Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

عوام کو بارہ کھرب کا ٹیکہ

جب بھی ریاستیں اپنی معاشی کمزوریوں، مالی بدانتظامی یا سیاسی عیاشیوں کا بوجھ عوام کے کندھوں پر منتقل کرنے لگتی ہیں تو سب سے پہلے عام آدمی کی سانس مشکل کر دی جاتی ہے۔ کبھی نمک پر ٹیکس لگتا تھا، کبھی اناج پر محصول عائد کیا جاتا تھا اور آج کے جدید عہد میں پٹرولیم مصنوعات وہ ہتھیار بن چکی ہیں جن کے ذریعے حکمران طبقہ خاموشی سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ فرق صرف اتنا آیا ہے کہ ماضی کے جابرانہ فیصلے شاہی فرمان کہلاتے تھے اور آج انہی اقدامات کو معاشی اصلاحات، مالی نظم و نسق اور آئی ایم ایف کی شرائط کا نام دے دیا جاتا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ روایت مسلسل دہرائی جاتی رہی ہے کہ اقتدار میں آنے والی حکومتیں عوام کو ریلیف کے خواب دکھاتی ہیں مگر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہی انہی عوام کے لیے جینا دشوار بنا دیتی ہیں۔ مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرول کے نرخ گویا حکومتوں کے لیے وہ آسان راستہ بن چکے ہیں جس کے ڈریعے عوامی مزاحمت کمزور اور حکومتی آمدن فوری حاصل ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں حکمران طبقہ اپنے اخراجات کم کرنے، مراعات ختم کرنے یا ٹیکس چوری روکنے کی بجائے ہمیشہ تنخواہ دار اور غریب طبقے کی شہ رگ پر ہاتھ رکھتا ہے۔آج کے اخبارات میں شائع ہونے والی یہ خبر کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے بارہ کھرب روپے وصول کیے گئے، محض ایک عددی انکشاف نہیں بلکہ اس معاشی ڈھانچے کا نوحہ ہے جس میں ریاست اپنی ناکامیوں کا بوجھ شہریوں کے خون پسینے سے پورا کرتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت نے پیسہ کیوں جمع کمایا سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ عوام کی کس بہتری پر خرچ ہوا؟ کیا مہنگائی کم ہوئی؟ کیا ٹرانسپورٹ سستی ہوئی؟ کیا بجلی کے نرخ نیچے آئے؟ کیا عام آدمی کی زندگی آسان ہوئی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ وصولیاں عوامی خدمت نہیں بلکہ معاشی استحصال کہلائیں گی۔ نواز حکومتوں پر یہ الزام نیا نہیں کہ وہ بڑے سرمایہ دار طبقات کو تحفظ دیتے ہوئے مالی بوجھ عام آدمی پر منتقل کرتی رہی ہیں۔ ایک طرف اشرافیہ کو ٹیکس چھوٹ، مراعات اور سرکاری سہولیات میسر رہتی ہیں جبکہ دوسری جانب موٹر سائیکل چلانے والا مزدور، رکشہ ڈرائیور، کسان اور تنخواہ دار طبقہ ہر روز بڑھتی ہوئی پٹرول قیمتوں کی صورت میں سزا بھگتتا ہے۔ پٹرول صرف گاڑی کا ایندھن نہیں، یہ پورے معاشی نظام کی شہ رگ ہے۔ اس کی قیمت بڑھتی ہے تو سبزی سے لے کر دوائی تک ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔المیہ یہ بھی ہے کہ حکومتیں پٹرولیم لیوی کو قومی ضرورت قرار دیتی ہیں مگر قومی کفایت شعاری کا آغاز کبھی حکومتی ایوانوں سے نہیں ہوتا۔ پروٹوکول، شاہانہ اخراجات، غیر ضروری مراعات اور سیاسی نمود و نمائش جوں کی توں قائم رہتی ہے۔ عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے مگر اقتدار کے ایوان اپنی آسائشیں قربان کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ یہی تضاد عوام میں بے چینی، نفرت اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ سماجی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی پوری نہ کر سکے، جب نوجوان روزگار سے محروم ہوں جب ٹرانسپورٹ کے کرائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں روز بروز بڑھتی جائیں تو پھر معاشرے میں اضطراب، جرائم اور مایوسی بڑھنا فطری امر بن جاتا ہے۔حکومت اگر واقعی عوام دوست ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے صرف محصولات بڑھانے کی نہیں بلکہ اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان سے وصول کیے گئے بارہ کھرب روپے کہاں خرچ ہوئے، کس منصوبے پر لگے اور ان کی زندگی میں کیا بہتری آئی۔ ورنہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ یہاں ریاست کمزور طبقات کے لیے ماں نہیں بلکہ محصول وصول کرنے والا بے رحم نظام بن چکی ہے۔سوال یہ ہے کہ غریب عوام کو کب تک یہ زہرناک ٹیکے لگائےجاتے رہیں گے ؟ مفلسوں ہی کےنہیں سفید پوشوں کے گھروں میں کب تاریکی کا راج رہے گا؟ساری دولت ،سب مراعات اور تمام تر آسائشیں اگر حکمرانوں کے عزیز و اقارب اور ان کے سیاسی ہمنوائوں کا مقدر رہے گا تو بجھے ہوئے چولہوں والے گھروں کے مکین بھی یوں بے سرو سامانی اور بھوک افلاس کی موت مر جائیں گے ؟ کون حساب دیگا ، انصاف کے کٹہرے میں کون کھڑا ہوگا، جب انصاف کا ترازو پلڑوں ہی محروم ہوگا ،انصاف کی زنجیر کا نام و نشان ہی نہیں ہوگا تو دستکیں کس کے دروازے پر دی جا سکیں گی۔۔۔؟کیا حکمرانوں اور ان کے حاشیہ نشینوں پر ہی آسانئوں کے سب در وا رہیں گے اور عام آدمی دشت غربت ہی کی خاک چھانتا رہے گا؟

یہ بھی پڑھیں