Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بھرا رہے ترا کشکول…!

اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ ’’سعودی عرب نے پاکستان کے کشکول میں ایک ارب اور ڈالے ہیں ‘‘کشکول پھر بھر گیا۔ ایک ارب ڈالر کا تازہ قطرہ اس پیالے میں آن گرا جسے ہم نے برسوں سے قومی تقدیر کا استعارہ بنا رکھا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ رقم کس مد میں آئی ، سوال یہ ہے کہ جائے گی کہاں؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے آنے کے بعد بھی عوام کے چہروں پر وہی فاقہ زدہ ملال ہی دکھائی دیگا، وہی بے یقینی کی کیفیت، وہی اندھی سرنگ کا احساس جس کا کوئی سرا دکھائی نہیں دیتا؟کرپردازان ریاست ، آپ نے اس قوم کو اعداد و شمار کی ایسی چمکتی ہوئی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے کہ ہر نیا قرض کامیابی بن کر پیش ہوتا ہے اور ہر نئی قسط اعتماد کا ثبوت۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتماد نہیں، انحصار ہے ، یہ کامیابی نہیں، محتاجی ہے۔ آپ کے بیانیے میں ہر بحران کے بعد استحکام آتا ہے، مگر عوام کے نصیب میں ہر استحکام کے بعد ایک نیا بحران آتا ہے۔ایک ارب ڈالر یہ کوئی معمولی رقم نہیں۔ مگر اس رقم کا ذکر آتے ہی عوام کے ذہن میں پہلا خیال یہ نہیں آتا کہ روزگار بڑھے گا، تعلیم بہتر ہوگی، صحت کی سہولیات کا کوئی نیا دریچہ وا ہوگا، عام آدمی کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے ، بلکہ یہ خیال آتا ہے کہ پیٹرول مزید مہنگا ہوگا، بجلی کے بل مزید ناقابلِ برداشت ہوں گے، اور ٹیکسوں کا نیا طوفان آئے گا۔ یہ اعتماد کا بحران نہیں تو اور کیا ہے؟آپ نے معیشت کو ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر راستہ قرض کی طرف جاتا ہے۔ آپ نے ترقی کو قرض کے ساتھ مشروط کر دیا، خودمختاری کو قسطوں میں بانٹ دیا، اور عوام کو محض اعداد کا ہندسہ بنا دیا۔ یہ کیسی حکمتِ عملی ہے جس میں قرض بڑھتا ہے مگر پیداوار نہیں، جس میں بجٹ بنتا ہے مگر بھوک نہیں مٹتی، جس میں پالیسیاں بنتی ہیں مگر آدمی اندر باہر سے ٹوٹتا چلا جاتا ہے؟
ریاستی ایوانوں میں بیٹھے معزز حضرات!کیا کبھی آپ نے ان گلیوں کا رخ کیا جہاں آٹا ناپ کر خریدا جاتا ہے؟ کیا آپ نے ان گھروں کی خاموشی پر کبھی کان دھرے ، جہاں چولہا روز نہیں بلکہ قسمت سے جلتا ہے؟ کیا آپ نے ان آنکھوں میں جھانکا جہاں بچوں کے خواب فیس کی پرچیوں کے نیچے دب کر مر جاتے ہیں؟ آپ کی معاشی کامیابیاں ان گھروں تک کیوں نہیں پہنچتیں؟آپ کہتے ہیں کہ عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہوا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عوام کا اعتماد بھی بحال ہوا؟ آپ کے لئیشاید عالمی اداروں کی خوشنودی ہی سب کچھ ہو، مگر ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔ جب عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے تو پھر کوئی بھی معاہدہ، کوئی بھی پیکج، کوئی بھی قرض اس خلا کو نہیں بھر سکتا۔یہ کیسی ریاست ہے جہاں ہر بحران کا حل مزید قرض ہوتا ہے؟ جہاں ہر مسئلے کا جواب ایک نیا معاہدہ ہوتا ہے؟ جہاں ہر ناکامی کو ایک نئی پالیسی کے پردے کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے؟ آپ نے معیشت کو ایک ایسے دائرے میں قید کر دیا ہے جہاں سے نکلنے کی کوئی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی۔اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ساری داستان میں عوام کہیں نظر نہیں آتے۔ وہ صرف قربانی دینے کے لیے موجود ہیں۔ ان کے لیے کوئی ریلیف نہیں، کوئی منصوبہ نہیں، کوئی حقیقی ترجیح نہیں۔ آپ نے ان کے حصے میں صرف صبر، برداشت اور ایثار لکھ دیا ہے، مگر خود اپنے لئے مراعات، سہولیات اور استثنیٰ محفوظ رکھے ہیں۔اگر واقعی ایک ارب ڈالر آئے ہیں، تو کیوں نہ اس کا ایک واضح، شفاف اور قابلِ حساب حصہ براہِ راست عوام کے لیے مختص کیا جائے؟ کیوں نہ صحت، تعلیم اور روزگار کے منصوبوں میں فوری اور نظر آنے والی سرمایہ کاری کی جائے؟ کیوں نہ اس رقم کا کچھ حصہ ان لوگوں تک پہنچایا جائے جو اس ریاست کے اصل وارث ہیں؟مگر شاید مسئلہ نیت کا ہے، ترجیحات کا ہے۔ کیونکہ جب نیت میں عوام نہ ہوں، تو ہر پالیسی خود بخود اشرافیہ کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ جب ترجیحات میں اقتدار کا دوام ہو، تو عوام کا وجود محض ایک عدد بن کر رہ جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف قرضوں سے نہیں بنتیں، نہ ہی معاہدوں سے زندہ رہتی ہیں۔ قومیں انصاف سے بنتی ہیں، اعتماد سے زندہ رہتی ہیں، اور اپنے لوگوں کی فلاح سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر آپ نے اس بنیادی اصول کو نظرانداز کیا تو یہ کشکول جتنا بھی بھر جائے، اس قوم کے زخم نہیں بھریں گے۔آپ کے پاس ابھی بھی وقت ہے۔ اس کشکول کو محض قرض کا استعارہ نہ بننے دیں، اسے عوامی فلاح کا ذریعہ بنائیں۔ اس رقم کو صرف خسارے پورے کرنے میں نہ جھونکیں، اسے امید پیدا کرنے میں لگائیں۔ کیونکہ اگر عوام کے دلوں میں امید نہ رہی تو پھر کوئی بھی معاشی اشاریہ آپ کو بچا نہیں سکے گا۔ورنہ یہ تاریخ کا وہ باب بن جائے گا جہاں لکھا ہوگا کہ ایک قوم تھی جس کے حکمران ہر بار کشکول بھرنے پر خوش ہوتے تھے، مگر انہیں کبھی یہ خیال نہ آیا کہ اس کشکول سے عوام کی آنکھوں میں خوشی کے جگنو بھی چمکتے ہوئے دکھائی دیں۔

یہ بھی پڑھیں