Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

اُردو صحافت کا ایک دور ختم ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون

اُردو صحافت کے اُفق پر ایک ایسا چراغ گل ہوگیا ہے جس کی روشنی صرف خبروں تک محدود نہ تھی بلکہ فکر، شعور، تہذیب، تاریخ اور قومی درد کی ایک پوری روایت اس کی ذات کامحور و مرکز تھی ۔ الطاف حسن قریشی کے انتقال کی خبر محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ اردو صحافت کے اس سنہری عہد کے اختتام کا اعلان ہے جس میں قلم نظریہ بھی رکھتا تھا، وقار بھی، تہذیب بھی اور قومی امانت کا احساس بھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اردو زبان کا ایک قافلہ سالار راستے میں کہیں تھک کر بیٹھ گیا ہو اور پیچھے چلنے والے قافلے کو اب اپنی منزلوں کا شعور بھی دھندلا دھندلا دکھائی دے رہا ہو۔آج صحافت کے بازار میں شور بہت ہے مگر وقار کم۔ آوازیں بہت ہیں مگر لہجے میں تہذیب کا دقدان۔ معلومات بہت ہیں مگر بصیرت ناپید۔ ایسے شور زدہ زمانے میں الطاف حسن قریشی جیسے لوگ چراغ کی مانند تھے جو تاریکی میں راستہ دکھاتے ہیں۔ وہ محض صحافی نہیں تھے، ایک دبستان تھے۔ ایک عہد تھے۔ ایک ادارہ تھے۔پاکستان میں صحافت کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی تو چند نام سنگِ میل بن کر سامنے آئیں گے۔ ان میں الطاف حسن قریشی کا نام غیر معمولی احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ انہوں نے اس دور میں قلم سنبھالا جب صحافت صرف کاروبار نہیں بلکہ قومی خدمت، فکری جہاد اور تہذیبی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔وہ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے تقسیم ہند کا کرب سہا، ہجرت کے زخم محسوس کئے، پاکستان بنتے دیکھا اور پھر اس کے وجود ٹوٹتے، بکھرتے اور لخت لخت ہوتے بھی دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں محض الفاظ نہیں بلکہ تاریخ کی دھڑکن سنائی دیتی تھی۔ ان کی صحافتی زندگی کا سب سے روشن حوالہ ادارہ اردو ڈائجسٹ ہے۔ اردو ڈائجسٹ صرف ایک رسالہ نہیں تھا، یہ ایک فکری تحریک تھی۔ ایک ایسا مدرسہ جہاں لاکھوں نوجوانوں نے قومی شعور، اسلامی فکر، تاریخ، عالمی سیاست اور ادبی ذوق حاصل کیا۔ ایک زمانہ تھا جب گھروں میں بچوں کی تربیت کے لیے اردو ڈائجسٹ رکھا جاتا تھا۔ اس کے اداریئے پڑھے جاتے، تراجم کا انتظار کیا جاتا اور اس کے مضامین پر محفلوں میں گفتگو ہوتی تھی۔
الطاف حسن قریشی نے اردو ڈائجسٹ کو محض رسالہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک فکری یونیورسٹی بنادیا۔ انہوں نے عالمی ادب، سیاسی افکار اور اسلامی فکر کو اردو قاری تک جس سلیقے اور دیانت سے پہنچایا، وہ آج کے دور میں نایاب ہوتا جارہا ہے۔ان کی نثر میں ایک عجیب وقار تھا۔ وہ چیختے نہیں تھے مگر قاری کو جھنجھوڑ دیتے تھے۔ وہ مخالف پر حملہ نہیں کرتے تھے مگر دلیل سے قائل کر لیتے تھے۔ ان کے جملوں میں تہذیب بھی تھی اور تاثیر بھی۔ ان کے ہاں اختلاف، دشنام میں تبدیل نہیں ہوتا تھا۔انہوں نے قومی مسائل پر لکھا، عالمی سیاست پر لکھا، اسلامی تحریکوں پر لکھا، سقوطِ ڈھاکہ کے المیئے پر لکھا، مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں پر لکھا، مگر ہر جگہ ایک درد مند پاکستانی اور ایک باشعور مسلمان ان کے وجود میں بولتا دکھائی دیتا تھا۔ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ صحافت کو تہذیبی عمل سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک صحافی محض خبر رساں نہیں بلکہ معاشرے کا اخلاقی نگہبان بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں اخلاقی حس نمایاں نظر آتی ہے۔آج کے نوجوان شاید یہ اندازہ نہیں کرسکتے کہ ایک وقت تھا جب پاکستان میں فکری تربیت کے مراکز چند رسائل ہوا کرتے تھے۔
ادارہ اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، ایشیاء، نقوش اور چٹان ، دوسرے ادبی جرائد گھروں میں احترام سے رکھے جاتے تھے۔ لوگ انہیں سنبھال کر رکھتے تھے۔ بچوں کو اچھی تحریریں پڑھنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ اس دور میں الطاف حسن قریشی کی تحریریں نوجوان ذہنوں کی تربیت کرتی تھیں۔انہوں نے محض خبروں کی دنیا میں نہیں بلکہ فکری صحافت میں اپنا مقام بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات پر صرف صحافی نہیں، ادیب، دانشور، اساتذہ، سیاسی کارکن اور عام قارئین سب خود کو یتیم محسوس کررہے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب مدیر کا منصب بہت باوقار سمجھا جاتا تھا۔ مدیر صرف رسالہ نہیں چلاتا تھا بلکہ فکری سمت متعین کرتا تھا۔ الطاف حسن قریشی اس روایت کے آخری بڑے امین تھے۔ ان کے بعد شاید اردو صحافت میں مدیر کا وہ کردار مزید دھندلا جائے جس میں علم، تہذیب، بصیرت اور قومی غیرت ایک ساتھ موجود ہوتی تھی۔یہ حقیقت بھی تلخ ہے کہ ہم نے اپنے علمی اور صحافتی اکابر کی قدر زندہ حالت میں کم ہی کی۔ ہمارے معاشرے میں سیاست دانوں کے جلسے تو بھر جاتے ہیں مگر اہلِ قلم خاموشی سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ قومیں جب اپنے فکری معماروں کو بھولنے لگیں تو ان کی تہذیبی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔الطاف حسن قریشی کی رحلت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم نئی نسل کو وہ فکری ماحول دے رہے ہیں جس میں سنجیدہ صحافت پروان چڑھ سکے؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے مطالعے کی عادت پیدا کررہے ہیں؟ کیا ہمارے میڈیا ہاسز تحقیق، دیانت اور تہذیب کو اہمیت دے رہے ہیں؟ یا ہم محض سنسنی، نفرت اور تقسیم کی تجارت میں مبتلا ہوچکے ہیں؟صحافت کسی معاشرے کا حافظہ ہوتی ہے۔ اگر حافظہ کمزور ہوجائے تو قومیں اپنی تاریخ، اپنی غلطیوں اور اپنے خوابوں سے کٹنے لگتی ہیں۔ الطاف حسن قریشی اس قومی حافظے کے امین تھے۔ ان کی تحریروں میں پاکستان کے خواب بھی محفوظ تھے اور اس کی شکست و ریخت کی داستان بھی۔ان کی وفات کے بعد شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اب اردو صحافت کی سنجیدہ روایت کو کون آگے بڑھائے گا؟ کون نئی نسل کو یہ بتائے گا کہ قلم صرف روزگار نہیں، کردار بھی ہوتا ہے؟ کون نوجوان صحافیوں کو یہ سکھائے گا کہ اختلاف کے باوجود شائستگی کیسے برقرار رکھی جاتی ہے؟ان کی رحلت سے واقعی سنجیدہ صحافت یتیم محسوس ہوگئی ہے۔ اردو زبان کا ایک معتبر لہجہ خاموش ہوگیا ہے۔ ایک ایسا لہجہ جو چیخے بغیر اثر رکھتا تھا، اختلاف کے باوجود شائستہ رہتا تھا اور قومی مفاد کے سامنے ذاتی مفادات کو کبھی ترجیح نہیں دیتا تھا۔وقت گزر جائے گا۔ نئی خبریں پرانی خبروں کو ڈھانپ دیں گی۔ نئی آوازیں ابھریں گی۔ مگر بعض لوگ تاریخ میں خبر نہیں، حوالہ بن جاتے ہیں۔ الطاف حسن قریشی بھی انہی حوالوں میں شامل ہوچکے ہیں۔وہ چلے گئے مگر اپنے پیچھے سوال چھوڑ گئے ہیں، معیار چھوڑ گئے ہیں، تہذیب چھوڑ گئے ہیں اور یہ احساس بھی کہ صحافت اگر کردار سے خالی ہوجائے تو محض شور رہ جاتی ہے۔آج اردو صحافت کے آسمان کا ایک بڑا ستارہ غروب ہوا ہے۔اور واقعی صحافت کا ایک دور ختم ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں