پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں الفاظ نہیں اعداد و شمار چیخ چیخ کر حقیقت حال بیان کر رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بحران نہیں، نہ ہی یہ محض وقتی دبائو ہے جسے وقتی اقدامات سے سنبھالا جا سکے۔ یہ ایک مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال ہے جس نے ریاستی ڈھانچے، پالیسی سازی، اور حکمرانی کے پورے تصور کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس سنگین صورت حال کے باوجود اقتدار کے ایوانوں میں ایک عجیب سی بے حسی، لاپروائی اور خود فریبی کا راج ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بے یقینی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں، مگر حکمران طبقات کے طرزِ عمل میں کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان کی معیشت کی کشتی طویل عرصے سے بدحالی کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ جو لوگ کے کھیون ہار ہیں ، وہ یا تو اس خطرے کی شدت کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ فارم 47کے معجزے کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت کے ابتدائی دو سالوں کے دوران قرضوں میں 15 ہزار 72ارب روپے کا ہوشربا اضافہ اس بے حسی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یہ اضافہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسی داستان ہے جو پالیسی ناکامی، مالی بدانتظامی اور ترجیحات کے فقدان کی عکاسی کرتی ہے۔اگر اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مارچ 2024 ء سے فروری 2026 ء کے درمیان قرضوں میں یہ تاریخی اضافہ ہوا۔ یعنی اوسطا ًہر روز تقریباً 21ارب روپے کا نیا بوجھ قوم کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔ یہ وہ رفتار ہے جسے کسی بھی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ قرضے کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ کیا یہ سرمایہ کاری، صنعت، برآمدات یا انفراسٹرکچر کی بہتری پر لگ رہا ہے؟ یا پھر یہ محض پرانے قرضوں کی ادائیگی اور حکومتی اخراجات کے بوجھ کو سہارا دینے کے لئے استعمال ہو رہا ہے؟مرکزی بینک کی تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں 14ہزار 4 ارب روپے اور بیرونی قرضوں میں 1ہزار 68ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے اندرونی ذرائع سے بھی بے دریغ قرض لیا اور بیرونی دنیا سے بھی ہاتھ پھیلانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔ داخلی قرضوں کا بڑھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت نے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے بڑے پیمانے پر ادھار لیا، جس کا براہ راست اثر نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔ جب حکومت زیادہ قرض لیتی ہے تو نجی شعبے کے لیے سرمایہ مہنگا اور محدود ہو جاتا ہے، نتیجتا صنعتی سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں۔دوسری جانب بیرونی قرضوں میں اضافہ ملک کی خودمختاری اور مالی آزادی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ہر نیا قرض نہ صرف سود کی صورت میں ایک مستقل بوجھ بن جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ آنے والی شرائط بھی ملکی پالیسیوں کو محدود کر دیتی ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے بار بار جھکنا دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اپنی معیشت کو خود سنبھالنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔یہ صورتحال صرف اقتصادی اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات براہ راست عوام کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح مسلسل بلند ہورہی ہے، اشیائے ضرورت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، اور تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ ایسے میں جب حکومت قرض لے کر بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو، تو اس کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔یہاں ایک اور اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ سب کچھ ناگزیر تھا؟ کیا واقعی کوئی اور راستہ موجود نہیں تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی بہتری کے لئے مشکل مگر ضروری فیصلے کرنا پڑتے ہیں، مگر ان فیصلوں کے لیے سیاسی عزم، دیانتداری اور طویل المدتی وژن درکار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں پالیسی سازی اکثر وقتی سیاسی فائدے کے گرد گھومتی ہے، جس کے نتیجے میں معیشت کو مستقل نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ٹیکس نظام کی کمزوری، برآمدات میں جمود، درآمدات پر حد سے زیادہ انحصار، اور سرکاری اداروں کی نااہلی جیسے مسائل برسوں سے موجود ہیں، مگر ان کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اور مستقل کوشش دور اذکارہے ۔ اس کے برعکس آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے قرض لینا ہی واحد حل سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔جبکہ حکومت کی ترجیحات تو سوالیہ نشان بنی ہی ہوئی ہیں۔ جب ملک شدید مالی بحران کا شکار ہو تو اخراجات میں کفایت شعاری اولین ترجیح ہونی چاہیے، مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ غیر ضروری منصوبے، شاہانہ اخراجات اور حکومتی مشینری کا بڑھتا ہوا حجم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکمران طبقہ زمینی حقائق کے احساس ماورا زندگی ببسر کر رہا ہے اور عوامی مسائل سے سراسر کٹا ہوا ہے۔اس تمام منظرنامے میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو احتساب کا فقدان ہے۔ نہ تو کوئی واضح جوابدہی کا نظام موجود ہے اور نہ ہی عوام کو یہ بتایا جاتا ہے کہ قرض لے کر کیا حاصل کیا گیا۔ شفافیت کی کمی اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کرتی جا رہی ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے وسائل ضائع ہو رہے ہیں اور ان کی مشکلات میں شب و روز اضافہ ہورہا ہے، تو ریاست اور شہریوں کے درمیان فاصلے بڑھنے جاتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ معیشت کی بحالی کوئی آسان کام نہیں، مگر یہ ناممکن بھی نہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ خود فریبی اور خوش فہمیوں سے باہر نکل کر ایک جامع اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، برآمدات کو فروغ دینا، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، اور سرکاری اداروں کی نجکاری جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑھ کر حکومتی اخراجات پر کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام بھی بے حد ضروری ہے۔ جب تک ملک میں سیاسی کشمکش اور غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، سرمایہ کاری نہیں آئے گی اور معیشت مستحکم نہیں ہو سکے گی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے امتحان سے گزر رہی ہے جس کے نتائج آنے والی دہائیوں کو متاثر کریں گے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو یہ قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہو جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اور قوم کو محض وعدوں اور دعوں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے امید دے۔ ورنہ تاریخ اس بے حسی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