Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

صدر زرداری سب پر بھاری ؟

اقتدار کے ایوانوں میں موسم ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔یہاں وفاداریاں بھی وقت کے ساتھ کروٹ لیتی ہیں اورغداری کے سرٹیفکیٹ بھی سیاسی معمولات کا حصہ ہے۔ پاکستان کی سیاست میں جب بھی طاقت کےمراکز کے درمیان فاصلے بڑھنے لگیں، جب بھی حکومتیں ڈگمگانےلگیں، جب بھی کسی نئے سیاسی بندوبست کی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں تو سب سے پہلےغداریوں کی اسناد تقسیم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ کوئی اچانک ریاست دشمن قرار پاتا ہے،کوئی قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن جاتا ہے،کوئی حب الوطنی کےترازو پرہلکا ثابت کیاجاتا ہے،اور کوئی کل تک کا ناقابلِ قبول شخص راتوں رات محبِ وطن کہلانے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتاہےکہ شایدایک بارپھرغداریوں کی اسنادجاری ہونےکی رت آنے والی ہے۔ پاکستانی سیاست میں اگر کسی ایک سیاست دان نے بار بار شکست، تنہائی، الزامات اور سیاسی بے وفائیوں کے باوجود خود کو کھیل سے باہر نہیں ہونے دیا تو وہ یقینا صدر آصف علی زرداری ہیں۔یہ شخص پاکستانی سیاست کا ایک ایسا معمہ ہے جسے اس کے شدید مخالفین بھی پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہے۔ انہیں بارہا سیاسی طور پر دفن کیا گیا، ان کے خاتمے کی پیش گوئیاں کی گئیں، انہیں ماضی کا قصہ پارینہ، کہا گیا، مگر ہر بار وہ سیاست کے کسی نہ کسی دروازے سے واپس آ گئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ زرداری صاحب کو سب سے زیادہ ہزیمت ہمیشہ انہی شریفوں کے ہاتھوں اٹھانا پڑی جن کے ساتھ انہوں نے جمہوریت بچانے کے نام پر مفاہمت کی سیاست کی۔
2006 ء کا میثاقِ جمہوریت محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں تھا بلکہ بے نظیر بھٹو کی وہ سوچ تھی جس میں پاکستان کو انتقامی سیاست کے چنگل سے نجات دلانی تھی ، نکالنے کی ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی آصف زرداری نے کئی نازک مواقع پر وہ خاموشی اختیار کی جو شاید کوئی اورسیاست دان اختیار نہ کرتا۔حالانکہ اگر سیاست کو صرف چالوں،صبراور وقت کے درست استعمال کا کھیل سمجھا جائے تو زرداری اپنے اکثر مخالفین سے کہیں زیادہ منجھے ہوئے کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ان کی سیاست عوامی جوش و خروش کے بجائے طاقت کے مراکز کے درمیان توازن پیدا کرنے کے فن سے عبارت رہی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں محض جلسے، جلوسوں، نعروں اور جذباتی تقاریر سے اقتدار نہیں ملتابلکہ بند کمروں میں ہونے والی سرگوشیوں کی زبان کام آتی ہے۔آج ایک بار پھر کچھ حلقے ایوانِ صدر کے خالی ہونے کے خواب اچھال رہے ہیں۔سیاسی راہداریوں میں سازشوں کا تال میل ،تجزیہ نگاروں کےاندازے ہیں، طاقت کے ایوانوں سے اٹھتی افواہیں ہیں۔ کوئی دعوی کرتا ہے کہ حکومت کے اندر دراڑیں پڑ چکی ہیں، کوئی کہتا ہے کہ مقتدر حلقے نئے سیاسی بندوبست کی تیاری کے جال بن رہے ہیں اور کچھ لوگوں کو یقین دلایاجارہا ہے کہ آصف زرداری اب سیاسی طور پر غیرمتعلق ہوچکے ہیں۔ایسے ماحول میں سب سے خطرناک ہتھیار غداری کا بیانیہ ہے جو کسی بھی حوالے سے ان پر منطبق کرنے کی سعی نامراد کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اختلافِ رائے کو اکثر حب الوطنی اور غداری کے پیمانے پر ناپا گیا۔ کبھی سیاست دان غدار ٹھہرائے گئے، کبھی صحافی، کبھی جج، کبھی طالب علم اور کبھی وہ لوگ بھی جو صرف سوال پوچھنے کی جرات رندانہ کے مرتکب ہوتے رہے۔یہ ملک شاید دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سیاسی اختلاف کو نظریاتی جنگ بنا دینے کی روایت بہت عام رہی ہے۔ یہاں مخالف کو غلط ثابت کرنا کافی نہیں سمجھا جاتا، اسے ملک دشمن ثابت کرنا ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی بحران میں سب سے پہلے زبانوں پر یہی لفظ غدار آتا ہے ۔