دانشور ،صحافی اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کی تصنیفThe Zardari Presidency صدر آصف علی زرداری کے دورِ صدارت (2008-2013) کے اندرونی احوال، سیاسی فیصلوں، آئینی اصلاحات، ریاستی چیلنجز اور جمہوری ارتقاء کو قریب سے بیان کرتی ہے۔ مصنف اس پورے عرصے میں صدارتی ترجمان اور بعد ازاں قریبی مشیر رہے، اس لئے کتاب محض ایک تاریخی روداد نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی فیصلہ سازی کا عینی مشاہدہ بھی پیش کرتی ہے۔کتاب کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ آصف علی زرداری کا دور پاکستان کی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دہشت گردی، معاشی بدحالی، عدالتی و سیاسی کشمکش، توانائی کے بحران اور عالمی دبائو جیسے سنگین مسائل میں گھرا ہوا تھا۔ دوسری طرف بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ملک میں شدید سیاسی بے یقینی بھی موجود تھی۔ ایسے حالات میں جمہوریت کو برقرار رکھنا خود ایک بڑا چیلنج تھا۔مصنف کے مطابق زرداری نے انتقام کی سیاست کے بجائے مفاہمت کی سیاست کو حرجاں بنایا ’’پاکستان کھپے‘‘کا نعرہ اسی سوچ کی روح قرار دیا گیا، جس کا مقصد سیاسی انتشار کے بجائے قومی یکجہتی پیدا کرنا تھا۔ کتاب کے مطابق انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں سے روابط برقرار رکھے تاکہ نوآموز جمہوری نظام کو غیر ضروری تصادم سے بچایا جا سکے۔کتاب کا سب سے اہم حصہ آئینی اصلاحات پر مشتمل ہے۔ مصنف کے نزدیک اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا سنگِ میل تھی۔ اس ترمیم کے ذریعے صدر کے وہ غیر معمولی اختیارات، جو فوجی ادوار میں آئین میں شامل کئے گئے تھے، پارلیمان کو واپس منتقل کئے گئے۔ یوں وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے کردار کو مستحکم کیا اور وفاقی اکائیوں کو زیادہ اختیارات تفویض کئے گئے۔
فرحت اللہ بابر کے نزدیک یہی وہ فیصلہ تھا جس نے پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کو نسبتاً مضبوط بنیاد فراہم کی۔اسی تناظر میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو بھی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا گیا، جس کے ذریعے صوبوں کو وسائل کی تقسیم میں زیادہ حصہ ملا۔ مصنف اسے وفاق کی مضبوطی اور صوبائی خودمختاری کے لئے اہم قدم قرار دیتے ہیں۔کتاب میں سول ملٹری تعلقات پر بھی کھل کر گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ زرداری حکومت نے ایسے ماحول میں کام کیا جب ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن مستقل بگاڑ کا شکار تھا۔ کئی مواقع پر حکومت کو شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے تصادم کے بجائے آئینی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے بعض حساس سیاسی بحرانوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جنہیں مصنف جمہوری تسلسل کے لئے امتحان قرار دیتے ہیں۔کتاب میں عدلیہ کے ساتھ تعلقات، میمو گیٹ اسکینڈل، گورننس کے مسائل، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور خارجہ پالیسی پر بھی بحث کی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق حکومت کو بیک وقت کئی محاذوں پر مشکلات کا سامنا تھا، تاہم اس کے باوجود پارلیمانی نظام اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہا، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تھی۔دہشت گردی کے حوالے سے کتاب میں واضح کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں پاکستان خود دہشت گرد حملوں کی زد میں تھا۔ خودکش حملے، فوجی آپریشن، مذہبی انتہا پسندی اور داخلی سلامتی کے مسائل حکومت کے لیے مسلسل چیلنج بنے ہوئے تھے۔ مصنف کے مطابق ریاستی اداروں کے درمیان تعاون اور سیاسی قیادت کے فیصلوں نے ان بحرانوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا، اگرچہ نتائج ہمیشہ توقعات کے مطابق موصول نہیں ہوئے تھے۔کتاب میں خارجہ پالیسی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ امریکہ، افغانستان، بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات کے مختلف پہلو زیر بحث لائے گئے ہیں۔ خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سفارتی دبائو کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔معاشی میدان میں مصنف تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت کو مہنگائی، توانائی کی قلت، مالی خسارے اور عالمی معاشی بحران جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ اگرچہ بعض معاشی اقدامات کئے گئے، لیکن عام شہری کی زندگی پر ان کے اثرات محدود رہے اور حکومت کو سخت عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔کتاب میں انسانی حقوق، میڈیا کی آزادی، خواتین کے حقوق اور پارلیمانی عمل کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
مصنف کے مطابق صدر زرداری کا دور میڈیا کی آزادی کا دور رہا ہے اور پارلیمنٹ میں مختلف قانون سازی کے ذریعے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی۔اگرچہ کتاب زرداری حکومت کے نقطہ نظر کو پیش کرتی ہے، لیکن یہی اس کی ایک بڑی حد بھی ہے۔ چونکہ مصنف حکومت کا حصہ رہے، اس لئے بعض ناقدین کے نزدیک کتاب میں حکومت کی کامیابیوں کو زیادہ نمایاں کیا گیا ہے، جبکہ بدعنوانی، گورننس کی کمزوری، توانائی بحران، لوڈشیڈنگ اور انتظامی ناکامیوں پر نسبتاً کم تنقیدی گفتگو ملتی ہے۔ اسی لئے اس کتاب کو پڑھتے وقت اسے ایک اندرونی سرکاری بیانیئے کے طور پر بھی دیکھنا چاہیئے تھا اور دیگر تحقیقی کتب اور غیر جانب دار تجزیوں کے ساتھ ملا کر مرتب و مدون کیا جانا چاہیئے تھا ۔یوں کتاب کا مطالعہ کرنے والے کے لئے وژن زیادہ مفید ہوتا۔مجموعی طور پر The Zardari Presidency پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لئے ایک اہم ماخذ ہے۔ یہ کتاب صرف ایک صدر کی سیاسی آپ بیتی بیان نہیں کرتی بلکہ اس دور کے آئینی، سیاسی اور ریاستی ارتقا کا بھی جائزہ لیتی ہے۔ فرحت اللہ بابر کا بنیادی موقف یہ ہے کہ ’’اگرچہ زرداری حکومت کو بے شمار مشکلات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ جمہوریت کا تسلسل، پارلیمانی نظام کا استحکام، آئینی اصلاحات اور اقتدار کی آئینی منتقلی تھا۔‘‘ کتاب کے قاری کو اس دور کے سیاسی فیصلوں، ادارہ جاتی تعلقات، آئینی تبدیلیوں اور پاکستان کی جمہوری سیاست کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اگرچہ ہر قاری مصنف کے تمام نتائج سے اتفاق نہیں کرے گا، لیکن یہ کتاب پاکستان کی معاصر سیاسی تاریخ کے مطالعے میں ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے بغیر 2008 ء سے 2013ء کے سیاسی دور کا مکمل فہم حاصل کرنا مشکل ہے۔