Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

یوم مزدور پر ایک مزدور شاعر کا ذکر

یومِ مزدور محض محنت کشوں کے اعزاز میں منائے جانے کا ایک دن نہیں، بلکہ ایک استعارہ ہے پسینے کی بو، ہاتھوں کی سختی، اور خوابوں کی شکستہ کرچیاں سمیٹنے والے مزدور کا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیب و تمدن کی ہر اینٹ کے نیچے کسی مزدور کی سانس، کسی ماں کی دعا، اور کسی بچے کی محرومی چھپی ہوتئی ہے۔ ایسے میں جب ہم اپنے عہد کے مزاحمتی شعرا کو یاد کرتے ہیں تو تنویر سپرا کا نام ایک توانا آواز کی طرح لوح ذہن پر ابھرتا ہے وہ آواز جسے کارخانوں کا شور بھی مدہم نہ کر سکا اور اس کی آواز آج بھی خاموش دلوں میں گونجتی ہے۔سپرا کا کلام محض شاعری نہیں، ایک مزاحمت ہے ، ایک ایسا احتجاج ہے جو نعرہ نہیں بنتا بلکہ دل میں اتر کر انسان کو بے چین کر دیتا ہے۔ ان کے ہاں مزدور کوئی تصوراتی کردار نہیں بلکہ زندہ، سانس لیتا، دکھ سہتا اور خواب دیکھتا انسان ہے۔
وہ کہتے ہیں
رات کی شفٹ چلا کر مجھ کو
خوابوں سے محروم کیا
میرے آجر نے میری فطرت پر ڈاکہ ڈالا ہے
یہ شعر صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ پورے صنعتی نظام پر فردِ جرم ہے۔ سرمایہ دارانہ ڈھانچے نے انسان کو مشین کا پرزہ بنا دیا ہے، جہاں اس کی نیند، اس کا سکون، حتی کہ اس کے خواب بھی خرید لیئے جاتے ہیں۔ مزدور صرف جسمانی مشقت نہیں کرتا بلکہ اس کی کیا روح بھی تھک کر چور ہوتی ہیاور یہی تھکن سپرا کے لفظوں میں لہو بن کر دوڑتی ہے۔ایک اور جگہ وہ طبقاتی فرق کو یوں بیان کرتے ہیںمِل مالک کے کتے بھی چربیلے ہیںلیکن مزدوروں کے چہرے پیلے ہیںیہاں طنز اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ معاشرے کی ترجیحات کا یہ الٹ پن صرف ایک المیہ نہیں بلکہ ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہی ہے کہ انسان سے زیادہ جانور کی خوراک بہتر ہو جائے؟ کیا یہی وہ دنیا ہے جس کا خواب دکھایا گیا تھا؟سپرا کی شاعری کا سب سے دردناک پہلو وہ وراثتی محرومی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے وہ کہتا ہے میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کوانہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے، یہ شعر صرف غربت کا نہیں، محرومی کے تسلسل کا نوحہ ہے۔ وہی محرومی جو باپ نے جھیلی، بیٹا بھی جھیلنے کو مقدر سمجھتا ہے۔ گویا خواب بھی طبقاتی ہو گئے ہیں کچھ خواب امیروں کے لیئے مخصوص، کچھ محروموں کے لیے ہمیشہ ادھورے۔
یومِ مزدور کے تناظر میں اگر ہم اس معاشرتی حقیقت کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ محنت کش آج بھی استحصال کے اسی چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ قوانین بنے، نعروں کی گونج بھی رہی، مگر عملی سطح پر تبدیلی نہ آ سکی۔ سپرا اسی جمود کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیںدن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوںشب کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوںیہاں مزدور صرف مزدور نہیں رہتا، ایک تخلیق کار بن جاتا ہے۔ دن کی مشقت کے بعد بھی اس کے اندر ایک شاعر زندہ ہے، جو لفظوں کے ذریعے اپنے وجود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ شعر اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کو مکمل طور پر مشین نہیں بنایا جا سکتا اس کے اندر کہیں نہ کہیں ایک خواب دیکھنے والا ضرور زندہ رہتا ہے۔سپرا کے ہاں احتجاج صرف معاشی نہیں، اخلاقی بھی ہے،میں آج اپنے قتل کا الزام دوں کسے میری ہی آستیں پہ مرے خوں کا رنگ ہییہ خود احتسابی کا کرب ہے۔ شاعر صرف نظام کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا بلکہ فرد کو بھی جھنجھوڑتا ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی سطح پر اس استحصالی نظام کا حصہ بن چکے ہیں ، خاموش رہ کر، سمجھوتہ کر کے، یا فائدہ اٹھا کر۔یومِ مزدور ہمیں صرف مزدور کے حقوق کی بات نہیں سکھاتا بلکہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ایک معاشرہ تبھی مہذب کہلا سکتا ہے جب وہ اپنے کمزور طبقے کو عزت دے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی :
کچھ لوگ ابھی میری کفالت میں ہیں سپرا
میں ان کے لئے موت سے لڑ کر بھی جیوں گا
یہ عزم اگرچہ قابلِ ستائش ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی مجبوری بھی اتنی ہی تلخ ہے۔ مزدور جیتا بھی ہے تو دوسروں کے لئے، مرتا بھی ہے تو دوسروں کے لئے۔ اس کا اپنا وجود کہیں پس منظر میں چلا جاتا ہے۔سپرا کی شاعری میں جدیدیت پر بھی ایک گہرا طنز ملتا ہے دیہات کے وجود کو قصبہ نگل گیاقصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی یہ ترقی کا وہ سفر ہے جس میں انسان پیچھے رہ گیا اور ڈھانچے آگے بڑھ گئے۔ دیہات کی سادگی، قصبوں کی اپنائیت، سب کچھ شہری چکاچوند کی نذر ہو گیا۔ مگر اس ترقی نے مزدور کو کیا دیا؟ مزید مشقت، مزید بے یقینی، اور مزید تنہائی۔آخر میں سپرا کا یہ شعر پورے کلام کا نچوڑ محسوس ہوتا ہے اب تک مرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہییہ صرف ایک فرد کی کیفیت نہیں بلکہ پورے طبقے کی نفسیاتی حالت ہے۔ مزدور کا جسم ہی نہیں، اس کا ذہن بھی مشین بن چکا ہے۔ وہ آرام کے لمحوں میں بھی سکون محسوس نہیں کر پاتا کیونکہ مشینوں کی آواز اس کے اندر بس چکی ہے۔یومِ مزدور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دے سکے ہیں؟ کیا ہم نے محنت اور محنت کش کی قدر کی ہے یا صرف منافع کو ترجیح دی ہے؟ تنویر سپرا جیسے شعرا ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں ایسا آئینہ جس میں ہم اپنی اجتماعی ناکامیوں کو صاف دیکھ سکتے ہیں۔یہ دن صرف تقریروں اور تعطیل کا نہیں، احتساب کا دن ہے۔ اگر ہم واقعی مزدور کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف اس کے حق میں بولنا نہیں بلکہ اس کے لئے نظام بدلنا ہوگا۔ ورنہ سپرا کے اشعار یونہی ہمارے ضمیر پر دستک دیتے رہیں گے اور ہم یونہی خاموشی سے سنتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں