گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جسے قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں کے عوام آج بھی بنیادی مسائل کے حوالے سے محرومیوں اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور کسی ایسے سیاسی رہبرو رہنما کے منتظر ہیں جو تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر ، آئینی حقوق اور مقامی وسائل پر اختیار جیسے سوالات جو دہائیوں سے تشنہ تکمیل ہیں انہیں توجہ کا مرکزو محور بنائے اور سیاسی بے سمٹی کو کوئی سمت دے۔ آج گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک نمایاں حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کا اثر و رسوخ مسلسل فزوں تر ہے۔ اس جماعت کی مقبولیت کے بارے میں مختلف سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ اس کے مخالفین اسے محض سیاسی پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اگر کسی جماعت کی عوامی حمایت واقعی بڑھ رہی ہے تو اس کا مقابلہ سیاسی میدان میں ہونا چاہیے، انتظامی یا غیر سیاسی ذرائع سے نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو عوام کے ذہنوں پر سوار دیگر سوالات کے ساتھ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر انتخابات کا مقصد عوامی رائے کا احترام ہے تو پھر نتائج کے بارے میں پہلے سے شکوک و شبہات کیوں جنم لے ہیں؟ اگر ہر انتخاب سے قبل دھاندلی، انجینئرنگ یا نتائج پر اثرانداز ہونے کی بحث شروع ہو جائے تو عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد کیسے برقرار رہے گا؟پاکستانی سیاست میں ’’فارم 47‘‘ ایک علامت بن چکا ہے۔
کچھ حلقے اسے انتخابی بے ضابطگیوں کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ دیگر اس تعبیر سے اختلاف کرتے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ کسی ایک فارم یا ایک انتخاب سے کہیں بڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عوام کے ذہن میں انتخابی عمل کی شفافیت کے بارے میں سوالات موجود ہیں۔ جب تک ان سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دیا جاتا، ہر انتخاب کے بعد تنازع جنم لیتا رہے گا۔گلگت بلتستان کے عوام کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون سی جماعت اقتدار میں آئے گی۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے والا ان کے مسائل حل کرے گا یا نہیں۔ سڑکیں کب بنیں گی؟ نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا؟ سیاحت سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی آبادی تک کب پہنچیں گے؟ آئینی حیثیت کا سوال کب حل ہوگا؟ یہ وہ معاملات اور تقاضے ہیں جن پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔اگر کسی جماعت کی مقبولیت واقعی بڑھ رہی ہے تو جمہوری اصول یہی کہتے ہیں کہ اسے عوام کے ووٹ سے آزمایا جائے اور اگر عوام کسی کو مسترد کرتے ہیں تو وہ فیصلہ بھی قبول کیا جائے۔ لیکن اگر انتخابی عمل پر ہی اعتماد متزلزل ہو جائے تو جیتنے والا بھی سوالات کی زد میں رہتا ہے اور ہارنے والا بھی واویلے کا بازار گرم رکھتا ہے ،بے چینی اور اضطراب کی فضا حکومتی امور کے راستے میں پتھر ہی بچھاتے رہتے ہیں ،کوئی ایسی کہکشاں دکھائی نہیں دیتی جو علاقے کے سکون کی ضمانت بن سکے۔جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ بیلٹ بکس کے ذریعے ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہونے کے بجائے عوام کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کریں۔ اسی طرح ریاستی اداروں کو بھی اپنے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر عوامی خدمت کے راستے ہموار کریں ۔انتخابات سے پہلے ہی خوف و ہراس اور بے اطمینانی کے لہراتے ہوئے سائے لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کر رہے ہیں یوں جمہوریت پر سے بھی اعتبار اٹھتا جا رہا ہے ۔ادھر وفاق میں پائی جانے والی افواہوں کی گرمی سیاسی شدت کا پارہ بلند سے بلند تر کرتی دکھائی دے رہی ہیں جس کی وجہ سے معیشت تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی ہے ۔ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ اپنے عملی کردار کے حوالے سے قومے میں ہیں اور جمہوریت دشمن قوتیں اپنی سازشوں میں کامیابیاں سمیٹنے کی خوشی میں بغلیں بجا رہی ہیں ۔حالانکہ معاملات اس قدر گمبھیر ہیں کہ اہل دانش کی ذہنی گرفت سے بھی نکلتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں ۔ کوئی اصلی صاحب اختیار نظر نہیں آتا جو خوگر حمد کا تھوڑا سا گلہ بھی سن لے ۔تو پھر حرف و صوت کے وارث بس نوحے ہی تحریر کرتے رہیں گے؟
7جون 2026ء دور نہیں رہا، انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ مجموعی طور پر 403امیدوار میدان میں ہیں جن میں 272 آزاد اور 131مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار شامل ہیں۔ موجودہ انتخابی منظرنامے میں اہم معرکہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہوگا۔ 2020ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی، تاہم گزشتہ چند برسوں میں سیاسی اتحادوں، دھڑہ بندیوں اور وفاداریوں کی تبدیلی نے سیاسی نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔ آئینی حیثیت، ترقیاتی منصوبے، سی پیک سے وابستہ مواقع، بجلی کے مسائل، سڑکوں کی تعمیر اور نوجوانوں کے روزگار جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ بلتستان اور دیامر کے حلقوں میں سیاسی سرگرمیاں خاص طور پر زیادہ دیکھی جا رہی ہیں جبکہ بعض حلقوں میں آزاد امیدوار بھی روایتی جماعتوں کے لئے چیلنج بن رہے ہیں۔ انتخابی عمل کے دوران شفافیت اور دھاندلی کے خدشات بھی زیر بحث ہیں۔ حالیہ دنوں میں ووٹ سے متعلق مبینہ جعل سازی کے ایک مقدمے کے اندراج نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل کی نگرانی پر زور دے رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات صرف مقامی حکومت سازی تک محدود نہیں بلکہ قومی سیاست کے لئے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں، ماضی میں اکثر وفاق میں برسرِاقتدار جماعت کو گلگت بلتستان میں بھی انتخابی برتری حاصل ہوتی رہی ہے۔،مگر اس بار بار عوامی رائے، مقامی مسائل اور امیدواروں کی ذاتی ساکھ روایتی سیاسی رجحانات پرزیادہ اثر پذیر دکھائی دیتی ہے۔