات کی وجہ سے انہوں نے خود آگہی
انسانی تاریخ کا مطالعہ ایک عجیب تضاد ہم پر منکشف کرتا ہے۔ ایک طرف انسان نے پتھر کے زمانے سے اٹھ کر ستاروں پر کمندیں ڈال دیں، سمندروں کی گہرائیوں تک کو عبور کر لیا اور ایٹم کے چھوٹے سے