کبھی فاطمہ جناح پر غداری کے اشارے دیئے گئے، کبھی شیخ مجیب الرحمن کو ہندوستان کا ایجنٹ کہاگیا، کبھی خان عبدالغفار خان کو مشکوک وفاداریوں کا طعنہ ملا، کبھی ذوالفقار علی بھٹو کو سکیورٹی رسک قرار دیاگیا،اور کبھی عمران خان پرریاست دشمنی کے الزامات عائد کئےگئے۔ گویا اس ملک میں اقتدار کی جنگ اکثر حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹ کر لڑی جاتی ہے۔ایسے میں زرداری کی سیاست دلچسپ دکھائی دیتی ہے۔وہ شاید پاکستان کے ان چند سیاست دانوں میں سے ہیں جنہوں نے خاموش مفاہمت کو اپنی سیاسی بقا کا ذریعہ بنایا۔ وہ جانتے ہیں کہ اس ملک میں تصادم وقتی مقبولیت تو دے سکتا ہے مگر مستقل سیاسی تشخص نہیں۔ اسی لئے وہ اکثر وہ باتیں زبان پر نہیں لاتے جو دوسرے سیاست دان جلسوں جوش جنوں میں کہہ دیتے ہیں۔وہ دھواں دار بیانات کے بجائے خاموش رابطوں پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ ان کے مخالفین انہیں بیک وقت کمزور بھی سمجھتے ہیں اور خطرناک بھی۔
آج اگرکوئی یہ سمجھ رہا ہےکہ ایوانِ صدر آسانی سےخالی ہوجائے گا تو شاید وہ پاکستانی سیاست کی پیچیدگیوں کو بہت سادہ انداز میں دیکھ رہا ہے۔کیونکہ آصف زرداری صرف ایک فرد نہیں، ایک سیاسی ضرورت بھی ہیں۔ وہ اس نظام کے ان کرداروں میں شامل ہیں جو شدید اختلاف کے باوجودسیاسی مکالمے کے دروازے بند نہیں کرتے۔ یہی ان کی اصل طاقت ہے۔یہ درست ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اب وہ جماعت نہیں رہی جو کبھی پنجاب کے گلی کوچوں میں بھٹو ازم کا طوفان اٹھا دیا کرتی تھی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ کے علاوہ اس کی عوامی جڑیں کمزور ہوئی ہیں مگر اس کے باوجود اگر کوئی جماعت آج بھی اقتدار کے کھیل میں کنگ میکر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ پیپلز پارٹی ہی ہے اور یہ زرداری کی کرشمہ سازی ہی ہوتی ہےکیونکہ سیاست صرف جلسوں کی تعداد سے نہیں چلتی، کبھی کبھی چندخاموش رابطےبھی حکومتیں بچا لیتے ہیں۔پاکستان اس وقت شدید سیاسی بےیقینی کا شکار ہے۔عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی سے تنگ ہیں، اتحادی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتیں، مقتدر حلقے سیاسی قیادت سے مکمل طور پر مطمئن نہیں، جبکہ ہر جماعت اگلے سیاسی بندوبست میں اپنے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ محفوظ کرنا چاہتی ہے۔ایسے ماحول میں غداریوں کی اسناد بانٹنے والے پھر سرگرم ہو جاتے ہیں۔کچھ لوگ راتوں رات حب الوطنی کے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں، کچھ ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر قوم پرستی کے پیمانے مرتب کرتے ہیں، کچھ سیاست دان اپنے مخالفین کو ریاست دشمن ثابت کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں حالانکہ سچ یہ ہےکہ اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان شاید اسی رویے نے پہنچایا ہےکیونکہ جب ہر مخالف غدار قرار پانے لگے تو پھر مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور جہاں مکالمہ ختم ہو جائے وہاں صرف نفرت باقی رہ جاتی ہے۔آصف زرداری اس حقیقت کو شاید دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں۔اسی لیے وہ اکثر خاموش رہتے ہیں۔ شاید بڑھاپےکی تھکن، وقت کے زخم، بےنظیر بھٹو کی یاد اور میثاقِ جمہوریت کا بوجھ انہیں ہر بارچپ کی چادر اوڑھ لینے پرمجبور کردیتا ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ اگر وہ چاہیں تو پاکستانی سیاست کی بساط پرکئی بڑے کھلاڑیوں کو حیران کرسکتےہیں مگر ان کی سیاست شور سے زیادہ انتظار پر یقین رکھتی ہے۔شاید اسی لئے ایوانِ صدر کے خالی ہونے کا خواب دیکھنے والوں کو ابھی مزید انتظار کرنا پڑے ۔واللہ اعلم ۔

یہ بھی پڑھیں