Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بے ہنر گروہ کے شکنجے میں پھنسی معیشت

پاکستان کے موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب سی بے سمتی، بے یقینی اور انتشار کا احساس رگ جاں میں اتر جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ریاستی ڈھانچہ ایک ایسے ہاتھوں میں آ چکا ہے جو نہ صرف کمزور ہیں بلکہ سمت شناسی سے بھی محروم ہیں۔ یہ محض سیاسی اختلاف یا وقتی بحران نہیں، بلکہ ایک گہری ساختی کمزوری کا مظہر ہے جہاں فیصلہ سازی کا عمل ان لوگوں کے سپرد ہو چکا ہے جو نہ تو حالات کی نزاکت کو باور کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی واضح وژن موجود ہے۔ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں کہ نااہلی اور کم فہمی نےحکمرانی کے ایوانوں میں جگہ بنائی ہو، مگر آج کی صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہاں بے ہنری ایک منظم شکل اختیار کرچکی ہے۔ گویا ایک پورا طبقہ، ایک پورا نظام ہی اس سوچ پر قائم ہو چکا ہے کہ معاملات کو وقتی طور پر سنبھالنا ہی کافی ہے، چاہےاس کےلئے مستقبل کو گروی کیوں نہ رکھنا پڑے۔حکمران طبقہ خود اپنے ذاتی اور خاندانی مسائل میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ قومی معاملات ان کی ترجیحات میں کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں فیصلے اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفادات کے ترازو پر تولے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل نہیں، فیصلوں میں پختگی نہیں، اور ریاستی اداروں میں اعتماد کا فقدان فروتر ہوتا جا رہا ہے۔معیشت، جو کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اس وقت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو نہ تو اس کے بنیادی اصولوں سے آگاہ ہیں اور نہ ہی عالمی معاشی رجحانات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ معیشت کو سہارا دینے کے نام پر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو وقتی طور پر کچھ لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں مگر مجموعی طور پر قوم کو مزید مقروض اور ناتواں بنا دینے کی رو میں بہتے چلے جا رہے ہیں۔قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، مہنگائی عوام کی کمر توڑ رہی ہے اور بیروزگاری ایک خاموش طوفان کی طرح پھیل رہی ہے۔ مگر اس سب کے باوجود حکمرانوں کے بیانات میں اطمینان کا عنصر غالب رہتا ہے۔
یہ تضاد دراصل اسی بے ہنری کا ثبوت ہے جس نے حقیقت کو تسلیم کرنے کی صلاحیت بھی سلب کر لی ہے۔داخلی معاملات میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ امن و امان کا مسئلہ ہو، عدالتی نظام کی کمزوریاں ہوں یا انتظامی بدحالی ہر طرف ایک ہی کہانی نظر آتی ہے، ذمہ داری کا فقدان اور جوابدہی سے فرار۔ ادارے اپنی اصل روح کھو چکے ہیں اور افراد اداروں پر حاوی ہو چکے ہیں۔ جب ادارے مضمحل ہوتےہیں تو ریاست کا ڈھانچہ خود بخود لرزنے لگتا ہے۔خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی یہی بے سمتی واضح ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، عالمی طاقتوں کے درمیان نئے اتحاد بن رہے ہیں، مگر ہم ابھی تک پرانی حکمت عملیوں کے سہارے چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نتیجتاً نہ ہم کسی مضبوط بلاک کا حصہ بن پا رہے ہیں اور نہ ہی اپنی خودمختاری کو موثر انداز میں منوا پا رہے ہیں۔یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچ کا نتیجہ ہے وہ سوچ جو میرٹ کو پس پشت ڈال کر وفاداری کو ترجیح دیتی ہے، جو قابلیت کے بجائے اقربا پروری کو معیار بناتی ہے، اور جو قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو اولیت دیتی ہے۔ یہی سوچ ایک بے ہنر گروہ کو جنم دیتی ہے جو نہ صرف خود نااہل ہوتا ہے بلکہ پورے نظام کو بھی مفلوج کر دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا حل کیا ہے؟ کیا ہم محض تنقید کرتے رہیں یا کوئی مثبت راستہ بھی تلاش کریں گے ؟
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح محض حکمرانوں کی تبدیلی سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور کی بیداری ضروری ہوتی ہے۔سب سے پہلے تو ہمیں بحیثیت قوم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ صرف افراد کا نہیں بلکہ نظام کا بھی ہے۔ جب تک ہم ایک ایسا نظام قائم نہیں کرتے جو میرٹ، شفافیت اور جوابدہی پر مبنی ہو، تب تک کسی بھی تبدیلی کا اثر دیر پا نہیں ہوگا۔تعلیم اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ ہی بہتر قیادت کا انتخاب کر سکتا ہے۔ جب عوام اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں گے تو وہ محض نعروں اور وعدوں کے سحر میں نہیں آئیں گے بلکہ کارکردگی کو معیار بنائیں گے۔میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر میڈیا سنجیدہ اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے، مسائل کی اصل جڑ تک پہنچے، اور عوام کو درست معلومات فراہم کرے تو یہ ایک مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر میڈیا بھی مفادات کے کھیل کا اٹوٹ انگ بن جائے تو پھر اصلاح کی امید کم ہو جاتی ہے۔اسی طرح عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کو بھی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے مضبوط اور خودمختار ہونا ہوگا۔ جب ادارے مضبوط ہوں گے تو افراد کی نااہلی کا اثر کم ہو جائے گا۔ پاکستان محنت کشوں اور عظیم صلاحیتوں کے حامل افراد کا ملک ہے۔ یہاں وسائل کی کمی نہیں، مسئلہ صرف ان وسائل کے درست استعمال کا ہے۔ اگر قیادت اہل ہو، نظام شفاف ہو، اور عوام باشعور ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو سکے۔اللہ پاکستان کے حال پر رحم کرے، مگر ساتھ ہی ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف دعاں سے نہیں بلکہ عمل سے بدلتی ہے۔ جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک حالات کی تبدیلی محض ایک خواب ہی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں