Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

جنگ کی دہلیز پر کھڑا عدم اعتماد اور ایک ناممکن امن کی تلاش

خلیج کی گرم ریت پر تاریخ ہمیشہ طاقت کے قدموں کے نشان ثبت کرتی آئی ہے، مگر اس بار معاملہ کچھ اور ہے۔ یہ صرف توپ و تفنگ کا کھیل نہیں، بلکہ اعتماد کے جنازے پر کھڑی عالمی سیاست کا نوحہ ہے۔ آبنائے ہرمز ایک سمندری گزرگاہ ضرور ہے، مگر حقیقت میں یہ دنیا کی شہ رگ ہیجہاں سے گزرتا تیل صرف معیشت کو نہیں، عالمی طاقتوں کے اعصاب کو بھی رواں رکھتا ہے۔آج ایران اور امریکہ ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ بیانات میں سختی، بحری بیڑوں کی نقل و حرکت، اور جنگ کی دھمکیاں یہ سب کسی حادثاتی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک اور تباہ کن تصادم کی متحمل ہو سکتی ہے یا نہیں؟اصل المیہ یہ ہے کہ مسئلہ صرف مفادات کا نہیں بلکہ نیتوں پر فتور کا ہے۔ جب اعتماد ختم ہو جائے تو ہر سفارتی کوشش ایک مشکوک چال محسوس ہوتی ہے۔ جوہری معاہدہ (JCPOA) اس کی واضح مثال ہے ایک ایسا معاہدہ جو امید کی کرن بن سکتا تھا، مگر عالمی سیاست کی بے اعتدالیوں نے اسے بدگمانی کی بھینٹ چڑھا،دیاہے ،معاہدے کی معطلی نے ایران کو یہ پیغام دیا کہ عالمی وعدے ریت کی دیوار ہیں، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے ایران کی علاقائی سرگرمیاں ناقابلِ قبول رہیں۔یہاں سوال اٹھتا ہے کیا کوئی ثالث اس آگ کو بجھا سکتا ہے؟ بظاہر اقوام متحدہ یا خطے کے مخلص ممالک یا دیگر عالمی قوتیں اس کردار کے لیے موجود ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ثالثی اسی وقت کارگر ثابت ہوتی ہے جب فریقین سننے پر ہی نہیں ماننے ہر بھی مادہ ہوں۔ جب ہر فریق خود کو حق پر اور دوسرے کو اپنے مفادات کے لئے خطرہ تصور کرے تو ثالث محض ایک رسمی کردار بن کر رہ جاتا ہے۔
خطے کی پیچیدگی اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ تنازع تنہا نہیں۔ سعودی عرب، اسرائیل، اور دیگر علاقائی قوتیں بھی اس بساط کا حصہ ہیں۔ ہر ملک اپنے مفاد کے تحفظ میں مصروف ہے، اور یہی مفادات ایک مشترکہ حل کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر کھلاڑی شطرنج کھیل رہا ہے، مگر بساط ایک ہی ہے اور انجام سب کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو حادثاتی جنگ کا امکان ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر کسی غلط فہمی، ایک چھوٹی سی جھڑپ،جغرافیائی وسوسے یا ایک غلط اندازے سے شروع ہوتی ہیں۔ خلیج میں موجود جنگی جہاز، تنگ سمندری راستے، اور اعصاب شکن کشیدگی یہ سب کسی بھی لمحے ایک چنگاری کو شعلہ بنا سکتے ہیں۔تو پھر حل کیا ہے؟یہاں ہمیں حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ کوئی جادوئی فارمولا موجود نہیں، مگر چند راستے ایسے ہیں جو تباہی کے اس سفر کو سست رو بنا سکتے ہیں۔اس کے لئے بڑے معاہدوں کے خواب دیکھنے کے بجائے چھوٹے اور قابلِ عمل اقدامات پر توجہ دی ضروری ہے ۔ مثلا بحری سلامتی کے حوالے سے ایک محدود سمجھوتہ، یا براہِ راست فوجی رابطوں کا نظام تاکہ کسی بھی غلط فہمی کو فوری طور پر دور کیا جا سکے۔ علاقائی سطح پر ایک جامع سکیورٹی فریم ورک کی تشکیل ناگزیر ہے۔ جب تک خطے کے ممالک خود اپنی سلامتی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل نہیں بناتے، بیرونی طاقتیں اس خلا کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتی رہیں گی۔
معاشی دبائو اور پابندیوں کی پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے۔ پابندیاں بظاہر ایک پرامن ہتھیار ہیں، مگر اکثر یہ فریقِ مخالف کو مزید سخت موقف اپنانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اگر ان میں تدریجی نرمی لائی جائے اور اس کے بدلے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں تو ایک نئی راہ نکل سکتی ہے۔مگر ان تمام تجاویز کے باوجود ایک تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل امن ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ طاقتور ممالک اکثر تنازعات کو مکمل حل کرنے کے بجائے انہیں قابلِ برداشت سطح پر لانے کی بات کرتے ہیں تاکہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔ آبنائے ہرمز کا بحران بھی شاید اسی دائرے میں قید رہے۔پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ صورتحال ایک امتحان ہے۔ ایک طرف معاشی انحطاط اور دوسری جانب جغرافیائی اور مبہم سفارتی توازن ، یہ سب ایک نازک حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔ کھلی حمایت کے بجائے متوازن سفارت کاری، اور تنازع کے بجائے امن کی وکالت شاید یہی وہ راستہ ہے جو نقصان کو کم سے کم رکھ سکتا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا انسانیت اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھے گی؟ یا ہم ایک بار پھر تاریخ کو سبق دہراتے دیکھتے رہیں گے؟اگر اعتماد بارے دوہری پالسیز بنائی گئیں نہ تو توپوں کی گھن گرج رک سکے گی اور نہ ہی معیشتوں کے زوال کو روکا جا سکتا ہے۔ اگر عقل غالب آ گئی، تو شاید یہی بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔فیصلہ بندوق کے دہانے پر نہیں، بلکہ اعتماد کے سچے بولوں میں پوشیدہ ہے اور فی الحال یہی وہ شے ہے جو سب سے زیادہ نایاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں