اے ایران!
تمہاری جنگ اگر واقعی فقط امریکہ سے ہے تو پھر خلیج کی ان پرامن بستیوں کا کیا قصور ہے جہاں ہمارے مزدور اپنے بچوں کی بھوک سے لڑنے جاتے ہیں؟وہ دبئی کی بلند عمارتوں میں اینٹیں اٹھانے والے ہاتھ ہوں، ریاض کی جھلستی دھوپ میں سڑکیں بچھانے والے مزدور ہوں یا ابوظہبی کے کارخانوں میں پسینہ بہاتے محنت کش ، یہ سب کسی عالمی طاقت کے سپاہی نہیں، اپنے گھروں کے چراغ ہیں۔تم جب آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دیتے ہو، میزائلوں کی زبان بولتے ہو، خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کی بات کرتے ہو تو تمہارے پائوں کے نیچے سب سے پہلے انہی غریبوں کی روزی کچلی جاتی ہے جن کے گھروں میں شاید آج بھی فریج نہیں مگر امید ضرور جلتی ہے۔تمہاری سیاسی ضدوں اور نظریاتی معرکہ آرائیوں کی قیمت وہ مائیں کیوں ادا کریں جن کے بیٹے برسوں سے پردیس کی مٹی پر سو کر اپنے وطن میں بچوں کے لئے دودھ خریدتے ہیں؟خلیج کے یہ ممالک ہمارے لاکھوں خاندانوں کے لئے فقط ریاستیں نہیں، آکسیجن ٹینٹ ہیں۔یہاں سے آنے والی ترسیلاتِ زر سے کتنے گھروں کے چولہے روشن رہتے ہیں، کتنی بچیاں پیا گھروں سے رخصت ہوتی ہیں، کتنے بیماروں کا علاج ممکن ہوتا ہے۔کوئی بھی شہرجنگ کی لپیٹ میں آتا ہے تو سب سے پہلے سرمایہ دار یا مالک نہیں مزدور مرتا ہے؛ محل نہیں، غریب کی جھونپڑی جلتی ہے۔
اے ایران!
تم خود بھی پابندیوں، مہنگائی اور عالمی دبائو کے زخم سہہ رہے ہو۔تمہیں تو سب سے بڑھ کر معلوم ہونا چاہئے کہ جنگ صرف بارود نہیں کھاتی، انسانوں کے خواب بھی نگل جاتی ہے۔پھر تم کیوں اس خطے کے امن کو یرغمال بنانا چاہتے ہو جہاں لاکھوں پاکستانی، بنگلہ دیشی، ہندوستانی، نیپالی اور افریقی مزدور رزق کی تلاش میں سرگرداں ہیں؟تمہارے انقلابی نعروں سے زیادہ قیمتی اس مزدور کی تھکی ہوئی ہتھیلی ہے جو ہر مہینے اپنے گاں میں چند ہزار روپے بھیج کر اپنے بچوں کے مستقبل کو زندہ رکھتا ہے۔وہ کسی جنگی بیانیے کا کردار نہیں، زندگی کی آخری امید ہے۔آج خطے کو میزائلوں سے زیادہ امن کی ضمانت کی ضرورت ہے۔ایران اگر تو واقعی مظلوموں کا خیر خواہ ہے تو تمہیں سب سے پہلے ان غریب خاندانوں کے مستقبل کومقدم سمجھنا چاہئے جو عرب دنیا کے امن سیجڑے ہوئے ہیں۔تم اپنی جنگ کو بندرگاہوں، مزدور بستیوں، تیل کی تنصیبات اور پرامن شہروں سے دور رکھو،کیونکہ جب خلیج میں آگ لگتی ہے تو اس کا دھواں صرف محلات تک نہیں جاتا، وہ غریب آدمی کے چولہے تک پہنچ کر اس کی آخری روٹی بھی جلا دیتا ہے۔یہ خطہ مزید جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔بارود کی بو سے معیشتیں مر جاتی ہیں، مگر سب سے پہلے انسان مرتا ہے اور اگر جنگ کے شعلے اسی طرح بھڑکتے تو شاید کسی سپر پاور کا کچھ نہ بگڑے، مگر ایک مزدور کے گھر کا دیا ہمیشہ کے لئے بجھ جائے گا۔
اے امریکہ!
