کالام کے ایک ریسٹورنٹ کے ٹیرس پر بیٹھا ہوں۔ سامنے دریائے سوات اپنے پورے جلال کے ساتھ چٹانوں سے ٹکراتا ہوا یوں گزر رہا ہے جیسے صدیوں کی کوئی بے قرار داستان اپنے تمام راز پانی کے سپرد کر رہی ہو۔ اس کی گونج صرف شور نہیں، ایک ایسی ازلی موسیقی ہے جس میں برفانی چوٹیوں کی خاموشی، صنوبر کے جنگلوں کی سرگوشیاں اور تاریخ کے بوسیدہ اوراق ایک ساتھ بولنے لگتے ہیں۔ اسی شور میں آج کا اظہاریہ لکھ رہا ہوں۔ یہاں کے پہاڑی لوگ، جن سے قدم قدم پر واسطہ پڑ رہا ہے، محبت کی مٹی سے گندھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں نہ بناوٹ ہے، نہ تکلف۔ وہ بولتے ہیں تو لگتا ہے الفاظ نہیں، پہاڑی چشموں کا ٹھنڈا میٹھا پانی محو گفتگو ہو ۔ دنیا کے مختلف شہروں اور ملکوں کی سیاحت کے باوجود مجھے کہیں ایسی شائستگی، ایسی سادگی اور ایسی بے ساختہ محبت کم ہی دیکھنے کو ملی ہے۔ ہوٹل کے مینیجر سے لے کر بیرے تک، ہر شخص کے لہجے میں احترام کا ایسا رس گھلا ہوا ہے کہ اجنبیت چند لمحوں میں رخصت ہو جاتی ہے۔ کمرے کے دروازے پر دستک بھی یوں دیتے ہیں جیسے ہوا درختوں کے پتوں سے لپٹ کر آہستہ سے دروازہ چھو رہی ہو۔یہ حسن صرف لوگوں کے اخلاق میں نہیں، ان کے ماحول میں بھی بسا ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شمالی پاکستان کا سفر انسان کو صرف جگہوں سے نہیں، اپنے باطن سے بھی ملا دیتا ہے۔
دریائے سوات کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنا اس کا پانی تازہ ہے۔ اس کا سرچشمہ کالام کے نزدیک اوشو اور اترور کی برفانی وادیوں سے پھوٹنے والے چشمے ہیں۔ یہی دھارائیں آگے چل کر ایک عظیم دریا کی صورت اختیار کرتی ہیں جو بحرین، مدین، خوازہ خیلہ، منگورہ اور چکدرہ سے گزرتا ہوا آخرکار دریائے کابل میں جا ملتا ہے۔لیکن دریائے سوات صرف پانی کا نام نہیں۔ یہ تہذیبوں کا امین بھی ہے۔ اس کے کناروں نے وہ زمانے بھی دیکھے ہیں جب اس پوری وادی کو قدیم ہندوستان میں ’’اڈیانہ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہ بدھ مت کا ایک عظیم علمی اور روحانی مرکز تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں سینکڑوں خانقاہیں اور اسٹوپے آباد تھے جہاں دور دراز علاقوں سے طالب علم ، علم کی پیاس بجھانے آیا کرتے تھے۔ انہی پہاڑوں کے دامن میں انسان نے عبادت بھی سیکھی، فن بھی، اور امن کے خواب بھی دیکھے۔پھر تاریخ نے کروٹ لی۔ مختلف سلطنتیں آئیں، لشکر گزرے، فاتحین نے خیمے گاڑے، مگر ایک چیز نہ بدلی، دریائے سوات کا سفر۔ وہ ہمیشہ کی طرح بہتا رہا۔ اس نے کبھی کسی فاتح کا ساتھ نہیں دیا، کبھی کسی شکست خوردہ کا ماتم نہیں کیا۔ وہ صرف بہتا رہا، گویا انسانوں کو یہ سبق دیتا رہا کہ زندگی کا اصل حسن رواں رہنے میں ہے، ٹھہر جانے میں نہیں۔ کالام کی صبحیں شاید دنیا کی خوبصورت ترین صبحوں میں شمار کی جا سکتی ہیں۔ سورج کی پہلی کرن جب برف پوش چوٹیوں پر قدم رکھتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مصور نے سفید کینوس پر شنگرفی رنگ کا پہلا برش پھیر دیا ہو۔ ہوا میں دیودار اور صنوبر کی خوشبو گھلی ہوتی ہے، پرندے اپنی اپنی بولیوں میں صبح کے گیت گا رہے رہے ہوتے ہیں اور دریا اپنی ازلی دھن میں مصروف رہتا ہے۔یہاں فطرت کے ہر منظر میں ایک خاموش وقار ہے۔ نہ کہیں شوریدہ پن، نہ مصنوعی رنگ۔ پہاڑ اپنی بلندی پر مغرور نہیں، دریا اپنی روانی پر متکبر نہیں، درخت اپنی قامت پر نازاں نہیں۔ شاید اسی لیے یہاں آنے والا انسان بھی چند دنوں میں اپنی انا کا بوجھ ہلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔شمالی پاکستان کا حسن صرف کالام تک محدود نہیں۔ سوات، ہنزہ، نگر، گلگت، اسکردو، دیوسائی، فیری میڈوز، شندور اور چترال مالم جبہ اور ہر وادی اپنے اندر ایک الگ دنیا سموئے ہوئے ہے۔ کہیں فیروزی جھیلیں ہیں، کہیں دودھیا آبشاریں، کہیں آسمان سے باتیں کرتے پہاڑ اور کہیں پھولوں سے ڈھکے میدان۔ قدرت نے شاید اپنے سب سے خوبصورت رنگ اسی خطے کے لیے بچا رکھے تھے۔لیکن اس سارے حسن میں جو چیز سب سے زیادہ دل کو چھوتی ہے، وہ یہاں کے لوگ ہیں۔ ان کے چہروں پر محنت کی دھوپ ہے مگر دلوں میں مہمان نوازی کی ٹھنڈی چھاں۔ ان کی معاشی مشکلات اپنی جگہ، مگر ان کے رویوں میں تلخی نہیں ملتی۔ وہ مسافر کو صرف گاہک نہیں سمجھتے، مہمان سمجھتے ہیں اور مہمان ان کی ثقافت میں عزت کی علامت ہے۔ہم بڑے شہروں کے رہنے والے ترقی کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، مگر شاید مسکراہٹیں کھو بیٹھے ہیں۔ ہمارے پاس بلند عمارتیں ہیں مگر دل تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس رفتار ہے مگر سکون نہیں۔ ہمارے پاس سہولتیں ہیں مگر تعلقات میں گرم جوشی نہیں۔
شمال کے یہ پہاڑی لوگ ہمیں خاموشی سے یہ سبق دیتے ہیں کہ اصل تہذیب لباس، زبان یا عمارتوں میں نہیں، بلکہ انسان کے رویوں میں ہوتی ہے۔دریائے سوات کے کنارے بیٹھ کر ایک اور احساس بھی شدت سے ابھرتا ہے۔ فطرت ہمارے پاس امانت ہے، ملکیت نہیں۔ اگر ہم نے ان دریاں کو آلودہ کیا، جنگلات کو کاٹا، پہاڑوں کو بے دردی سے زخمی کیا اور بے ہنگم تعمیرات سے ان وادیوں کا حسن چھین لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ سیاحت صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔ حسن کی حفاظت، حسن سے لطف اندوز ہونے سے کہیں بڑا عمل ہے۔شام ڈھل رہی ہے۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے اتر رہا ہے۔ دریائے سوات کی لہریں اب بھی اسی شدت سے بہہ رہی ہیں، مگر ان کے شور میں اب مجھے ایک عجیب سی شفقت محسوس ہو رہی ہے۔ شاید یہ وہی کیفیت ہے جسے صوفیا ’’سکونِ قلب‘‘کہتے ہیں۔ انسان جب فطرت کے اتنا قریب آ جاتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی اصل دولت بینکوں کے کھاتوں میں نہیں، ایسے لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جو روح کو تازہ کر دیں۔کالام سے واپسی پر شاید میرے سامان میں کوئی قیمتی تحفہ نہ ہو، مگر دل میں ان لوگوں کی مسکراہٹیں، دریائے سوات کی گونج، دیودار کی خوشبو، برفانی چوٹیوں کی سفیدی اور ان نرم لہجوں کی مٹھاس ہمیشہ کے لئے محفوظ رہے گی۔اور مجھے یوں محسوس ہوگا جیسے دریائے سوات میرے اندر بہہ رہا ہے خاموش، مسلسل اور زندگی کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہوا۔ شاید اسی کا نام سفر ہے؛ وہ سفر جو نقشوں پر نہیں، انسان کے اندر طے ہوتا ہے۔یہ سفر جس میں بعد ازاں میرا بیٹا عمر عبداللہ الجوزی اور بہو رمشا بھی شامل ہوگئیں اور ان علاقوں کے ان تاریخی مقامات تک بھی رسائی دی جو ہمارا فقط تاریخی ورثہ ہی نہیں ثقافتی سرمایہ بھی ہیں ۔وہ مجھے کچھ ایسی وادیوں میں لے گئے جہاں کی شاموں کی عجیب کیفیت تھی کہ وہاں سورج ڈوبتا نہیں تھا بلکہ برف پوش چوٹیوں کے عقب میں جاکر مراقبے میں بیٹھ جاتا ہے ۔ دریائے سوات اپنے ازلی ابدی جلال کے ساتھ ٹکراتا ہے تو یوں لگتا ہے اس کی آواز شور نہیں کسی قدیم عبادت گاہ کی اجتماعی مناجات فضا ء میں زمزمے برپا کئے ہوئے ہوں۔