Search
Close this search box.
اتوار ,26 جولائی ,2026ء

عامر خان کیریئر مشکلات، ابتدائی ناکامیوں پر جذباتی انکشاف سامنے آگیا

ممبئی: عامر خان کیریئر مشکلات ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔ بالی وڈ کے سپر اسٹار نے اپنے فلمی سفر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ شہرت حاصل کرنے کے باوجود انہیں وہ مواقع نہیں ملے جن کی وہ توقع رکھتے تھے، اور کئی مرتبہ کام سے واپس آ کر گھر میں رویا کرتے تھے۔

برطانوی فلم انسٹیٹیوٹ (BFI) لندن فلم فیسٹیول میں گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے بتایا کہ 1988 میں فلم “قیامت سے قیامت تک” نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا، مگر اس کامیابی کے باوجود بڑے ہدایت کاروں اور پروڈیوسرز نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی خواہش تھی کہ وہ ملک کے نامور فلم سازوں کے ساتھ کام کریں، لیکن حیران کن طور پر کسی نے بھی انہیں فلم کی پیشکش نہیں کی۔ اسی دوران انہوں نے مختلف اسکرپٹس پڑھ کر تقریباً آٹھ سے دس فلمیں سائن کر لیں، جن میں زیادہ تر نئے ہدایت کار شامل تھے۔

عامر خان کے مطابق اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایک ساتھ اتنے منصوبوں پر کام کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہوگا۔ چند ماہ بعد ہی انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے جلد بازی میں غلط فیصلہ کیا ہے، لیکن وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے تمام فلمیں مکمل کیں۔

اداکار نے بتایا کہ بدقسمتی سے ان میں سے ایک کے بعد ایک کئی فلمیں باکس آفس پر ناکام ہوتی گئیں، جس کے بعد انہیں فلمی حلقوں میں “ون فلم ونڈر” قرار دیا جانے لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دور ان کی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ تھا اور وہ خود کو ایک ایسی دلدل میں محسوس کرتے تھے جہاں سے نکلنا آسان نہیں تھا۔

عامر خان کیریئر مشکلات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہر نئی ناکام فلم کے ساتھ ان کی مایوسی بڑھتی گئی۔ وہ شوٹنگ سے واپس آ کر اکثر روتے تھے کیونکہ وہ اپنے کام سے مطمئن نہیں تھے اور محسوس کرتے تھے کہ فلمی دنیا میں آنے کا ان کا خواب اس انداز میں پورا نہیں ہو رہا۔

تاہم عامر خان نے اس مشکل دور سے ہمت نہیں ہاری۔ بعد ازاں انہوں نے اسکرپٹ کے انتخاب میں احتیاط برتی، کم مگر معیاری فلموں پر توجہ دی، اور یہی حکمت عملی انہیں بالی وڈ کے کامیاب ترین اداکاروں میں شامل کرنے کا سبب بنی۔

یہ بھی پڑھیں