اگر تمہاری لڑائی واقعی صرف ایران کے ساتھ ہے تو پھر اس پورے خطے کے غریب انسانوں کو اپنی طاقت کی بساط پر مہرے کیوں بناتے ہو؟تمہارے جنگی بیڑے جب خلیج کے پانیوں میں اترتے ہیں، تمہارے طیارے جب دھمکیوں کی گھن گرج پیدا کرتے ہیں، تمہاری پابندیاں جب معیشتوں کی شہ رگ دباتی ہیں تو سب سے پہلے کسی جنرل یا سرمایہ دار کا نہیں، ایک مزدور کا گھر اجڑتا ہے۔وہ مزدور جو پاکستان، بنگلہ دیش، ہندوستان، نیپال اور افریقہ کے دور افتادہ دیہات سے عرب دنیا میں صرف اس لئے آیا تھا کہ اس کے بچے بھوک سے محفوظ رہ سکیں۔وہ سیاست نہیں سمجھتا، عالمی طاقتوں کے مفادات نہیں جانتا، اسے فقط اتنا معلوم ہے کہ ہر مہینے اس نے گھر پیسے بھیجنے ہیں تاکہ اس کی ماں کی دوا، بچوں کی فیس اور گھر کے چولہے کی لو زندہ رہ سکے۔
اے امریکہ!
تم دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہو، اس لئے تمہاری ایک دھمکی بھی تیل کی قیمتوں کو آگ لگا دیتی ہے، بازاروں میں خوف بھر دیتی ہے اور لاکھوں محنت کشوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیتی ہے۔تمہاری اقتصادی پابندیاں ایوانوں میں بیٹھے طاقتور لوگوں سے زیادہ عام انسانوں کے جسموں پر کوڑے بن کر برستی ہیں۔جنگی حکمتِ عملی کے نقشوں پر شاید صرف اہداف دکھائی دیتے ہوں، مگر زمین پر انہی اہداف کے سائے میں مزدوروں کی بستیاں بھی وجود رکھتی ہیں۔خلیج کے پرامن ممالک صرف تیل کے کنویں نہیں، لاکھوں تارکینِ وطن کے خوابوں کی تعبیریں ۔یہاں کی فیکٹریاں، بندرگاہیں، تعمیراتی منصوبے اور بازار ان محنت کشوں کے سہارے چلتے ہیں جو اپنے اوطان کی بکھری ہوئی معیشتوں کو سہارا دینے یہاں آئے ہوئے ہیں۔اگر جنگ بھڑکی، اگر جنگ کےخوف سے معیشتیں لرزتی رہیں تو سب سے پہلے انہی مزدوروں کے روزگار ختم ہوں گے۔
اے امریکہ!
دنیا کو اسلحے کے نئے معاہدوں کی بجائے امن کے نئے معاہدوں کی ضرورت ہے۔تم اگر واقعی عالمی استحکام کے دعوے دار ہو تو تمہیں اپنی طاقت کا استعمال آگ بھڑکانے کے بجائے آگ بجھانے کے لئے کرنا چاہیئے۔تمہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگیں کبھی صرف دو ملکوں کے درمیان محدود نہیں رہتیں؛ ان کے شعلے ہمیشہ غریب انسانوں کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔آج ایک پاکستانی مزدور دبئی کی کسی بلند عمارت پر کھڑا اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب بن رہا ہے۔ایک بنگلہ دیشی مزدور سعودی عرب کی سڑک پر پسینہ بہا رہا ہے۔ایک نیپالی مزدور ابوظہبی کی فیکٹری میں رات بھر جاگ کر اپنے بچوں کی بھوک سے لڑرہا ہے۔ ان لوگوں کو کسی عالمی تصادم کا ایندھن نہیں بننا چاہئیے۔ہمارے اس خطے کے چولہے بڑی مشکل سے جلتے ہیں، انہیں جنگ کی سیاست سے بجھنے نہ دو۔میزائلوں سے زیادہ قیمتی انسان کی روٹی ہے، اور طاقت سے زیادہ مقدس ایک مزدور کے بچوں کی بھوک ہے ۔اگر تم واقعی عظیم ہو تو اپنی عظمت کا ثبوت جنگ روک کر دو، کیونکہ تاریخ آخرکار ہتھیاروں کی نہیں، انسانوں کو بچانے والوں کی عزت کرتی ہے۔