Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

فکری زوال سے قومی انتشار تک

قومیں صرف جغرافیے سے وجود نہیں پاتیں، ان کی اصل شناخت ان کے فکری شعور، تہذیبی وقار، سیاسی بصیرت اور اجتماعی کردار سے تشکیل پاتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں فکر کمزور پڑ جائے، اصول مفادات کے ہاتھوں گروی رکھ دیئے جائیں، سیاست خدمت کے بجائے تجارت بن جائے اور عوام کو محض ووٹ کی پرچی سمجھ لیا جائے تو پھر قومی انتشار جنم لیتا ہے۔ پاکستان بھی آج اسی کربناک صورتِ حال سے گزر رہا ہے ، جہاں ریاست کے ستون اپنی اصل روح تہی دکھائی دیتے ہیں اور قوم ایک فکری انتشار میں پھنسی محسوس ہوتی ہے۔قیامِ پاکستان کے وقت یہ خطہ صرف ایک سیاسی وحدت نہیں تھا بلکہ ایک نظریاتی خواب بھی تھا۔ لاکھوں انسانوں نے قربانیاں اس امید پر دیں کہ یہاں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جہاں انصاف ہو کا بول بالا ہو۔ انسانی وقار محفوظ ہو ،عوام کو برابر کے مواقع میسر آئیں ہوں اور سیاست خدمت کا استعارہ بنے گی۔ مگر افسوس کہ آزادی کے بعد ہم نے اپنی قومی ترجیحات کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیئے۔ اپنے آپ کو اس انداز سے منتشر کیا کہ جس نظریئے پر ملک وجود میں آیا وہ پس منظر میں چلا گیا اور اقتدار مطمع نظر بن گیا۔پاکستان کی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاست دانوں کی اکثریت نے جمہوریت کو نظریاتی عمل کے بجائے اقتدار تک پہنچنے کی سیڑھی سمجھا۔ سیاسی جماعتیں منشور سے زیادہ شخصیات کے گرد گھومتی رہیں۔ عوام کے مسائل، غربت، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی سوالات ہمیشہ نعروں کی نذر ہوتے رہے۔ انتخابی جلسوں میں انقلاب کے دعوے کیئے گئے مگر اقتدار میں آتے ہی وہی چہرے، وہی مفادات اور وہی طرزِ حکمرانی سامنے آتی رہی جس نے عوام کو مایوسی کے اندھے کونئیں میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہ دیا۔
ووٹ کی حرمت کا نعرہ اس ملک میں بارہا بلند ہوا مگر عملاً ووٹر کی حرمت کبھی تسلیم نہ کی گئی۔ انتخابات سے قبل عوام کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں، جذبات ابھارے جاتے ہیں، مگر انتخابات کے بعد عوام کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہ ہونے کے برابر ہے۔ خاندانی سیاست نے نظریاتی کارکن کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ ایسے میں جمہوریت ایک مقدس اصول کے بجائے طاقت کی رسہ کشی محسوس کا نام بن گیا ہے۔یہاں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ وفاداریاں اب نظریات کی بنیاد پر نہیں بدلتیں بلکہ مفادات کے تابع ہوتی ہیں۔ سیاست دان موسموں کی طرح پارٹیاں بدلتے ہیں، کل جس جماعت کو قومی تباہی قرار دے رہے ہوتے ہیں، آج اسی کے ساتھ اقتدار بانٹتے نظر آتے ہیں۔ اصول، بیانیہ اور نظریہ سب اقتدار کی میز پر قربان ہو جاتے ہیں۔ اس روش نے عوام کے اندر سیاسی عمل کے بارے میں شدید بداعتمادی پیدا کی ہے۔ قوم جب اپنے رہنماں کے کردار میں استقامت نہ دیکھے تو پھر اجتماعی شعور بھی انتشار کا شکار ہونے لگتا ہے۔پاکستان میں فکری زوال کا ایک بڑا سبب تعلیم اور شعور کی پسماندگی بھی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے تحقیق، تنقیدی فکر اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کے بجائے محض ڈگریاں بانٹنے کے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ نوجوان نسل سوشل میڈیا کے شور میں الجھی ہوئی ہے جہاں سنجیدہ مکالمہ کم اور جذباتی انتشار زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ معاشرہ مطالعے سے دور اور سطحی معلومات کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔ ایسی قومیں وقتی نعروں کے پیچھے تو چل سکتی ہیں مگر پائیدار قومی تعمیر نہیں کر سکتیں۔تہذیبی اور ثقافتی اقدار سے روگردانی بھی قومی انتشار کو بڑھا رہی ہے۔ جن قوموں کو اپنی تاریخ، زبان، ادب اور تہذیب پر فخر نہ رہے وہ آہستہ آہستہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔ پاکستان میں مغربی تقلید کو ترقی کا مترادف سمجھ لیا گیا جبکہ اپنی تہذیبی اساس کو دقیانوسیت قرار دیا جانے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نئی نسل نہ مکمل طور پر مشرقی رہی نہ مغربی ،وہ ایک فکری خلا کا شکار ہو گئی۔ ادب، موسیقی، زبان، روایات اور قومی تاریخ کو نظر انداز کر کے کوئی قوم مضبوط شناخت قائم نہیں رکھ سکی۔ہماری تاریخ کے ساتھ بھی عجیب سلوک کیا گیا۔ ہم نے تاریخ سے سیکھنے کے بجائے اسے سیاسی ضرورت کے مطابق استعمال کیا۔ قومی ہیروز کو بھی سیاسی ترازو میں تولا گیا۔
