Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سرمایہ کاری کا زوال یا پالیسیوں کی شکست؟

پاکستان کی معاشی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آئے ہیں جب امیدوں کے چراغ روشن ہوئے، بیرونی سرمایہ کاروں نے اس خطے کو ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر دیکھا، اور ترقی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی۔ مگر افسوس کہ یہ چراغ اکثر تیز ہواں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ آج ہانگ جینگ کے ممکنہ انخلا کی خبر اسی طویل داستان کا تازہ باب محسوس ہوتی ہے ،ایک ایسی داستان جس میں صرف ایک کمپنی نہیں بلکہ درجنوں عالمی ادارے خاموشی سے پاکستان کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔یہ محض کاروباری فیصلے نہیں، بلکہ ایک اجتماعی عندیہ ہیں ایک ایسا عندیہ جسے سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم گزشتہ چند برسوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بڑی بڑی کمپنیاں پاکستان سے اپنا سب کچھ سمیٹ کر جاچکی ہیں۔ توانائی کے شعبے میں Shell اورTotalEnergies جیسے نام نمایاں ہیں، جنہوں نے یا تو اپنے حصص فروخت کیے یا پاکستان مار کیٹ سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرلیا۔۔یہ وہ کمپنیاں تھیں جو دہائیوں سے پاکستان میں کام کر رہی تھیں، اور ان کا جانا محض ایک کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کا مظہر ہے۔اسی طرح فارماسیوٹیکل سیکٹر میں Pfizer، Sanofi، Eli Lilly اور دیگر کمپنیوں کا انخلا بھی ایک تشویشناک رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وہ ادارے تھے جو نہ صرف کاروبار کر رہے تھے بلکہ صحت کے شعبے اٹوٹ انگ بنے ہوئے تھے۔
پاکستان کی ترقی کے اہم ستون کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کا جانا صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی اثرات کا بھی شاخسانہ ہے۔ٹیکنالوجی کے میدان میں Telenor اور Microsoft جیسے اداروں کا پیچھے ہٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایک ایسا ملک جو ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھنے کا دعویٰ کرتا ہے،جس کے حکمرا ن دن رات ترقی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں ، یہاں سے نامور عالمی کمپنیز میں ایک عالمی ٹیک کمپنیوں کا انخلا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟یہ سوال اب محض تجسس نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو سرمایہ کاروں کو پاکستان سے اغماز پر آمادہ کر رہے ہیں؟سرمایہ کار تو ہمیشہ استحکام کی تلاش میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی، مہنگائی کی بلند شرح، اور زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے کہ مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ جب ایک کمپنی کو یہ یقین نہ ہو کہ وہ اپنے منافع کو محفوظ طریقے سے باہر منتقل کر سکے گی، تو وہ یہاں رہنے کا خطرہ کیوں مول لے؟پاکستان میں ہر نئی حکومت اپنے ساتھ نئی ترجیحات اور نئی پالیسیاں لے کر آتی ہے۔ جو مراعات ایک دور میں دی جاتی ہیں، وہ اگلے دور میں ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ عدم تسلسل سرمایہ کار کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ وہ طویل المدتی منصوبہ بندی نہیں کر پاتا۔کاروبار کے لیے درکار اجازت نامے، ٹیکس قوانین، اور دیگر قانونی تقاضے اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ایک غیر ملکی کمپنی کے لیے ان سے نمٹنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاخیر اور غیر شفافیت کے عناصر بھی اس عمل کو مزید گنجلک بنا دیتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کی عدم دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایک صنعت کار کے لئے یہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔اگرچہ پاکستان کی آبادی بڑی ہے، مگر قوتِ خرید کمزور ہے۔ مہنگائی نے عوام کی جیب کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ مارکیٹ میں طلب کم ہو گئی ہے۔ جب مصنوعات فروخت نہ ہوں، تو کاروبار کیسے چلے؟ان امور کا عالمی تناظر میں جائزہ لیا جائے تو انسان دلگرفتہ ہو کر رہ جاتا ہے کہ دنیا اب ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے جہاں سرمایہ کسی ایک جگہ کا پابند نہیں۔ ویتنام، بنگلہ دیش، اور انڈیا جیسے ممالک نے نہ صرف بہتر پالیسیز متعارف کروائی ہیں بلکہ سرمایہ کاروں کو ایک مستحکم ماحول بھی فراہم کیا ہے۔مثال کے طور پر ویتنام نے ٹیکس میں چھوٹ، آسان کاروباری قوانین، اور بہتر انفراسٹرکچر فراہم کر کے عالمی کمپنیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
بنگلہ دیش نے ٹیکسٹائل سیکٹر میں ایسی سہولیات فراہم کیں کہ کئی پاکستانی صنعت کار بھی وہاں منتقل ہو گئے۔اس مقابلے میں پاکستان سراسر پیچھے رہ گیا ہے اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔اس صورتحال میں ہانگ جینگ کا ممکنہ انخلا اگر واقعی ہوتا ہے تو یہ صرف ایک کمپنی کا جانا نہیں ہوگا بلکہ ایک علامت ہوگی اس بات کی کہ مسئلہ اب صرف مغربی سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ہمارے قریبی شراکت دار بھی اسی صورتحال سے نبرد آزما ہونے سے قاصر ہیں۔یہ خاص طور پر اس لئے اہم ہے کیونکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو پاکستان کی ترقی کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ اگر چینی کمپنیاں بھی یہاں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں، تو یہ ایک سنجیدہ اشارہ ہے تباہی کے سفر کا۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں سرمایہ کاری مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے؟ جواب اتنا سادہ نہیں۔کچھ نئی کمپنیاں اب بھی پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں، اور کچھ موجودہ کمپنیاں اپنے کاروبار کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ اب سرمایہ کاری کا ماڈل بدل رہا ہے۔ کمپنیاں براہ راست سرمایہ کاری کے بجائے لوکل پارٹنرز کے ذریعے کام کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں، تاکہ خطرہ کم کیا جا سکے۔یہ ایک طرح سے اعتماد میں فقدان کا واضح اظہار ہے۔حکومت اور ریاست کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔اس صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ کیا ہم صرف بیانات تک محدود ہیں یا واقعی اصلاحات کی طرف بڑھ رہے ہیں؟سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام ٹیکس نظام کی سادگی اور شفافیت بیوروکریسی میں اصلاحا ت توانائی کی لاگت میں کمی سیکیورٹی اور سیاسی استحکام یہ وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف نئے سرمایہ کاروں کو متوجہ کریں گے بلکہ موجودہ سرمایہ کاروں کو بھی برقرار رکھیں گے۔پاکستان اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ہانگ جینگ ہو یا اس سے پہلے جانے والی دیگر کمپنیاں، یہ سب ایک ہی کہانی سنا رہی ہیں ایک ایسی کہانی جس میں مواقع بھی ہیں اور خطرات بھی۔اگر ہم نے اس کہانی کو سمجھ لیا، اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا، اور اصلاحات کی طرف قدم نہ بڑھایا، تو شاید یہ بحران ایک نئے دور کا آغاز بن جائے۔ مگر اگر ہم نے آنکھیں بند رکھیں، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا، اور ہر نئی صبح ایک اور کمپنی کے جانے کی خبر لے کر آئے گی۔آخرکار، سرمایہ کار صرف منافع نہیں دیکھتا وہ اعتماد دیکھتا ہے۔ اور اعتماد وہ شے ہے جو بیانات سے نہیں، عمل سے پیدا ہوتی ہے۔سوال اب بھی وہی ہے،کیا ہم اس اعتماد کو بحال کر پائیں گے؟

یہ بھی پڑھیں