مذہبی سیاسی جماعتیں: روایت سے تجدید کا سفر
پاکستان کی سیاست میں مذہبی سیاسی جماعتوں کا وجود ایک مسلسل حقیقت ہے جس نے قیامِ پاکستان سے آج تک سیاست کے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ برصغیر میں جب مسلم قومیت کا شعور بیدار ہوا تو
پاکستان کی سیاست میں مذہبی سیاسی جماعتوں کا وجود ایک مسلسل حقیقت ہے جس نے قیامِ پاکستان سے آج تک سیاست کے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ برصغیر میں جب مسلم قومیت کا شعور بیدار ہوا تو
دنیا کے نقشے پر ایک ایسا ملک موجود ہے جو کبھی افریقہ کا دل کہلاتا تھا “سوڈان”۔ دریائے نیل کی وادیوں میں بسنے والا یہ ملک آج انسانی تاریخ کے بدترین بحران کا شکار ہے۔ اپریل 2023 سے شروع ہونے
پاکستان جیسے جوہری طاقت والے ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور ملک دشمنی کئی دہائیوں سے قوم کے جسمِ نازک کو چھلنی کر رہی ہے۔ ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ ان کا قلع قمع کرے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ستمبر 2025 میں پیش کیا گیا 20 نکاتی امن پلان ابتدا میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کے طور پر دیکھا گیا۔ اسرائیل اور حماس دونوں نے اسے ابتدائی طور پر قبول
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ لندن کی ٹریفلگار اسکوائر سے لے کر پیرس کی ایفیل ٹاور کے سائے میں، برلن کی برانڈن برگ گیٹ سے گزرتے ہوئے نیویارک کی ٹائمز اسکوائر، واشنگٹن کی قومی مال، سڈنی کی اوپیرا
برصغیر کی تاریخ میں جب کشمیر اور پاکستان کا ذکر آتا ہے تو یہ محض جغرافیائی یا سیاسی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت میں ایمان، عقیدت اور محبت کی ایک طویل داستان ہے۔ یہ رشتہ دراصل دلوں کا رشتہ ہے جو
آزاد جموں و کشمیر جغرافیائی طور پر ایک اہم خطہ ہے، جس کی سرسبز وادیاں، بلند پہاڑ اور پانی کے وسائل اسے نہ صرف قدرتی حسن عطا کرتے ہیں بلکہ ہائیڈرو پاور کے منصوبوں کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری
فلسطین کا مسئلہ صدیوں پرانا ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں یہ ایک ایسا عالمی بحران بن چکا ہے جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاست، اقتصادیات اور انسانی حقوق کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب
اسلامی دنیا آج ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک مسلم ممالک بیرونی دباؤ، داخلی انتشار اور معاشی مشکلات کے طوفانوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں
یہ دور حاضر کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے حکمران اپنی سلامتی اور بقا کے لیے انہی طاقتوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے ہیں جو درحقیقت ان کی کمزوری، غلامی اور ذلت کی اصل بنیاد