Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پاکستانی سیاست کا دائمی ابہام

پاکستانی سیاست میں بعض جملے خبر سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ یہ جملے بظاہر مختصر ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر کئی مفروضے، اندیشے اور سیاسی اشارے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ایک معروف صحافی کا یہ کہنا کہ ’’اب جو ہونے جا رہا ہے، مسلم لیگ ن کو پیغام پہنچ چکا ہے‘‘ بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے جس نے سیاسی حلقوں میں سوالات کو جنم دیا ہے۔ آخر یہ پیغام کیا ہے؟ کس نے دیا ہے؟ اور کیا واقعی پاکستانی سیاست اب بھی پیغامات اور اشاروں کی مرہون منت یا محتاج محض ہے؟ یا جمہوری ادارے اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ فیصلے عوامی مینڈیٹ اور آئینی عمل کے مطابق ہوتے ہوں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ’’پیغام پہنچ جانا‘‘ایک مانوس اصطلاح معلوم ہوتی ہے۔ کبھی سیاسی جماعتوں کو اشارے ملتے رہے، کبھی حکومتوں کو مشورے دئیے جاتے رہے اور کبھی بعض قوتیں درپردہ رہ کر سیاسی منظرنامے کو تشکیل دیتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی سینئر صحافی اس نوعیت کی بات کرتا ہے تو اس کے سیاسی مضمرات پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ صحافی نے کیا کہا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں اب بھی ایسی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
ایک مستحکم جمہوریت میں کسی سیاسی جماعت کا مستقبل کسی خفیہ پیغام یا اشارے سے وابستہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ عوامی اعتماد، حکومتی کارکردگی اور آئینی عمل سے طے ہونا چاہیئے، لیکن ہمارے ہاں سیاسی تاریخ نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں اکثر لوگ پس پردہ عوامل کو عوامی فیصلوں سے زیادہ طاقتور گردانتے ہیں۔مسلم لیگ ن کی سیاسی تاریخ بھی اسی کشمکش سے عبارت ہے۔ یہ جماعت کبھی ریاستی اداروں کی حمایت یافتہ سمجھی گئی، کبھی انہی اداروں کے ساتھ شدید اختلافات کا شکار ہوئی اور کبھی مفاہمت کی سیاست کا راستہ اختیار کرتی نظر آئی۔ اس لئے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو کوئی پیغام پہنچ چکا ہے تو اس کے معنی محض ایک جماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے سیاسی نظام پر سوال اٹھاتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی پاکستان کی سیاست میں اب بھی ’’پیغامات‘‘فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں کی تنظیمی طاقت، عوامی مقبولیت اور انتخابی جدوجہد کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس نوعیت کے بیانات سیاسی فضا میں غیر ضروری قیاس آرائیوں کو جنم دیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت جن معاشی اور سیاسی چیلنجز سے کا سامنا ہے، ان میں سب سے زیادہ ضرورت سیاسی استحکام کی ہے۔ مہنگائی، قرضوں کا بوجھ، توانائی کے مسائل اور علاقائی سلامتی کے تقاضے ایسے مسائل ہیں جن کا حل صرف مضبوط جمہوری اداروں اور سیاسی اتفاقِ رائے میں پوشیدہ ہے۔ اگر سیاسی مباحث کا مرکز پھر سے خفیہ پیغامات، اندرونی اشارے اور پس پردہ فیصلے بن جائیں تو جمہوری ارتقا کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔صحافیوں کا کام سوال اٹھانا اور اطلاعات فراہم کرنا ہے، لیکن سیاست دانوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ شفافیت کو فروغ دیں تاکہ افواہوں اور قیاس آرائیوں کی گنجائش کم سے کم رہ جائے۔ جمہوریت کی اصل طاقت اسی میں ہے کہ فیصلے کھلے عام ہوں، عوام کو معلوم ہو کہ کیا ہو رہا ہے ، کیا ہونے جا رہا ہے ؟ اور سیاسی جماعتیں اپنی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ووٹر کی عدالت میں پیش کریں۔ کسی باخبر صحافی کے بیان سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، اس نے ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ ہمارا سیاسی نظام مکمل طور پر آئینی اور جمہوری بنیادوں پر ایستادہ نہیں بلکہ اب بھی ایسے عوامل موجود ہیں جو رسمی سیاسی عمل سے زیادہ اثر رکھتے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف بیانات میں نہیں بلکہ آنے والے دنوں کے سیاسی صورتحال میں پوشیدہ ہے۔
جمہوریت کی پختگی کا پیمانہ یہی ہے کہ کسی جماعت کا مستقبل کسی ’’پیغام‘‘سے نہیں بلکہ عوام کے فیصلے سے متعین ہو۔ جب تک یہ اصول پوری طرح نافذ نہیں ہوتا، تب تک ایسے جملے سیاسی بحث کا حصہ بنتے رہیں گے اور عوام یہ جاننے کی کوشش کرتے رہیں گے کہ اصل طاقت کہاں ہے اور اصل فیصلہ کون کرتا ہے ؟مدعا یہ ہے کہ کسی کی شخصی رائے اور مخصوص دعوے کی بنیاد پر سیاسی معاملات منسلک نہیں ہونے چاہئیں کہ جمہوری تناظر کے اندرون خانہ واقعات ومعاملات پر کوئی یوں رائے عامہ ہموار کرنے کی بے باکانہ سعی نہ کر سکے۔کہ یہ جمہوری سیاسی اقدار میں دراڑ ڈالنے کی کوشش ہے ۔ آزادی صحافت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا سیاسی معاملات میں نقب لگا کر ریٹنگ بڑھائی جائے۔کہ یہی وطیرہ سوشل میڈیا کا ہے کہ وہ بے پر کی اڑا کر خواہ مخواہ میں ہوا کا رخ موڑنے کی کوشش میں مبتلا نظر آتا ہے ۔جہاں تک کسی بھی سینئر صحافی کے اس نوعیت کا دعویدار ہونا سیاسی فضا میں ابہام پیدا کرنے کے مترادف ہوتا ہے اس لئے اس سے گریز کرنا چاہیئے یہی ایک خبر،ہی تو باقی نہیں رہ گئی بہت ساری اور خبریں ہیں جو قوم و ملک کی بابت امید کا کوئی در وا کر سکتی ہیں روشن امکانات کی کوئی نوید قوم کو دیں کہ یہ بہت عرصہ سے سیاسی اندھیروں کے کشٹ کاٹ رہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں