Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

مدرز ڈے پر۔۔۔۔

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہوا کا ہر جھونکا
تو پہلے میری طرف موڑتی
اور خود پسینے میں بھیگتی رہتی
ماں!
مجھے آج احساس ہوتا ہے
کہ محبت صرف لفظ نہیں ہوتی
یہ تو رات کے پچھلے پہر
کسی ماں کے ہاتھ میں چلتا ہوا پنکھا ہوتی ہے۔
سارا گھر
موسم کے پھل کھاتا تھا
برف میں رکھے آموں کی خوشبو سے پوراصحن مہک اٹھتا تھا
ٹھنڈی لسی کے گلاس
سب کے ہاتھوں میں چمکتے تھے
مگر تو….
اپنے لبوں پر خواہش کی پیاس لئیخاموش بیٹھی رہتی۔
کہ ڈاکٹر نے کہا تھا
ٹھنڈی چیزیں بچے کو نقصان دیں گی،سو تو نے
اپنی ساری پسندیں
اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیں۔
تو نہ برف میں ٹھنڈے کئے آم کھاتی،نہ ٹھنڈا پانی پیتی
کہیں تیرا بیٹا
موسم کی زد میں نہ آ جائے۔
ماں!
یہ کیسی محبت تھی؟
کہ میرا بخار
تیرے لہجے میں اتر آتا تھا۔
میری کھانسی تیری دھڑکنوں کو ہلا دیتی تھی
اور میری ذرا سی تکلیف پرتو مصلے پر بچھ جاتی تھی۔
میں بیمار پڑتا
تو تیری آنکھوں سے نیند روٹھ جاتی
تو ساری رات ، مجھے سینے سے لگائے رکھتی،
کبھی ماتھے پر پانی کی پٹیاں رکھتی
کبھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتی
اور کبھی اپنے آنسو چپکے سے چھپا لیتی۔
سارا جہان
اپنی نیندوں میں گم رہتا
مگر ایک تو تھی جو میری خاطررات بھر جاگتی
دکھ کے جنگل کاٹتی
اور پھر بھی
ہونٹوں پر شکوہ نہیں آنے دیتی تھی۔
ماں!
تو نے کبھی
اپنے حصے کی خوشی نہیں مانگی
کبھی اپنے لئے نئے کپڑوں کی ضد نہیں کی،
کبھی اپنے آرام کا ذکر نہیں چھیڑا،
بس ہر دعا میں
میرا نام جپا
مجھے یاد ہے
جب میں سکول سے لوٹتا
دروازے پر تو آنکھیں بچھائے کھڑی ہوتی
اور میں جیسے ہی سامنے آتا
تیرے چہرے پرایسا سکون اترتا
جیسے کسی عبادت کو قبولیت کا سندیسہ مل گیا ہو۔
ماں!
میں نے بہت سی محبتیں دیکھیں
مگرتیرے چہرے جیسا نور
کہیں نہیں دیکھا۔
لوگ کہتے ہیں
جنت آسمانوں میں آباد ہے
مگر میں جانتا ہوں
جنت تو
اس ماں کے قدموں تلے سانس لیتی ہے
جو اپنے بچے کے لئے
اپنی ساری خواہشیں قربان کر دے۔
آج
وقت کی دھوپ
میرے بالوں پر بھی اتر آئی ہے
زندگی کی تھکن
میرے وجود میں گھر کر گئی ہے
مگر جب کبھی
دل بہت اداس ہوتا ہے
تو تیری آواز
اب بھی میرا اندر روشنی کر دیتی ہے۔
پیاری ماں!
میں تیرے احسانوں کا قرض
کبھی ادا نہیں کر سکتا
میں چاہوں بھی
تو اپنی پوری عمر
تیرے ایک جاگے ہوئے لمحے کی قیمت ادا نہیں کر سکتا۔
کاش ،اے کاش ایسے ہوتا
کہ جب میری سانسوں کا سفر ختم ہونے کو ہوتا
تو آخری لمحے میں
میرا سر تیری گود میں ہوتا
اور تیرے لرزتے ہوئے ہاتھ
میرے ماتھے پر دعا لکھ رہے ہوتے
ماں!
میں تیرے پیارے چہرے کو
بہت یاد کرتا ہوں ایک بار پھر
میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ دے
میں بہت تھک گیا ہوں
ور تیرے پیارے چہرے کو
ترس گیا ہوں

یہ بھی پڑھیں