بدلتی عالمی بساط اور پاکستان کا اسلامی تشخص
عالمی سیاست کی بساط ہمیشہ تغیر و تبدل کا شکار رہی ہے مگر موجودہ دور میں اس کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو چکی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، اتحاد نئی صورتیں اختیار کر رہے ہیں
عالمی سیاست کی بساط ہمیشہ تغیر و تبدل کا شکار رہی ہے مگر موجودہ دور میں اس کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو چکی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، اتحاد نئی صورتیں اختیار کر رہے ہیں
عالمی سیاست کے اس بے رحم دور میں ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف بنیامین نیتن یاہو، ولادیمیرپیوٹن، شی جن پنگ اورڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما ہیں جو اپنے قومی مفادات اوراپنے ایجنڈے کو پوری بےباکی کے ساتھ دنیا
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی، سماجی اور جسمانی زندگی کے ہر پہلو کو فطری اور متوازن انداز میں سنوارتا ہے۔ اسلام محض چند رسوم و عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک جامع نظامِ حیات
پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی صدی پر محیط محکومی، جبر اور بے بسی کے بعد ان کے ایمان، وقار اور آزادی کے خواب کی عملی تعبیر تھی۔ یہ ایک ایسے
مسلم دنیا اس وقت جن داخلی و خارجی بحرانوں سے دوچار ہے وہ کسی صاحبِ شعور سے پوشیدہ نہیں۔ فرقہ واریت کی آگ، سیاسی بے یقینی، باہمی بداعتمادی اور عالمی طاقتوں پر انحصار نے امت کی اجتماعی قوت کو اس
رمضان المبارک اپنی تمام برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ رخصت ہونے کو ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ تھا جس نے دلوں کو نرم کیا، آنکھوں کو اشکبار کیا اور ہمیں اپنے رب کے قریب ہونے کا موقع دیا۔ لیکن اس
رمضان المبارک اپنی تمام برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ رخصت ہونے کو ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ تھا جس نے دلوں کو نرم کیا، آنکھوں کو اشکبار کیا اور ہمیں اپنے رب کے قریب ہونے کا موقع دیا۔ لیکن اس
(گزشتہ سے پیوستہ) اس پوری داستان میں مسلم حکمرانوں کا کردار سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔ خلیجی ریاستوں کے حکمران اپنی عوام پر جبر کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، اختلاف رائے رکھنے والوں کو جیلوں اور قتل گاہوں تک پہنچاتے
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب نیا عالمی نظام وجود میں آیا تو امریکہ نے خود کو قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کا علمبردار بنا کر پیش کیا۔ اس بیانیے کو جامعات کے نصاب، عالمی میڈیا اور
مشرقِ وسطیٰ آج محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا بلکہ بارود، آگ اور دھوئیں سے گھرا ایسا دہکتا ہوا دائرہ بن چکا ہے جس کی تپش غزہ، لبنان اور ایران سے نکل کر پوری مسلم دنیا کے دل و دماغ