معاشروں کی پہچان صرف ان کی بلند و بالا عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور صنعتی ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کے لئے کتنی آسانیوں کا اہتمام و انصرام کرتے ہیں۔ ایک مہذب ریاست وہی ہوتی ہےجو اپنے شہریوں کو محض زندہ رہنے کا نہیں بلکہ باوقار زندگی کرنے کا حق دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور طبقاتی تفاوت فزوں تر ہوں، وہاں اگر کوئی حکومت عام آدمی کے لیے سہولیات کا در وا کرتی ہے تو یہ عمل یقینا قابلِ توجہ بھی ہے اور قابلِ ستائش بھی ۔حالیہ دنوں میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے متعارف کروائی گئی مفت لوکل سفر کی سہولت ایک ایسا ہی اقدام ہے، جس نے عوامی سطح پر خاصی پذیرائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ یہ منصوبہ بظاہر سادہ ہے، خواتین، طلبہ اور بعض صورتوں میں بزرگ شہریوں کو شہری ٹرانسپورٹ میں مفت یا انتہائی رعایتی سفر کی سہولت فراہم کرنا۔ مگر اس سادگی کے پیچھے کئی پیچیدہ سماجی، معاشی اور سیاسی پہلو پوشیدہ ہیں۔سب سے پہلے اس اقدام کے مثبت پہلوئوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کی نقل و حرکت ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک، عورت کے لئے گھر سے باہر نکلنا صرف سماجی رکاوٹوں ہی کا نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی رہا ہے۔ ایسے میں اگر پبلک ٹرانسپورٹ میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی جائے تو یہ نہ صرف خواتین کی خودمختاری میں اضافہ کرتی ہے بلکہ انہیں تعلیم، روزگار اور صحت جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی بھی آسان بناتی ہے۔یہی صورتحال طلبہ کے لئے بھی ہے۔
پاکستان میں ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو محض سفری اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں یا معیاری اداروں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر انہیں سستی یا مفت ٹرانسپورٹ مہیا کی جائے تو یہ اقدام انسانی سرمایہ کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ منصوبہ بظاہر ایک بوجھ معلوم ہوتا ہے کیونکہ حکومت کو اس کے لیے سبسڈی فراہم کرنا پڑتی ہے۔ لیکن اگر اس کےطویل مدتی اثرات کاجائزہ لیا جائے تو یہ بوجھ ایک سرمایہ کاری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی، متحرک اورخودمختار آبادی کسی بھی ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یوں یہ منصوبہ بالواسطہ طور پر اقتصادی ترقی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔تاہم ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ، اس منصوبے پر تنقید کرنے والے اسے ایک وقتی اور نمائشی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان ہے، نہ کہ کرایہ۔ پاکستان کے اکثر شہروں میں معیاری اور وسیع پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام موجود ہی نہیں۔ چندبڑے شہروں میں میٹرو بس یا ٹرین جیسی سہولتیں ضرور ہیں مگر چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں لوگ آج بھی پرانے، غیر محفوظ اور مہنگے ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مفت سفر کی سہولت ان علاقوں کے لوگوں کے لئے بھی کوئی معنی رکھتی ہے جہاں ٹرانسپورٹ کا نظام ہی موجود نہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ منصوبہ ایک مخصوص طبقے یا مخصوص جغرافیے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ایک اور اہم پہلو اس منصوبے کی پائیداری ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں اور مالیاتی خسارے کا شکار ہے۔ ایسے میں مستقل بنیادوں پر سبسڈی فراہم کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اگر مستقبل میں مالی دبائو کے باعث یہ سہولت واپس لے لی جاتی ہے تو اس سے عوام میں مایوسی اور بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسے منصوبوں کو وقتی سیاسی فائدے کے بجائےطویل المدتی حکمت عملی کے تحت ترتیب دیا جائے۔سیاسی تناظر میں بھی اس منصوبے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فلاحی اقدامات اکثرحکومتوں کےلئےعوامی حمایت حاصل کرنےکا ایک موثر ذریعہ ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ اقدام سیاسی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہےکہ آیا یہ عوام کے حقیقی مسائل کا پائیدارحل فراہم کرتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ منصوبہ واقعی عوامی زندگی میں مثبت تبدیلی لاتا ہےتو اسکی سیاسی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔مزید برآں اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس کے نفاذ پر بھی ہے۔ اگر ٹرانسپورٹ کا نظام منظم، محفوظ اور بروقت نہ ہو تو مفت سفر کی سہولت اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔
خواتین کے لئے محفوظ ماحول، وقت کی پابندی اور گاڑیوں کی مناسب تعداد ایسے عوامل ہیں جو اس منصوبے کو کامیاب یا ناکام بنا سکتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں پبلک ٹرانسپورٹ کو یاتو انتہائی سستا رکھا جاتا ہے یا مخصوص طبقات کے لیے مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ ٹریفک کے مسائل کو کم کرنا، ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا اور شہری زندگی کو بہتر بنانا بھی ہوتا ہے۔ اگر پاکستان میں بھی اس وژن کے تحت پالیسی سازی کی جائے تو یہ منصوبہ ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ مفت لوکل سفر کی سہولت ایک ایسا اقدام ہے جس میں امکانات بھی ہیں اور خدشات بھی۔ یہ ایک ایسا بیج ہے جو اگر درست زمین، مناسب دیکھ بھال اور طویل المدتی حکمت عملی کے ساتھ پروان چڑھے تو ایک تناور درخت بن سکتا ہے لیکن اگراسے محض وقتی سیاسی فائدے کےلئے استعمال کیا گیا تو یہ جلد ہی اپنی اہمیت کھو بیٹھے گا۔ریاست کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو وقتی ریلیف دینے کے بجائے ان کی زندگیوں میں پائیدار بہتری لانے کے لیے سنجیدہ اور مستقل اقدامات کرے۔ مفت سفر کی یہ سہولت اگر ایک جامع ٹرانسپورٹ پالیسی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے ساتھ جڑ جائے تو یقینا پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے خواب کے قریب لا سکتی ہے۔