Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

باطنی درندگی کی دہلیز پر کھڑا انسان !

انسانی تاریخ کا مطالعہ ایک عجیب تضاد ہم پر منکشف کرتا ہے۔ ایک طرف انسان نے پتھر کے زمانے سے اٹھ کر ستاروں پر کمندیں ڈال دیں، سمندروں کی گہرائیوں تک کو عبور کر لیا اور ایٹم کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے کو دریافت کرلیا۔ دوسری طرف یہی انسان اپنے اندر کی تاریکیوں سے ابھی تک مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر سکا۔ یہ تضاد محض فکری یا فلسفیانہ نہیں بلکہ عملی اور روزمرہ زندگی میں پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ آج کا انسان جتنا طاقتور ہے، شاید تاریخ میں کبھی اتنا طاقتور نہ تھا، مگر وہ اتنا ہی بے چین، مضطرب اور اخلاقی بحران کا شکار بھی دکھائی دیتا ہے۔یہ سوال اب محض اہلِ فکر کی محفلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر حساس دل میں ایک اضطراب کی صورت پیدا ہو چکا ہے: کیا یہ ترقی انسان کو نجات دے گی یا تباہی کے دہانے تک لے جائے گی؟ کیا ہم اپنے ہاتھوں اپنی بقاء کی جنگ ہارنے پر تلے ہوئے ہیں ، یا کوئی ایسی پوشیدہ قوت ہے ہے جو اس سارے عمل کو کسی مثبت انجام کی طرف لے جائے گی؟جسے ہم ترقی کا چمکتا چہرہ تصور کرتے ہیں ،کہیں وہ تنزل کا تاریک باطن تو نہیں ؟عصرِ حاضر کو اگر ہم ترقی کا زمانہ کہیں تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو سہولتوں سے مزین دیا ہے۔ ایک کلک پر دنیا سمٹ آتی ہے، بیماریوں کا علاج ممکن ہوا، فاصلے ختم ہو گئے، اور معلومات تک رسائی بے مثال ہو گئی۔ لیکن اسی ترقی کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے یہ ترقی اخلاقی ارتقا ء سے مطلق تہی ہے۔نتیجتاً انسان نے طاقت تو حاصل کر لی، مگر اس طاقت کے استعمال کی اخلاقی رہنمائی کھو بیٹھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار بھی اسی انسان کے ہاتھ میں ہیں، جو امن کے نعرے لگاتا ہے۔ جدید جنگیں پہلے سے زیادہ تباہ کن، منظم اور بے رحم ہو چکی ہیں۔
معیشت ترقی کر رہی ہے، مگر اس کے ثمرات چند ہاتھوں میں مرتکز ہو رہے ہیں۔ یوں ترقی ایک ایسے درخت کی مانند ہو گئی ہے جس کی شاخیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں، مگر جڑیں اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہیں۔یہ کہنا کہ درندگی باہر سے آئی ہے، خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درندگی انسان کے اپنے وجود کا ایک حصہ ہے ایک ایسا حصہ جو اس وقت غالب آ جاتا ہے جب اخلاقی بندھن کمزور پڑ جائیں۔ جب طاقت کو حق سمجھ لیا جائے، جب مفاد کو اصول پر ترجیح دی جائے، اور جب انسان کو محض ایک وسیلہ بنا دیا جائے تو تہذیب کا پردہ چاک ہو جاتا ہے اور درندگی اپنا چہرہ دکھانے لگتی ہے۔آج ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، وہاں درندگی صرف جنگ کے میدانوں میں نہیں بلکہ روزمرہ تعلقات میں بھی جھلکتی ہے۔ منافقت، خود غرضی، استحصال، اور بے حسی ، یہ سب اسی درندگی کی نرم صورتیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب درندے دانت اور پنجے نہیں دکھاتے بلکہ مہذب الفاظ اور شائستہ لباس میں ملبوس ہوتے ہیں۔عصرِ حاضر کا سب سے بڑا بحران یا المیہ معاشی یا سائنسی نہیں بلکہ اخلاقی ہے۔ انسان نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ اس کے نزدیک کامیابی کا معیار دولت، طاقت اور شہرت بن چکا ہے، جبکہ صداقت، دیانت اور ایثار جیسی اقدار پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ یہی اخلاقی خلا دراصل تمام مسائل کی جڑ ہے۔ جب انسان کے پاس سمت نہ ہو تو اس کی رفتار بے معنی ہو جاتی ہے۔ آج ہم تیز رفتاری سے آگے بڑھ تو رہے ہیں، مگر یہ طے نہیں کہ ہم جا کہاں رہے ہیں،یاہم نے جانا کہاں ہے۔ یہ ایک اجتماعی کیفیت بے ، جو ہمیں انتشار اور تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔اپنے ہاتھوں تباہی کا خیال محض قیاس آرائی نہیں رہا بلکہ ایک سائنسی اور عملی حقیقت بن چکا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی،، ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، اور حیاتیاتی خطرات سب ایسے عوامل ہیں جو انسانی بقا کو مبہم کرتے جارہے ہیں ، لیکن اس سے بھی بڑا خطرہ وہ ذہنیت ہے جو ان وسائل کو بے لگام استعمال کرتی ہے۔ اگر انسان اپنی خواہشات اور مفادات کو محدود نہ کرے تو یہ ترقی خود اس کے لئے ایک ہتھیار بن سکتی ہے۔ یوں انسان اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کی تناہی کا شکار ہو رہا ہے۔مذہبی نقطہ نظر سے قیامت ایک حتمی حقیقت ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائے۔ بلکہ تمام مذاہب انسان کو اصلاح، احتساب اور ذمہ داری کا درس دیتے ہیں۔
قیامت کا تصور دراصل ایک تنبیہ ہے یہ یاد دہانی ہے کہ انسان اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ قیامت کب آئے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس سے پہلے اپنے رویوں کو کس حد تک درست کر سکتے ہیں۔ اگر انسان اپنی اصلاح کر لے تو وہ نہ صرف اپنی دنیا کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنی آخرت کو بھی سنوار سکتا ہے۔مگر اس بار امید کی کرن، کو گنوا دینے کے راستے کو ہم نے اپنا جادہ نصیب بنا لیا ہے ۔ اگرچہ حالات بظاہر مایوس کن دکھائی دیتے ہیں، مگر انسانی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر تاریکی کے کے پیچھے ایک روشنی کارفرمآ ہوتی ہے۔ انسان میں صرف درندگی ہی نہیں بلکہ ہمدردی، محبت اور قربانی کا جذبہ بھی موجود ہے۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں۔دنیا بھر میں ایسے افراد اور تحریکیں موجود ہیں جو انصاف، امن اور انسانیت کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہ لوگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ امید ابھی زندہ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ روشنی موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم آنکھیں بند رکھے جی رہے ۔ انسانیت آج ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو خود غرضی، طاقت اور درندگی کی طرف جاتا ہے ،یہ راستہ بظاہر آسان ہے مگر انجام کے اعتبار سے تباہ کن ہے۔ دوسرا راستہ شعور، اخلاق اور ذمہ داری کا ہے ، یہ مشکل ضرور ہے مگر یہی بقاء کی ضمانت ہے۔فیصلہ کسی اور نے نہیں کرنا، یہ فیصلہ خود انسان نے کرنا ہے۔ ہر فرد اپنے دائرے میں اس انتخاب کا ذمہ دار ہے۔ ہماری چھوٹی چھوٹی ترجیحات، ہمارے روزمرہ فیصلے، اور ہمارے معاشرتی روئیے یہی وہ عوامل ہیں جو مجموعی طور پر انسانیت کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔اگر ہم اپنی ترجیحات درست کر لیں، اگر ہم طاقت کے بجائے اخلاق کو بنیاد بنا لیں ، تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے اور اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی، تو یہ ترقی ہی ہماری تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ سوال یہی ہے: کیا ہم اپنے اندر کے انسان کو جگا سکیں گے، یا اپنے اندر کے درندے کے ہاتھوں شکست پر شکست کھا تے چلے جائیں گے؟

یہ بھی پڑھیں