پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذاکرات کالفظ ہمیشہ امیداوربدگمانی کےدرمیان معلق رہا ہے۔ یہاں مکالمےاکثراُس وقت شروع ہوتےہیں جب سیاسی درجۂ حرارت حدِ انتہا کو پہنچ چکا ہو، ادارے دباؤ محسوس کررہے ہوں،معیشت کی نائو ہچکولے لےرہی ہواورعوام بےیقینی کے اندھیروں میں راستہ تلاش کررہےہوں مگرالمیہ یہ ہےکہ ہمارے ہاں مذاکرات کی روایت کبھی قومی مفاہمت کی مضبوط بنیادنہیں بن سکی،یہ زیادہ تروقتی ضرورت،سیاسی مجبوری یا اقتدار کےکھیل کاایک حربہ بن کرسامنےآتی ہے۔ اسی لیےآج جب حکومت اوراپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی خبریں گردش کررہی ہیں توقوم کے ذہن میں پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ آیایہ واقعی قومی استحکام کی سنجیدہ کوشش ہےیا پھر اقتدار کی طوالت اور سیاسی بقاکاایک نیااسکرپٹ؟تاریخ کےاوراق پلٹیں تومعلوم ہوتاہےکہ برصغیر کی سیاست میں مذاکرات کا باب ہمیشہ طاقت اورمفاد کےتابع رہا۔ 1916ء کا ”میثاقِ لکھنؤ“ ہو، 1931ء کی گول میز کانفرنسیں یاقیامِ پاکستان سے قبل کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان مذاکرات، ہر جگہ اصولوں کے ساتھ طاقت کےتوازن کاسوال بھی موجود تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نےبھی مذاکرات کوکمزوری نہیں بلکہ سیاسی حکمتِ عملی کےطور پراستعمال کیامگر ان کی سیاست میں ایک بنیادی فرق تھا وہ قومی مفاداورآئینی اصولوں کوذاتی اقتدار پر ترجیح دیتےتھے۔ یہی وجہ ہےکہ انکےمذاکرات تاریخ میں وقارکےساتھ یادکیے جاتے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں بعد کی سیاسی تاریخ اس روایت کی امین نہ بن سکی۔ 1950ء کی دہائی میں اقتدارکی رسہ کشی نےسیاسی جماعتوں کوایک دوسرے کےخلاف اسٹیبلشمنٹ کے دریوزہ گری پر اکسایا۔
1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان مذاکرات اگرچہ آخری مرحلے تک پہنچ گئے تھے مگر بداعتمادی،طاقت کےمراکز کی مداخلت اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش نے سیاسی حل کو بالائے طاق رکھ دیا۔ نتیجہ مارشل لاء کی صورت سامنے آیا ۔ اسی طرح 1988ء کے بعد بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی سیاست میں بھی مذاکرات کم اور ایک دوسرے کے سیاسی کردا رکو لگام دینے کی کوششیں زیادہ دکھائی دیں۔ ”میثاقِ جمہوریت“ایک مثبت پیش رفت تھی، مگر اس کی روح بھی اقتدار میں آتے ہی اکثر فراموش کر دی گئی۔آج کے سیاسی منظرنامے میں بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتی۔ حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے مگر ساتھ ہی اپوزیشن پر قانونی اور انتظامی دباؤ بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن بھی مذاکرات کو اکثر سیاسی ریلیف حاصل کرنے یا اپنی عوامی طاقت بحال کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے پر منہمک رہتی ہے۔ گویا دونوں فریق بظاہر مکالمے کے داعی ہیں، مگر عملی طور پر ایک دوسرے پر اعتماد کرنے پر آمادہ نہیں۔ یہاں اصل سوال نیت کا نہیں بلکہ سیاسی کلچر کا ہے۔ پاکستان میں سیاست اب نظریات سے زیادہ اقتدار کی بقا اور مفادات کے حصول کی کتھا گت کا روپ دھار چکی ہے کی ہے۔ حکومتیں مذاکرات کو ڈنگ ٹپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں جبکہ اپوزیشن انہیں اپنی سیاسی سانس بحال رکھنے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کے اندر یہ احساس مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ شاید یہ تمام عمل ایک ایسے ڈرامے کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کا اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مکالمے نئے ہو جاتے ہیں مگر انجام وہی رہتا ہے عوام مزید مایوس، جمہوریت مزید مضمحل و ناتوں اور ریاستی ڈھانچہ مزید غیر مستحکم ہوتا ہے۔ جب سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو نتیجہ کسی ایک کی فتح نہیں بلکہ پورے نظام کی بساط لپیٹنےکی صورت میں نکلتا ہے۔جس کے آثار آج بھی ہویدا دکھائی دیتے ہیں۔ سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ بھی سیاسی ضد، عدم مفاہمت اور طاقت کے بے جا استعمال کا شاخسانہ تھا۔ اگر اُس وقت سیاسی قیادت سنجیدگی سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی تو شاید تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ اسی طرح 1990ء کی دہائی کی انتقامی سیاست نے جمہوری نظام کو اتنا کمزور کیا کہ ایک اور فوجی مداخلت کی راہ ہموار ہو گئی۔موجودہ حالات میں مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف ملاقاتوں یا مشترکہ اعلامیوں پر نہیں بلکہ چند بنیادی اصولوں پر ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ تمام فریق یہ تسلیم کریں کہ سیاسی مخالف دشمن نہیں ہوتا۔ دوسری شرط یہ کہ مذاکرات محض اقتدار کی بندربانٹ نہیں بلکہ آئینی استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہوں۔ تیسری اور اہم ترین شرط یہ کہ طاقت کے تمام مراکز سیاسی عمل کو اپنی سمت میں موڑنے کے بجائے اسے آزادانہ آگے بڑھنے دیں گے۔قوم اب پہلے جیسی سادہ نہیں رہی۔ سوشل میڈیا اور اطلاعات کے اس دور میں عوام سیاسی نعروں اور خفیہ مفاہمتوں کے تضادات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں ، جبکہ اقتدار کی شطرنج کی بساط بدستور بچھی ہوئی ہے۔ اسی لیئے عوام کے ذہن میں یہ سوال پھانس کی مثل اٹکا ہوا ہے کہ کیا مذاکرات واقعی قومی بحران کے حل کے لیے ہو رہے ہیں یا پھر یہ صرف سیاسی موسم بدلنے تک کا ایک عارضی کھیل ہے؟