Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

بھارتی آبی جارحیت: خطے کے امن پر حملہ

پانی فقط ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب و معاشرت ، معیشت، زراعت اور کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کی بنیاد بھی ہوتا ہے۔ دریا جہاں تہذیبوں کو جنم دیتے ہیں، وہیں ان کے پانی پر تنازعات ریاستوں کے درمیان کشیدگی، جنگوں اور طویل سفارتی بحرانوں کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں جب موسمیاتی تبدیلیاں، آبادیوں میں اضافہ اور پانی کی قلت دنیا کے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، ایسے میں سرحد پار دریاؤں کا منصفانہ اور ذمہ دارانہ انتظام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ جنوبی ایشیا بھی انہی خطوں میں شامل ہے جہاں پانی کا مسئلہ محض ایک ماحولیاتی یا معاشی معاملہ نہیں بلکہ امن، استحکام اور باہمی اعتماد سے براہِ راست جڑا ہوا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تعلقات کی بنیاد 1960ء کے “سندھ طاس” معاہدہ پر رکھی گئی، جسے عالمی سطح پر کامیاب آبی معاہدوں میں ایک اہم معاہدہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے نے کئی جنگوں اور سیاسی کشیدگیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کیا۔ اس حقیقت سے انحراف نہیں کہ اس معاہدے نے عشروں تک دونوں ملکوں کو ایک بڑے آبی تصادم سے محفوظ رکھا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے اس معاہدے کے مستقبل، اس کی تشریح اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے پیدا ہونے والے تحفظات نے خطے میں نئے خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ بالائی کنارے پر واقع ریاست ہونے کے ناطے بھارت کو ایسے منصوبوں سے گریز کرنا چاہئے جو دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کے حوالے سےمعاہدے کی روح پر اثر انداز ہوں ۔یا زیریں کنارے کے حقوق کو متاثر کریں۔ بھارت کا یہ مؤقف کہ وہ معاہدے کے اندر رہتے ہوئے اپنے جائز آبی حقوق استعمال کر رہا ہے دروغ گوئی پر مشتمل ہے۔ پن بجلی سمیت ترقیاتی منصوبوں کا حق جتانا اپنی جگہ ہے۔ مگر ان سب کے دوران قانونی اور تکنیکی معاملات کا دھیان نہ رکھنا ایک یکسر الگ مسئلہ ہے ۔ جو سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان ایک تنازع کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے۔آبی وسائل کو سیاسی دباؤ یا سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی سوچ نہ صرف باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔ پانی پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں بلکہ مشترکہ قدرتی امانت ہے جس کے استعمال میں ذمہ داری، شفافیت اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری بنیادی امر کے متقاضی ہیں۔ اگر کسی بھی فریق کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس کے بنیادی آبی حقوق خطرے میں ہیں تو اس کے اثرات صرف زرعی پیداوار تک محدود نہیں رہتے بلکہ خوراک، توانائی، روزگار اور سماجی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جہاں لاکھوں ایکڑ اراضی کا انحصار دریاؤں کے پانی پر ہے۔ کپاس، گندم، چاول، گنا اور دیگر فصلیں اسی آبی نظام کی مرہون منت ہیں۔ پانی کی دستیابی میں غیر متوقع تبدیلی یا طویل غیر یقینی کیفیت معیشت، دیہی زندگی اور قومی غذائی تحفظ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں پانی کے معاملے کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔تاہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کو اپنے اندرونی آبی نظم و نسق پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ ماہرین مسلسل نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ پانی کا ضیاع، پرانا نہری نظام، ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت، زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ایسے داخلی مسائل ہیں جنہیں صرف بیرونی عوامل سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پاکستان اپنے آبی وسائل کے بہتر انتظام، جدید آبپاشی، نئے ذخائر اور مؤثر پالیسی سازی پر توجہ دے تو وہ اپنی آبی سلامتی کو زیادہ مضبوط بنا سکتا ہے۔اسی طرح بھارت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر ایسے منصوبے میں شفافیت اختیار کرے جس کے اثرات سرحد پار محسوس ہو سکتے ہوں۔ معلومات کا بروقت تبادلہ، تکنیکی اعتراضات کا غیر جانبدارانہ جائزہ اور معاہدے میں موجود تنازعات کے حل کے طریقۂ کار سے رجوع کرنا دونوں ممالک کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اور باہمی مفاد بھی۔ کسی بھی یکطرفہ اقدام یا سخت بیانات سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں اعتماد کی فضا مزید مکدر اور کمزور ہو جاتی ہے۔عالمی تجربہ یہی بتاتا ہے کہ پانی پر تعاون تنازع سے زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔ یورپ، افریقہ اور شمالی امریکہ میں کئی سرحد پار دریا ایسے ہیں جہاں معتدبہ سیاسی اختلافات کے باوجود مشترکہ کمیشن، ڈیٹا شیئرنگ اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا بھی اسی راستے اپنے لئے چن سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں ممالک پانی کو تنازع کی بجائے تعاون کے ذریعے دیکھنے پر آمادہ ہوں۔آج جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں کے انداز بدل رہے ہیں اور سیلاب و خشک سالی کے خطرات فرو تر ہو رہے ہیں تو پاکستان اور بھارت دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ان مشترکہ چیلنجز کے خلاف مل کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ خطے کے تقریباً دو ارب انسانوں کا مستقبل اس امر سے وابستہ ہے کہ قدرتی وسائل کو سیاسی مناقشوں کا ذریعہ بنانے کی بجائے مشترکہ بقا کا وسیلہ بنایا جائے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف کو بین الاقوامی قانون، سفارتی ذرائع اور تکنیکی دلائل کے ساتھ مؤثر انداز میں پیش کرے، جبکہ داخلی سطح پر پانی کے بہتر استعمال، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے اور جدید زرعی اصلاحات کو قومی ترجیح بنائے۔ اسی طرح بھارت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری اور اعتماد سازی کے اقدامات پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو ۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پانی زندگی کی علامت ہے، جنگ کی نہیں۔ اگر دریا سیاست کی نذر ہو گئے تو نقصان صرف پاکستان یا بھارت کا نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن، ترقی اور آنے والی نسلوں کا ہوگا۔ پائیدار امن اس وقت ممکن ہوتا ہے جب دونوں ممالک اختلافات کو مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کے ذریعے حل کریں۔ پانی کو دباؤ کے آلے کے بجائے مشترکہ ذمہ داری سمجھنا ہی خطے کے روشن اور محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں