Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

امریکی صدر ٹرمپ کا زوال

امریکی سیاست کی تاریخ میں بعض شخصیات محض حکمران نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد کی علامت بن جاتی ہیں ایسا عہد جس میں طاقت، بیانیہ، اور عوامی نفسیات ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو کر نئی سمتیں متعین کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا شمار بھی انہی متنازع شخصیات میں ہوتا ہے جس نے نہ صرف امریکی داخلی سیاست ہیجان خیززی اور شدت پیدا کی بلکہ عالمی نظام میں بھی غیر یقینی کی ایک لہر دوڑا دی۔ تاہم تاریخ کا اصول بڑا بے رحم ہے وہ صرف طاقت کو نہیں، توازن اور حکمت کو بھی گہری نظر سے پرکھتی ہے۔اگر ہم ماضی کی طرف نظر دوڑائیں تو عالمی طاقتوں کے کئی رہنما خواہ وہ رومی سلطنت کے شہنشاہ ہوں یا بیسویں صدی کے آمر ابتدائی کامیابیوں کے باوجود اپنی شدت پسندی اور غیر متوازن پالیسیز کے باعث تاریخ کے سیاہ اوراق میں ڈال دئیے گئے۔ طاقت کے اظہار اور جنگی جنون کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے، اور جب یہ لکیر عبور ہو جائے تو عوامی حمایت آہستہ آہستہ زوال کا پیش خیمہ بننے لگ جاتی ہے۔ ٹرمپ کا سیاسی سفر بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ ان کی سیاست کا بنیادی ستون قوم پرستی، معاشی تحفظ اور ’’امریکہ پہلے‘‘کا نعرہ تھا، جس نے ابتدا میں امریکی عوام کے ایک بڑے طبقے کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی بیانیہ ایک جارحانہ اور بعض اوقات غیر متوقع خارجہ پالیسی میں ڈھل گیا۔ برطانیہ کو ٹیرف کی دھمکیاں دینا ہو یا سپین جیسے اتحادیوں کے ساتھ تجارتی کشیدگی پیدا کرنا ہو، یہ سب اقدامات اس تاثر کو بھارنے میں مدد دیتے ہیں کہ امریکہ ایک قابلِ پیش گوئی عالمی رہنما کے بجائے ایک ردعمل کے راستے پر چلنے والی قوت بنتا جا رہا ہے۔
سیاسی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب داخلی سطح پر تقسیم بڑھ جائے اور بیرونی محاذوں پر تنائو شدت اختیار کر لے، تو قیادت کی ساکھ کمزور ہونے لگتی ہے۔ ٹرمپ کے دور میں امریکی معاشرہ شدید قطبیت (polarization) کا شکار رہا۔ میڈیا، عدلیہ، اور سیاسی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نے نہ صرف نظام کو دبا تلے رکھنے کی جستجو کی بلکہ عوامی اعتماد کو بے دست و پا کیا۔جہاں تک قاتلانہ حملے جیسے واقعات کا تعلق ہے، تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ایسے سانحات اکثر ایک بڑے سماجی اور سیاسی تنا کی علامت ہوتے ہیں، نہ کہ کسی ایک فرد کی پالیسیز کا براہِ راست نتیجہ۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جب سیاسی بیانیہ شدت اختیار کر لے اور مخالفین کو محض ’’دشمن‘‘کے طور پر پیش کیا جائے، تو معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی ہے، جس کے اثرات خطرناک صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں ’’دبائو کے ذریعے نتائج حاصل کرنے‘‘کی حکمت عملی نمایاں رہی۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ، نیٹو اتحادیوں پر اخراجات بڑھانے کا دبائو ، اور مشرقِ وسطیٰ میں سخت موقف ، یہ سب اقدامات وقتی طور پر سیاسی فائدہ دے سکتے تھے، مگر طوالت کی پالیسی اپنانے میں ان کے اثرات پیچیدہ اور بعض اوقات منفی ثابت ہوئے۔ عالمی نظام میں امریکہ کی روایتی قیادت، جو اتحاد اور سفارت کاری پر مبنی تھی، ایک حد تک متاثر ہوئی۔یہ سوال اب اہم ہے کہ تاریخ ٹرمپ کو کس زاویے سے دیکھے گی؟ کیا وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے امریکی مفادات کا بے باک دفاع کیا، یا ایک ایسے سیاستدان کے طور پر جس کی غیر متوازن پالیسیز نے عالمی استحکام کو نقصان پہنچایا؟حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں ہو۔ مگر ایک بات طے ہے: تاریخ صرف طاقت کے مظاہرے کو نہیں، بلکہ اس کے نتائج کو بھی یاد رکھتی ہے۔ اگر عوام واقعی جنگی بیانیے اور مسلسل کشیدگی سے زچ آ چکے ہیں، تو یہ کسی بھی رہنما کے لیے ایک واضح اشارہ ہوتا ہے کہ بیانیہ بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔بالآخر، قیادت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ طاقت کو حکمت کے ساتھ کس طرح متوازن رکھتی ہے۔ جو رہنما اس توازن کو برقرار نہیں رکھ پاتے، وہ وقتی طور پر مقبول ضرور ہو سکتے ہیں، مگر تاریخ میں ان کی جگہ ہمیشہ متنازع رہتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت روز افزوں ایک ہیجانی طبیعت رکھنے والے ضدی انسان کے طور ہر نئے آنے والے دن نئے روپ میں سامنے آ رہی ہے ۔
عالمی طاقت ہونے کے زعم میں صدر ٹرمپ صدر اس احساس سے مطلق تہی لگتے ہیں کہ وہ یہ بھی جانتے ہوں کہ فقط بڑی طاقت کا سربراہ ہونا ہی کافی نہیں دنیا میں امن و امان کی ذمہ داری کا بوجھ آخر کو انہیں کے کندھوں پر ہے ،مگر موصوف کی طبعی حالت یہ ہے جنگ کا جنون طاری کئے جینے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی آسانی سے سانس لینے میں دشواریاں پیدا کرنے کی راہ پر گامزن کئے ہیں ۔دیگر اقوام تو درکنار ان کی اپنے قوم کے سنجیدہ طبقات بھی ان کی پالیسیز کو خوش آئیندگی نظروں سے نہیں دیکھتے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی اسرائیلی دہشت گردی پوری دنیا کے لئے محل نظر ہے ،مگر ایک ٹرمپ ہیں کہ ان کی آنکھوں پر بربریت کی پٹی بندھی ہے ۔بچوں بوڑھوں اور عورتوں کی میتوں پر رقص درندگی ہوتا دیکھ کر عالم انسانیت خون کے آنسو رو رہا ہے ،مگر ایک صدر ٹرمپ ہے کہ بے حسی کی دبیز چادر اوڑھے بانسری بجا رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں