(گزشتہ سے پیوستہ)
دوسری طرف پی ٹی آئی، جو اس وقت شدید سیاسی دبائو اور ریاستی جبر و استبداد کا سامنا کررہی ہے، ہراس معاملے پرحکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی جس سے جمہوری حقوق یا سیاسی انجینئرنگ کا تاثر پیدا ہو۔یہیں سے وہ سیاسی افواہیں جنم لیتی ہیں کہ شاید دونوں جماعتیں ایک صفحے پر آسکتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟اگر پاکستانی سیاست کی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو جواب یہ ہے کہ ممکن تو ہے مگر آسان نہیں۔اسکی پہلی وجہ اعتماد کافقدان ہے۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں۔ عمران خان نے برسوں پیپلز پارٹی کو کرپشن کی علامت قرار دیاجبکہ پیپلز پارٹی نے عمران خان کو سلیکٹڈ سیاست کا نمائندہ کہا۔ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی بھی ایک مستقل عنصر رہی۔ایسے ماحول میں فوری سیاسی قربت ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا۔دوسری بڑی وجہ سیاسی مفادات کا فرق ہے۔پیپلز پارٹی اس وقت وفاقی سیاست میں مفاہمت کی پوزیشن میں ہے۔ وہ خود کو ایک ذمہ دار اور قابلِ قبول جماعت کے طور پر پیش کررہی ہے جبکہ پی ٹی آئی مزاحمتی سیاست کی علامت بن چکی ہے۔ ایک جماعت نظام کے اندر رہ کرتوازن چاہتی ہے، دوسری نظام پر بنیادی سوال اٹھارہی ہے۔یہ دونوں رویے وقتی طور پر کسی ایک معاملے پر اکٹھے ہوسکتے ہیں، مگر مستقل اتحاد کی بنیاد نہیں بن سکتے۔البتہ پاکستانی سیاست میں Issue-based alliance ہمیشہ ممکن رہا ہے۔مثلاً اگر کوئی آئینی ترمیم ایسی آتی ہے جو صوبائی خودمختاری کو متاثر کرے،عدالتی یا انتخابی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لائے،یا پارلیمانی توازن کو بدلنے کی کوشش کرے،تو پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں ایک جیسا موقف اختیار کرسکتی ہیں۔یہ بالکل ویسا ہی ہوگا جیسے ماضی میں مختلف جماعتیں کسی ایک آئینی یا جمہوری نکتے پر اکٹھی ہوگئی تھیں حالانکہ وہ ایک دوسرے کی سیاسی حریف تھیں۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستانی سیاست میں اکثر اتحاد کسی کے حق میں کم اور کسی کے خلاف زیادہ بنتے ہیں۔پاکستان قومی اتحاد بھٹو کے خلاف بنا، IJI بے نظیر کے خلاف، جبکہ میثاقِ جمہوریت فوجی مداخلت کے خلاف تھا۔اسی طرح اگر آج کوئی نئی سیاسی قربت بنتی ہے تو وہ غالباً کسی مشترکہ خوف یا خطرے کے ردعمل میں ہوگی، نہ کہ نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر۔میڈیا اور سوشل میڈیا اس وقت ہر سیاسی اشارے کو خفیہ ڈیل یا بڑے اتحاد کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستانی عوام بھی سیاسی ڈرامائیت کے اس ماحول میں جلد نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں خاموش رابطے، غیر رسمی مشاورتیں اور وقتی مفاہمتیں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں۔ انہیں فوری طور پر مستقل اتحاد سمجھ لینا درست نہیں۔اس تمام صورتحال میں اصل سوال اٹھائیسویں ترمیم سے زیادہ پاکستان کےسیاسی مستقبل کا ہے۔ کیاہماری سیاسی جماعتیں اب بھی صرف وقتی مفادات کی بنیاد پرقریب آئیں گی، یا کبھی ایسا بھی ہوگا کہ وہ جمہوری اصولوں، آئینی حدوداورعوامی حقوق پرمستقل اتفاقِ رائے پیدا کر سکیں؟ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہےکہ جب بھی سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو مکمل دشمن سمجھا، نتیجہ جمہوریت کے کمزور ہونے کی صورت میں نکلا اور جب بھی انہوں نے کم از کم آئینی نکات پر اتفاق کیا، سیاسی نظام نسبتا مستحکم ہوا۔میثاقِ جمہوریت اسی کی ایک مثال تھا۔آج اگر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کسی ایک آئینی مسئلے پر مشترکہ مقف اختیار کرتی ہیں تو اسے فوری طور پر غیر فطری اتحاد کہہ کر یکسر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ جمہوریت میں یہ معمول کی بات ہے کہ مختلف جماعتیں مخصوص نکات اور مفاد پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوجائیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ قربت جمہوریت کو مضبوط کرے گی یا صرف ایک نئے سیاسی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو گی؟پاکستان کی سیاست اس وقت شدید بے یقینی کے دوراہے پر کھڑی ہے۔ معاشی دبائو، عوامی بے چینی، ادارہ جاتی تنائو اور سیاسی تقسیم نے نظام سیاست کو نازک بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر نئی آئینی بحث محض قانونی معاملہ نہیں رہتی بلکہ طاقت کے توازن کی جنگ بن جاتی ہے۔اسی لیے اٹھائیسویں ترمیم کی سرگوشیاں بھی صرف آئینی بحث نہیں بلکہ مستقبل کی سیاسی صف بندیوں کے لئے پیش رفت سمجھی جارہی ہیں۔ممکن ہے چند ماہ بعد یہ ساری افواہیں دم توڑ جائیں اور کوئی بڑا اتحاد وجود میں نہ آئے۔ممکن ہے وقتی پارلیمانی تعاون ہی پوری کہانی ہو۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیاست ایک نئی کروٹ لے لے، کیونکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حرفِ آخر کبھی نہیں ہوتا۔یہ ملک بارہا ایسے مناظر دیکھ چکا ہے جہاں کل کے دشمن آج کے اتحادی بنے اور آج کے ساتھی کل کے سب سے بڑے مخالف۔اسی لیے پاکستانی سیاست کو سمجھنے کے لیئے صرف آج کی سرخی کافی نہیں، تاریخ کا حافظہ بھی ضروری ہے۔یہ منافقتوں کے جال ہیں جنہیں چوہے چپکے سے اپنے تیز اور نوکیلے دانتوں سے کاٹ کر ریزہ ریزہ ،دھاگا دھاگا کر دیتے رہے ہیں،اب بھی امکان یہی ہےکہ خاکی سب کچھ خاک میں ملا سکتے ہیں۔