سقوطِ ڈھاکا سے لے کر مختلف آئینی بحرانوں تک، ہر سانحہ ہمیں یہ بتاتا رہا کہ جب ریاستی ادارے اپنی حدود سے تجاوز کریں اور سیاسی قیادت قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دے تو قومیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے انہیں دہرانے کو معمول بنا لیا۔عوام کی حالتِ زار سے مسلسل اغماز شاید اس نظام کا سب سے بڑا جرم ہے۔ آج بھی پاکستان کا عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور ناانصافی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ کسان اپنی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں پا رہا، مزدور کی اجرت اس کے خاندان کی ضرورت پوری نہیں کرتی، نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے در بدر نوکری ڈھونڈ رہا ہے۔ مگر اقتدار کے ایوانوں میں اکثر بحث اس بات پر ہوتی ہے کہ کون اقتدار میں آئے گا اور کون جائے گا۔ عوام کے مسائل ہمیشہ سیاسی مفاہمتوں اور طاقت کے کھیل کے نیچے دب جاتے ہیں۔اس صورتِ حال نے معاشرے میں شدید نفسیاتی بے چینی پیدا کی ہے۔ نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہے، ہجرت کا رجحان بڑھ رہا ہے، اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ چکا ہے۔ جب قوم کو یہ محسوس ہونے لگے کہ محنت، قابلیت اور دیانت داری سے زیادہ اہم تعلقات، سفارش اور طاقت ہے تو پھر اجتماعی اخلاقیات بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں قومی انتشار صرف سیاسی نہیں رہتا بلکہ سماجی اور اخلاقی بحران کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔میڈیا کا کردار بھی اس بحران میں کم اہم نہیں۔ سنجیدہ صحافت کے بجائے شور، سنسنی اور شخصی کشمکش کو فروغ دیا گیا۔ عوامی شعور بیدار کرنے کے بجائے سیاسی تقسیم کو بڑھایا گیا۔ ٹاک شوز نے مکالمے کو مباحثے کے بجائے میدانِ جنگ بنا دیا ، جہاں دلیل سے زیادہ آواز کی بلندی اہم سمجھی جانے لگی۔ سوشل میڈیا نے اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا جہاں ہر شخص اپنی پسند کی سچائی لے کر بیٹھا ہے۔اس تمام تاریکی کے باوجود امید کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ قومیں بحرانوں سے نکلتی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور اصلاح کی سنجیدہ کوشش کریں۔
پاکستان کو بھی سب سے پہلے فکری احیاء کی ضرورت ہے۔ تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنا ہوگا جہاں تحقیق، مکالمہ اور تنقیدی شعور کو فروغ دیا جائے۔ نوجوانوں کو صرف روزگار نہیں بلکہ مقصد بھی دینا ہوگا۔سیاسی جماعتوں کو شخصیت پرستی سے نکل کر نظریاتی سیاست کی طرف آنا ہوگا۔ اندرونی جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا اور عوامی مسائل کو حقیقی ترجیح بنانا ہوگا۔ سیاست اگر خدمت نہ بنے تو پھر ریاست محض طاقت کا کھیل رہ جاتی ہے۔ ووٹ کی حرمت صرف نعرے سے نہیں بلکہ شفاف سیاسی عمل، عوامی احترام اور جواب دہی سے قائم ہوتی ہے۔اسی طرح ہمیں اپنی تہذیبی شناخت سے دوبارہ جڑنا ہوگا۔ اردو زبان، علاقائی ثقافتوں، ادب، تاریخ اور روایات کو محض ماضی کا قصہ سمجھنے کے بجائے قومی شعور کا حصہ بنانا ہوگا۔ جو قومیں اپنی جڑوں سے کٹ جاتی ہیں وہ ترقی کے باوجود اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔پاکستان کا مسئلہ صرف معاشی نہیں، فکری بھی ہے۔ جب تک قومی ترجیحات میں دیانت، علم، انصاف اور اجتماعی مفاد کو مرکزی حیثیت نہیں دی جائے گی تب تک انتشار ختم نہیں ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاستیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ اصولوں، اعتماد اور قومی یکجہتی سے مضبوط ہوتی ہیں۔آج پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ذاتی مفادات، سیاسی انا، وقتی اقتدار اور فکری انتشار کو قومی مفاد پر ترجیح دی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ اگر ہم نے سنجیدگی، دیانت اور قومی شعور کے ساتھ اپنے روئیے بدل لئے تو یہی قوم ایک بار پھر اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کر سکتی ہے۔قوموں کا زوال اچانک نہیں ہوتا، وہ آہستہ آہستہ فکری کمزوری، اخلاقی انحطاط اور سیاسی بے اصولی کے ذریعے جنم لیتا ہے۔ اور ان کا عروج بھی کسی معجزے سے نہیں بلکہ شعور، کردار اور اجتماعی دیانت سے ممکن ہوتا ہے۔
پاکستان کو بھی اب فیصلہ کرنا ہے کہ اسے انتشار کی دلدل میں مزید دھنسنا ہے یا فکری بیداری کے ذریعے اپنے مستقبل کو ازسرِ نو تعمیر کرنا ہے۔اب یہ فیصلہ مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہے ،بے سمت عدلیہ کے کردار سے بالا ہوگیا ہے ،اب یہمعاملہ سراسر پڑھے لکھے باشعور عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں ،زندہ رہنے کے اصول پھر سے مرتب کریں ،اقتدار کی ہڈیوں پر لڑنے والوں سے نجات کی راہ نکالیں ۔

یہ بھی پڑھیں